امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی پیر کے روز شرم الشیخ میں غزہ امن کانفرنس کی مشترکہ صدارت کریں گے، کانفرنس میں 20 سے زائد ممالک کے رہنما شریک ہوں گے۔
کانفرنس کا مقصد غزہ جنگ کے خاتمے، مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے فروغ اور علاقائی سلامتی کے نئے دور کا آغاز کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صدر آصف زرداری سے اردنی سفیر کی ملاقات، اردن میں ہونے والی غزہ کانفرنس میں شرکت کی دعوت
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر، اطالوی وزیراعظم جارجیا میلونی، ہسپانوی وزیراعظم پیڈرو سانچیز، فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون اور جرمن چانسلر فریڈرش میرٹز نے اپنی شرکت کی تصدیق کی ہے۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی شرکت کے بارے میں فی الحال کوئی اطلاع نہیں ملی، جبکہ حماس نے واضح کیا ہے کہ وہ اس کانفرنس میں شریک نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں: غزہ امن معاہدے پر دستخط کی تقریب، وزیراعظم شہباز شریف کل مصر روانہ ہوں گے
حماس کے سیاسی بیورو کے رکن حسام بدران نے بتایا کہ تنظیم نے ماضی میں قطری اور مصری ثالثوں کے ذریعے مذاکرات کیے تھے۔
امن منصوبے کے پہلے مرحلے میں پیر کو یرغمالیوں اور فلسطینی قیدیوں کی رہائی شامل ہے، جسے برطانیہ نے دو سالہ جنگ کے بعد ایک تاریخی موڑ قرار دیا ہے۔
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر غزہ امن معاہدے کے اگلے مرحلے پر عمل درآمد کے لیے عالمی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے، جس میں جنگ بندی کی نگرانی کرنے والا مشن اور غزہ میں عبوری حکومت کے قیام کا عمل شامل ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دو سالہ جنگ کے بعد ملبہ اٹھانے کا عمل شروع، 5 لاکھ سے زیادہ فلسطینی غزہ لوٹ آئے
کانفرنس میں وہ برطانیہ کے پختہ عزم کا اعادہ کریں گے کہ ان کا ملک جنگ بندی اور انسانی امداد کی فراہمی کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرے گا۔
پاکستان کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اس اہم کانفرنس میں شرکت کریں گے، جو کل مصر روانہ ہوں گے۔














