ہانگ کانگ کے علاقے تائی پو میں واقع وانگ فوک کورٹ اپارٹمنٹ کمپلیکس میں لگنے والی خوفناک آگ کو فائر فائٹرز نے 24 گھنٹے کی جدوجہد کے بعد قابو میں کر لیا۔ سانحے میں کم از کم 65 افراد ہلاک جبکہ تقریباً 300 افراد اب بھی لاپتا ہیں جس نے اسے ہانگ کانگ کی 77 سال کی سب سے ہلاکت خیز آتش زدگی بنا دیا ہے۔
شدید گرمی اور دھوئیں کے باعث امدادی کام مشکل
ریسکیو اہلکاروں نے انتہائی بلند درجہ حرارت اور گھنے دھوئیں کے باوجود عمارت کی بالائی منزلوں تک پہنچنے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھیں جہاں بڑی تعداد میں رہائشیوں کے پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ہانگ کانگ میں رہائشی ٹاورز میں خوفناک آتشزدگی، ہلاکتوں کی تعداد 55ہوگئی
کمپلیکس کی 32 منزلہ عمارتوں میں 4,600 سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں۔ متعدد گھروں کے متاثر ہونے کے بعد 900 سے زائد رہائشیوں کو عارضی شیلٹرز منتقل کیا گیا۔
غمزدہ خاندان اپنے پیاروں کی تلاش میں
ایک خاتون اپنی بیٹی کی گریجویشن کی تصویر اٹھائے پناہ گاہ کے باہر دھاڑیں مار کر رو رہی تھیں۔
انہوں نے کہا کہ میری بیٹی اور اس کے والد ابھی تک نہیں ملے اور ہمارے پاس تو پانی تک نہیں تھا کہ آگ بجھا پاتے۔
تعمیراتی کمپنی پر سنگین غفلت کا الزام
پولیس کے مطابق آگ کے پھیلاؤ کی بنیادی وجہ وہ حفاظتی مواد تھا جو عمارت کی مرمت کے دوران استعمال کیا گیا اور جو فائر سیفٹی معیار پر پورا نہیں اترتا تھا۔
حکام نے Prestige Construction and Engineering Company Limited کے دفاتر پر چھاپہ مار کر عملے کی فہرست، کمپیوٹرز، موبائل فونز اور دستاویزات قبضے میں لے لیں۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ ایولین چونگ نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ کمپنی کے ذمہ دار افراد کی سنگین غفلت کے باعث آگ بے قابو ہوئی اور بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔
2 ڈائریکٹرز اور ایک انجینئرنگ کنسلٹنٹ کو غیر ارادی قتل کے شبے میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
چینی صدر کی ہدایت، حکومتی معاونت کا اعلان
چینی صدر شی جن پنگ نے آگ بجھانے اور نقصانات کم سے کم کرنے کے لیے ہمہ جہتی کوششیں کرنے کی ہدایت کی ہے۔
مزید پڑھیے: ایئر انڈیا کی پرواز تکنیکی مسئلے کے شبہ پر بحفاظت ہانگ کانگ ایئرپورٹ لوٹ آئی
ہانگ کانگ کے چیف ایگزیکٹو جان لی نے متاثرین کے لیے 300 ملین ہانگ کانگ ڈالر کے امدادی فنڈ کا اعلان کیا۔
بامبو اسکیفولڈنگ کے استعمال پر سوالات
واقعے کے بعد حکومت نے بامبو اسکیفولڈنگ کی جگہ میٹل اسکیفولڈنگ کے استعمال پر غور شروع کر دیا ہے، کیونکہ متاثرہ عمارتیں گرین میش اور بانس کی مچان سے ڈھکی ہوئی تھیں، جنہوں نے آگ کے پھیلاؤ کو تیز کیا۔
گرین فیل ٹاور سے موازنہ
ویڈیو فوٹیج میں 2 ٹاورز سے شعلے بلند ہوتے دکھائی دیے جس نے سنہ 2017 کے گرین فِل ٹاور سانحے کی یاد تازہ کر دی جس میں 72 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
گرافٹ اسکینڈل اور تعمیراتی کام کا پس منظر
رپورٹس کے مطابق متاثرہ ہاؤسنگ اسٹیٹ میں 330 ملین ہانگ کانگ ڈالر کی لاگت سے ایک سال سے مرمت کا کام جاری تھا۔
National Guard shot near the White House at a little before 2:15.
I was in an Uber to work, with my cameraman, and heard multiple shots fired as we passed Farragut West.
A member of the National Guard fell while others rushed onto the scene.
Area still on lockdown and… pic.twitter.com/A4wKORrEZg
— Mari Otsu (@marisotsu) November 26, 2025
ہر اپارٹمنٹ سے 160,000 سے 180,000 HKD تک کی رقم لی گئی تھی۔
مزید پڑھیں: بدھ مت سے منسوب قیمتی جواہرات کی ہانگ کانگ میں نیلامی منسوخ، 127 سال بعد بھارت واپس پہنچ گئے
ہانگ کانگ کی اینٹی کرپشن باڈی نے بھی کرپشن کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
عوام میں غم و غصہ
279 سے زائد افراد کا سراغ تاحال نہیں مل سکا۔ ایک آن لائن ایپ میں لاپتا افراد کی تفصیلات شائع ہو رہی ہیں جن میں بوڑھے افراد، بچے اور خاندان شامل ہیں۔
چینی کمپنیوں کی مدد
شہریوں اور اداروں کے ساتھ ساتھ Xiaomi، Geely، Xpeng اور جیک ما کے فاؤنڈیشن نے بھی متاثرین کے لیے عطیات کا اعلان کیا ہے۔
تباہی کا وسیع تر اثر
ہانگ کانگ میں پہلے ہی آسمان کو چھوتی جائیداد کی قیمتوں پر عوامی ناراضی موجود ہے اور یہ سانحہ دسمبر میں ہونے والے قانون ساز انتخابات سے قبل نئی سیاسی بے چینی پیدا کر سکتا ہے۔














