گلگت بلتستان کے ضلع اسکردو میں ایک ہفتے سے لاپتا جاپانی ٹریکر کی لاش ریسکیو ٹیموں نے دشوار گزار پہاڑی علاقے سے برآمد کر لی۔
عرب نیوز کے مطابق 64 سالہ جاپانی سیاح یوسوکے اکیبا بغیر مقامی گائیڈ کے مشہور سیاحتی مقام ’مسرور راک‘ کی جانب گئے تھے، جہاں سے وہ لاپتا ہو گئے تھے۔ مسلسل سات روز تک جاری رہنے والے سرچ آپریشن کے بعد ان کی لاش حسین آباد کے قریب ایک گہری کھائی سے نکالی گئی۔
انتہائی افسوس ناک خبر۔۔😭
سکردو گلگت بلتستان کے مسرور راک میں لاپتا جاپانی سیاح کی لاش برآمد 😔
دشوار گزار پہاڑی علاقے سے ملنے والی لاش کے بعد ریسکیو ٹیمیں اور مقامی انتظامیہ تحقیقات میں مصروف ہیں۔
پہاڑوں کی سیاحت کے دوران احتیاط انتہائی ضروری ہے۔
💔 مقامی افراد اور سیاحتی حلقے… pic.twitter.com/NbUWDjI07b— Gilgit Baltistan Tourism. (@GBTourism_) May 23, 2026
ریسکیو 1122 اسکردو کے ترجمان غلام رسول نے بتایا کہ امدادی ٹیموں نے انتہائی مشکل پہاڑی راستوں میں پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ آپریشن جاری رکھا، جبکہ لاش کو رسیوں اور خصوصی آلات کی مدد سے نکالا گیا۔
یہ بھی پڑھیں:کے ٹو بیس کیمپ کا تاریخی ٹینٹ میوزیم کا حصہ بن گیا
سرچ آپریشن میں سدپارہ ماؤنٹینئرنگ کلب کے رضاکار کوہ پیما بھی شریک رہے۔ کلب کے چیئرمین غلام محمد سدپارہ کے مطابق چار تجربہ کار کوہ پیماؤں نے ریسکیو 1122 کے ساتھ مل کر کارروائی میں حصہ لیا۔
سات روز قبل ماسور راک سکردو کے مقام پر حادثے کا شکار ہونے والے جاپانی سیاح کی لاش کو آج ایک گہری کھائی (Crevasse) سے نکال لیا گیا۔
یقیناً سدپارہ کے ہمارے کوہ پیماؤں کی خدمات ہمیشہ قابلِ دید رہی ہیں، جنہوں نے اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر انسانیت کے لیے خدمات انجام دی ہیں۔ https://t.co/SYb5DqZ8zn pic.twitter.com/5IEpAndWHS
— Gilgit Baltistan Tourism. (@GBTourism_) May 23, 2026
گلگت بلتستان دنیا کی بلند ترین چوٹیوں اور ہزاروں گلیشیئرز کا خطہ ہے، جہاں ہر سال بڑی تعداد میں غیر ملکی کوہ پیما اور سیاح آتے ہیں۔ گزشتہ ماہ بھی ایک ملائیشین خاتون سیاح اسکردو میں مبینہ طور پر فالج کے باعث انتقال کر گئی تھیں۔














