حکومت پاکستان نے واضح کیا ہے کہ ملکی میڈیا اداروں کو حکومتی اشتہارات کا اجرا ریاست کی سمت اور قومی مفادات کی عکاسی کرتا ہے۔ صرف ایسے ادارے ہی سرکاری اشتہارات کے مستحق ہیں جو منصفانہ رپورٹنگ کرتے ہوں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ اشتہارات اسٹریٹجک ٹولز ہیں جو قومی ترجیحات کی بنیاد پر مختص کیے جاتے ہیں، اور یہ کسی بھی میڈیا گروپ کو حق کے طور پر نہیں دیے جاتے۔
مزید پڑھیں: پاکستانی نژاد برطانوی صحافی صائمہ محسن نے سی این این پر مقدمہ دائرکر دیا
حکومتی اشتہارات تک رسائی ایک مراعاتی عمل ہے جو سرکاری اسٹریٹجک اہداف اور عوامی مفاد کے مطابق طے کی جاتی ہے۔
’اشتہارات کی تقسیم کا مقصد قومی مقاصد کی خدمت ہے اور یہ ان میڈیا اداروں کو دیے جانے چاہییں جو قابل اعتماد معلومات فراہم کرتے ہوئے قومی بحث میں مثبت کردار ادا کریں۔‘
حکومت کا مؤقف ہے کہ اشتہارات کا مقصد ایسے میڈیا کو انعام دینا ہے جو ذمہ داری سے معلومات پہنچائے، نہ کہ وہ جو منقسم کرنے والے یا گمراہ کن بیانیے پھیلاتے ہوں۔
’میڈیا اداروں کو اشتہارات اس بنیاد پر ملنے چاہییں کہ وہ منصفانہ اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ کرتے ہوئے ریاست کی خدمت کرتے ہوں۔‘
حکومت کا کہنا ہے کہ عوام کے پیسے ان اداروں کو کبھی نہیں دیے جانے چاہئیں جو قومی مفادات کو نقصان پہنچاتے ہوں۔
حکومت نے واضح کیاکہ ٹیکس دہندگان کو اپنے پیسے کے عوض مصدقہ حقائق ملنے چاہییں، اسی لیے اشتہارات ایسے قابل اعتماد میڈیا کو دیے جاتے ہیں جو قومی مفاد میں معلومات فراہم کریں، نہ کہ سنسنی خیزی یا مبہم رپورٹنگ کریں۔
’صحافت کی آزادی ذمہ داری کے ساتھ آتی ہے اور ٹیکس دہندگان کے اشتہارات تعمیری قومی مباحثے کے لیے استعمال ہونے چاہییں، نہ کہ متنازع یا ناقص رپورٹنگ کے لیے۔
مزید پڑھیں: پینٹاگون کی آزادی صحافت پر نئی قدغن، نیویارک ٹائمز نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا
سرکاری ذرائع نے زور دیا کہ اس بات پر غصے کرنے کے بجائے کہ مبینہ اشتہارات کی پابندیاں لگائی گئی ہیں، میڈیا اداروں کو منصفانہ طریقے سے کام کرکے فنڈ شدہ اشتہارات کا مستحق بننا چاہیے۔













