وزیرِاعظم محمد شہباز شریف نے اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کی صورت میں خطے کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
وزیرِاعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایران اور اسرائیل کی جنگ کی صورتحال تشویشناک ہے، یہ تصادم پورے خطے کے لیے بہت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر جنگ بندی کے لیے اقدامات کرے۔
آج کل خطے میں ایران اور اسرائیل کے حوالے سے جو صورتحال ہے وہ انتہائی تشویشناک ناک ہے پاکستان نےاس بات کی بھرپور مذمت کی ہےکہ اسرائیل نے ایران کے خلاف کھلی جارحیت کی ہے، عالمی ممالک جنگ بندی کے لیے فوری طور اقدامات کریں، یہ نہ صرف خطے کے لئے بلکہ عالمی امن کے لئے بہت خطرناک ہے!… pic.twitter.com/PddjUXcMys
— WE News (@WENewsPk) June 18, 2025
شہباز شریف نے غزہ کی موجودہ صورتحال پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ غزہ میں 50 ہزار سے زائد لوگ شہید ہو چکے ہیں اور اسرائیل نے ظلم کا بازار اب بھی گرم رکھا ہوا ہے۔ عالمی ضمیر کو اب جاگ جانا چاہیے۔
مزید پڑھیں: مودی، اڈانی اور اسرائیل کا خفیہ اتحاد کیسے بے نقاب ہوا؟
انہوں نے کہا کہ برادر اسلامی ملک ایران پر اسرائیلی حملہ ناقابلِ قبول ہے، اور ہم اس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ وزیرِاعظم نے بتایا کہ انہوں نے ایران اور ترکیہ کے صدور سے خطے کی صورتحال پر مشاورت کی ہے۔
دوسری جانب، وزیرِاعظم نے قومی معیشت پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے پاکستان کو ڈیفالٹ سے بچایا اور ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔ معاشی ٹیم کی محنت کے مثبت نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال، غزہ کی انسانی بحران، اور پاک معیشت کے مستقبل پر تفصیلی غور کیا گیا۔














