مذاکرات سے قبل پروپیگنڈا تیز، پاکستان کا واضح پیغام: ملک محفوظ ہے

جمعہ 10 اپریل 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ایران۔امریکا مذاکرات سے قبل پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا مہم تیز ہونے لگی ہے، جسے سیکیورٹی ذرائع اور تجزیہ کار ایک منظم سازش قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض غیر ملکی عناصر جان بوجھ کر پاکستان کو غیر محفوظ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اہم سفارتی عمل کو متاثر کیا جا سکے۔

اسی تناظر میں امریکی سابق وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری اری فلیشر کے حالیہ بیان کو بھی اسی مہم کا حصہ قرار دیا جارہا ہے، جس میں انہوں نے پاکستان کو خطرناک ملک قرار دیتے ہوئے امریکی مذاکراتی وفود کی سیکیورٹی پر سوال اٹھائے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت امیج کو نقصان پہنچانا اور جاری سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔

حکام کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان کے خلاف اس نوعیت کا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہو، بلکہ ماضی میں بھی اہم مواقع پر ایسی مہمات دیکھنے میں آئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے ایسے عناصر کارفرما ہوسکتے ہیں جو خطے میں امن کی کوششوں کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔

پاکستانی حکام نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سیکیورٹی صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہوچکی ہے اور غیر ملکی وفود کو عالمی معیار کے مطابق مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سمیت دیگر بڑے شہروں میں معمولات زندگی پوری طرح بحال ہیں اور کاروباری، سماجی اور سفارتی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں۔

حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں عالمی سطح کے متعدد ایونٹس کی کامیاب میزبانی کرکے اپنی سیکیورٹی صلاحیتوں کو ثابت کیا ہے۔ کھیلوں کے میدان میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) جیسے بڑے ایونٹس میں غیر ملکی کھلاڑیوں اور آفیشلز کی شرکت اس اعتماد کا واضح اظہار ہے۔

مزید برآں، پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور نتالی بیکر کی جانب سے عوامی تقریبات اور پاکستان سپر لیگ کے میچز میں شرکت بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر ملکی سفارتکار یہاں خود کو محفوظ سمجھتے ہیں اور معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس طرح کے بیانات ایک وسیع تر گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات کو متنازع بنانا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر کے مقاصد سیاسی یا تزویراتی ہو سکتے ہیں، تاہم پاکستان اس قسم کی مہمات سے مرعوب ہونے والا نہیں۔

حکام نے واضح کیا کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے جہاں ریاستی ادارے مکمل طور پر فعال ہیں اور کسی بھی غیر ملکی وفد کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا اور کسی بھی منفی پروپیگنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

’ناکام ملک‘ کیوبا نے مدد طلب کی ہے، امریکا اس سے مذاکرات کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ

امریکا ایران مذاکرات میں پاکستان نے تعمیری کردار ادا کیا، چین کی جانب سے حمایت کا اعادہ

اسحاق ڈار اور آسٹریا کی وزیر خارجہ کے درمیان رابطہ، خطے کی بدلتی صورتحال پر تبادلہ خیال

پی ٹی آئی کے روپوش رہنما مراد سعید کا طویل انٹرویو، کس طرح اور کیسے ممکن ہوا؟

قائمہ کمیٹی برائے ہاؤس و لائبریری کا اجلاس، پارلیمنٹ لاجز میں اضافی فیملی سوئٹس پر پیشرفت کا جائزہ

ویڈیو

عبدالستار ایدھی کا مجمسہ دہشتگردی کا شکار‘ مجمسہ ساز کی حکومت سے بحالی کی اپیل

خیبرپختونخوا حکومت بیڈ گورننس کا گڑھ ہے، مانسہرہ کے شہریوں کے شکوے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجاویز مسترد کیے جانے کے بعد مذاکرات کا کتنا امکان ہے؟

کالم / تجزیہ

12 مئی والی ایک لاش بول پڑی

ایک تباہ کن جنگ: جو نہ ہو سکی

آدمی جو موٹر بند کرنا بھول گیا تھا