امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا کی بڑی دفاعی کمپنیوں نے جدید ہتھیاروں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق انہوں نے امریکا کی سب سے بڑی دفاعی مینوفیکچرنگ کمپنیوں کے سربراہان کے ساتھ ایک اہم اجلاس کیا جس میں اسلحے کی پیداوار اور اس کے شیڈول پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اجلاس میں کمپنیوں نے ‘ایکسکوئزٹ کلاس’ ہتھیاروں کی پیداوار کو چار گنا بڑھانے پر رضامندی ظاہر کی ہے تاکہ کم سے کم وقت میں بڑی مقدار میں اسلحہ تیار کیا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیے: ایران کے خلاف جنگ: امریکا کو پہلے100 گھنٹوں میں کتنے ارب ڈالرز کا نقصان ہوا؟
امریکی صدر نے کہا کہ پیداوار میں توسیع کا عمل دراصل اجلاس سے تین ماہ قبل ہی شروع کر دیا گیا تھا اور متعدد فیکٹریوں میں ان ہتھیاروں کی تیاری پہلے ہی جاری ہے۔
BREAKING: TRUMP:
We just concluded a very good meeting with the largest U.S. Defense Manufacturing Companies where we discussed Production and Production Schedules.
They have agreed to quadruple Production of the “Exquisite Class” Weaponry to reach the highest levels of… pic.twitter.com/umqeckpiAx
— Sulaiman Ahmed (@ShaykhSulaiman) March 6, 2026
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس درمیانے اور بالائی درجے کے گولہ بارود کی ‘تقریباً لامحدود’ مقدار موجود ہے، جسے مثال کے طور پر ایران میں استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ حال ہی میں وینزویلا میں بھی استعمال کیا گیا۔ ان کے مطابق اس کے باوجود ان سطحوں پر مزید آرڈرز بھی بڑھا دیے گئے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے: امریکا اور اسرائیل کی بمباری جاری، تہران میں زندگی سست روی کا شکار، انٹرنیٹ بھی بند
صدر کے مطابق اجلاس میں جن کمپنیوں کے سربراہان شریک ہوئے ان میں بی اے ای سسٹمز، بوئنگ، ہنی ویل ایرو اسپیس، ایل تھری ہیرس میزائل سلوشنز، لاک ہیڈ مارٹن، نارتھروپ گرومین اور ریتھیون شامل تھے۔
انہوں نے بتایا کہ اجلاس کے اختتام پر دو ماہ بعد ایک اور ملاقات طے کی گئی ہے جبکہ امریکا کی مختلف ریاستیں نئی دفاعی فیکٹریاں قائم کرنے کے لیے بولیاں دے رہی ہیں۔














