ذاتی مسئلے پر دادرسی کے لیے تھانے جانے والی خاتون ڈاکٹر کو ہراساں کرنے پر اسلام آباد پولیس کے سب انسپکٹر کو نوکری سے برخاست کردیا گیا ہے۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق ڈی آئی جی اسلام آباد نے انکوائری رپورٹ کی روشنی میں مذکورہ سب انسپکٹر کو نوکری سے برخاست کرنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: منظم گینگ بن کر بدعنوانی کرنے کے الزامات میں این سی سی آئی اے افسران کی گرفتاریاں
ترجمان نے بتایا کہ مزید قانونی کارروائی کے لیے ضابطے کے مطابق خاتون ڈاکٹر سے رابطہ کر لیا گیا ہے تاکہ انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے جا سکیں۔
واضح رہے کہ آئی جی اسلام آباد پولیس کو دی گئی درخواست میں متاثرہ لیڈی ڈاکٹر نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ وہ فیملی مسئلے پر تھانہ لوئی بھیر درخواست دینے گئی تھیں، جہاں اس وقت کے ایس ایچ او نے ان سے بدتمیزی کی۔ خاتون کے مطابق وہ خاندانی مسئلے کے باعث کمزور پوزیشن میں تھیں، جس کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی گئی۔
یہ بھی پڑھیے: اسلام آباد پولیس کا گولڑہ میں سرچ اینڈ کومبنگ آپریشن، 47 مشکوک افراد تھانے منتقل
درخواست میں مزید کہا گیا کہ 11 اگست کو ایس ایچ او زبردستی ان کے گھر میں داخل ہوا اور زبردستی کرنے کی کوشش کی۔ بعد ازاں پولیس افسر کی دھمکیوں اور بلیک میلنگ کے باعث انہیں شہر چھوڑنا پڑا، جبکہ مذکورہ افسر اب بھی دھمکیاں دے رہا ہے۔
متاثرہ خاتون کے مطابق انہوں نے ایس ایچ او کے خلاف درخواست دی تھی، جس پر انکوائری میں افسر کو قصوروار قرار دیا گیا، تاہم اس وقت کارروائی نہیں کی گئی۔ خاتون نے انصاف کے لیے مختلف اداروں سے رجوع کیا اور بالآخر اعلیٰ حکام سے کارروائی اور انصاف کی فراہمی کی استدعا کی تھی۔














