اسلام آباد کی ضلعی انتظامیہ نے آج صبح قائداعظم یونیورسٹی میں ہاسٹلز خالی کرانے کے لیے کارروائی کی، جو طلبا کو دی گئی حتمی مہلت کے بعد عمل میں لائی گئی۔ اس کارروائی کے دوران پولیس اور سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی کو یقینی بنایا گیا تاکہ کسی ناخوشگوار صورتِحال سے بچا جا سکے۔
یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق، 13 جولائی سے موسمِ گرما کی تعطیلات کے دوران ہاسٹلز کو عارضی طور پر بند کیا گیا تھا تاکہ سالانہ صفائی، مرمت اور تزئین و آرائش کا کام مکمل کیا جا سکے۔ بیشتر طلبا اس فیصلے پر عمل کرتے ہوئے ہاسٹلز خالی کر چکے تھے، تاہم بعض طلبہ مسلسل انکار کرتے رہے، جنہیں متعدد تحریری نوٹس، کالز اور ملاقاتوں کے ذریعے جگہ خالی کرنے کی ہدایات دی جا چکی تھیں۔
یونیورسٹی ذرائع کے مطابق، ہاسٹلز میں کئی ایسے طلبا بھی مقیم تھے جن کی تعلیم مکمل ہو چکی تھی لیکن وہ ہاسٹل خالی کرنے کو تیار نہیں تھے۔ ایک فیکلٹی ممبر نے، نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر، بتایا کہ ان میں سے کئی طلبا نہ صرف ہاسٹل میں غیر قانونی طور پر مقیم تھے بلکہ فیس بھی ادا نہیں کر رہے تھے۔ اس صورتحال کے باعث نئے آنے والے طلبہ کو رہائش میں مشکلات کا سامنا تھا۔
مزید پڑھیں: قائداعظم یونیورسٹی: طلبا کے 2 گروپوں میں تصادم، بوائز ہاسٹل خالی کرنے کی ہدایت
یونیورسٹی انتظامیہ نے مزید انکشاف کیا کہ ہاسٹلز میں بڑی تعداد میں غیر قانونی ایئر کنڈیشنرز نصب کیے گئے تھے، جس کی وجہ سے بجلی کا ماہانہ بل 5 کروڑ روپے سے تجاوز کر گیا تھا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد صرف مالی بوجھ کم کرنا نہیں بلکہ ادارے کی سہولیات کو محفوظ اور پائیدار بنانا بھی ہے۔
اس سے قبل بعض طلبا نے ضلعی انتظامیہ کی کارروائی کو عدالت میں چیلنج کرنے کی کوشش کی تھی، تاہم اسلام آباد ہائیکورٹ نے قائداعظم یونیورسٹی ایکٹ 1973 کے تحت ادارے کی خودمختاری تسلیم کرتے ہوئے یہ درخواست ناقابلِ سماعت قرار دے کر خارج کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ یونیورسٹی کو اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
قائداعظم یونیورسٹی نے اپنے حالیہ بیان میں ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ نظم و ضبط، تعلیمی معیار اور ادارہ جاتی خودمختاری کو برقرار رکھتے ہوئے طلبا کے لیے ایک محفوظ، باوقار اور سازگار تعلیمی ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔














