ایرانی پارلیمنٹ نے خبردار کیا ہے کہ اگر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای پر حملہ کیا گیا تو جہاد کا فتویٰ جاری کردیں گے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق پارلیمنٹ نے دشمنوں کو واضح وارننگ دیتے ہوئے متفقہ قرارداد پاس کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم لیڈر پر حملہ پورے اسلامی نظام اور ملت پر حملہ شمار ہوگا۔
مزید پڑھیں: آیت اللہ خامنہ ای نے ایران میں احتجاج کے دوران اموات کا ذمہ دار ڈونلڈ ٹرمپ کو قرار دیدیا
دوسری جانب قومی سلامتی کمیٹی نے بھی کہاکہ اگر کسی نے خامنہ ای کو نشانہ بنایا تو ایران بھر میں دفاع کے لیے اقدامات کیے جائیں گے اور یہ سرحد عبور کرنے پر خطے میں وسیع جنگ کے خطرات کو جنم دے سکتا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی خبردار کیا ہے کہ سپریم لیڈر کے خلاف کوئی بھی حملہ ایرانی قوم کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف ہوگا۔
واضح رہے کہ سابق امریکی سفیر اسرائیل ڈین شیپیرو نے پیش گوئی کی ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ ہفتے ایران کے سپریم لیڈر کو قتل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
یہ پیش گوئی ایسے وقت سامنے آئی ہے جب آیت اللہ خامنہ ای نے حالیہ حکومت مخالف مظاہروں میں ہونے والے تشدد کا الزام ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد کیا ہے۔
ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں ایران میں نئی قیادت کی ضرورت پر زور دیا اور 86 سالہ خامنہ ای کو ’بیمار آدمی‘ قرار دیا۔
مزید پڑھیں: ایران کو سنگین بحرانوں کا سامنا: مغربی میڈیا کا آیت اللہ خامنہ ای کے متبادل منصوبے کا انکشاف
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں پُرتشدد احتجاج کے دوران ایرانی مظاہرین کو کہا تھا کہ وہ ملکی اداروں پر قبضہ کرلیں، ان کو مدد پہنچنے والی ہے۔














