ایران۔امریکا مذاکرات سے قبل پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈا مہم تیز ہونے لگی ہے، جسے سیکیورٹی ذرائع اور تجزیہ کار ایک منظم سازش قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق بعض غیر ملکی عناصر جان بوجھ کر پاکستان کو غیر محفوظ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ اہم سفارتی عمل کو متاثر کیا جا سکے۔
اسی تناظر میں امریکی سابق وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری اری فلیشر کے حالیہ بیان کو بھی اسی مہم کا حصہ قرار دیا جارہا ہے، جس میں انہوں نے پاکستان کو خطرناک ملک قرار دیتے ہوئے امریکی مذاکراتی وفود کی سیکیورٹی پر سوال اٹھائے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات کا مقصد عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت امیج کو نقصان پہنچانا اور جاری سفارتی کوششوں کو سبوتاژ کرنا ہے۔
حکام کے مطابق یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان کے خلاف اس نوعیت کا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہو، بلکہ ماضی میں بھی اہم مواقع پر ایسی مہمات دیکھنے میں آئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کے پیچھے ایسے عناصر کارفرما ہوسکتے ہیں جو خطے میں امن کی کوششوں کو ناکام بنانا چاہتے ہیں۔

پاکستانی حکام نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سیکیورٹی صورتحال نمایاں طور پر بہتر ہوچکی ہے اور غیر ملکی وفود کو عالمی معیار کے مطابق مکمل تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد سمیت دیگر بڑے شہروں میں معمولات زندگی پوری طرح بحال ہیں اور کاروباری، سماجی اور سفارتی سرگرمیاں بغیر کسی رکاوٹ کے جاری ہیں۔
حکام نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان نے حالیہ برسوں میں عالمی سطح کے متعدد ایونٹس کی کامیاب میزبانی کرکے اپنی سیکیورٹی صلاحیتوں کو ثابت کیا ہے۔ کھیلوں کے میدان میں پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) جیسے بڑے ایونٹس میں غیر ملکی کھلاڑیوں اور آفیشلز کی شرکت اس اعتماد کا واضح اظہار ہے۔
مزید برآں، پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور نتالی بیکر کی جانب سے عوامی تقریبات اور پاکستان سپر لیگ کے میچز میں شرکت بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ غیر ملکی سفارتکار یہاں خود کو محفوظ سمجھتے ہیں اور معمول کی زندگی گزار رہے ہیں۔
US Chargé d'Affaires ( Equivalent of Ambassador) Natalie Baker Enjoying Festivities of Basant in Lahore alongside Qalandar's.pic.twitter.com/wpI9bqVylf
— Pakistan Cricket Team USA FC (@DoctorofCricket) February 8, 2026
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق اس طرح کے بیانات ایک وسیع تر گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانا اور اسلام آباد میں ہونے والے ممکنہ مذاکرات کو متنازع بنانا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر کے مقاصد سیاسی یا تزویراتی ہو سکتے ہیں، تاہم پاکستان اس قسم کی مہمات سے مرعوب ہونے والا نہیں۔
حکام نے واضح کیا کہ پاکستان ایک محفوظ ملک ہے جہاں ریاستی ادارے مکمل طور پر فعال ہیں اور کسی بھی غیر ملکی وفد کی سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا اور کسی بھی منفی پروپیگنڈے کو کامیاب نہیں ہونے دے گا۔














