پیٹرول مہنگا: بھارتیوں نے آرام دہ سفر کا سستا متبادل ڈھونڈ لیا

اتوار 31 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافے نے بھارت میں کار پولنگ کے رجحان کو نئی تقویت دے دی ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے کار پولنگ پلیٹ فارم بلیبلاکار  کے مطابق ایندھن کے بڑھتے اخراجات سے بچنے کے لیے لاکھوں نئے ڈرائیور اور مسافر اس سروس کا رخ کر رہے ہیں، جس سے بھارت میں اس شعبے کی ترقی غیرمعمولی رفتار اختیار کر گئی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور اس کے نتیجے میں تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے بھارت میں کار پولنگ کے رجحان کو نمایاں طور پر فروغ دیا ہے، جہاں مسافر اور ڈرائیور دونوں سفری اخراجات کم کرنے کے لیے مشترکہ سفر کو ترجیح دینے لگے ہیں۔

دنیا کے سب سے بڑے کار پولنگ پلیٹ فارم بلیبلاکار  کے مطابق توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث رواں سال 6 لاکھ اضافی ڈرائیور اس پلیٹ فارم سے منسلک ہوئے ہیں، جو کمپنی کے ابتدائی اندازوں سے 20 فیصد زیادہ ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ایندھن کے بڑھتے اخراجات نے لوگوں کو متبادل اور کم لاگت سفری ذرائع تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے کیا روس سے سستا خام تیل خرید کر پاکستان میں پیٹرول کی قیمت کم کی جا سکتی ہے؟

بھارت، جو 2025 میں 2 کروڑ سے زائد صارفین کے ساتھ بلیبلاکار کی سب سے بڑی منڈی بن چکا ہے، وہاں 28 فروری کو ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی فضائی کارروائیوں کے بعد مسافروں کی تعداد میں 40 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

بلیبلاکار کے پروڈکٹ ڈائریکٹر بینجمن ریتورن کے مطابق گزشتہ سال بھارت میں پلیٹ فارم نے ریکارڈ کامیابی حاصل کی۔ صارفین کی تعداد کے لحاظ سے بھارت نے برازیل (ایک کروڑ 90 لاکھ صارفین) اور فرانس (70 لاکھ صارفین) کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

ماہرین کے مطابق یہ رجحان ان ممالک میں زیادہ تیزی سے بڑھا ہے جہاں جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اچانک اور نمایاں اضافہ ہوا اور حکومتی امداد یا سبسڈی محدود رہی، جیسا کہ فرانس میں دیکھا گیا۔

بلیبلاکار کا نظام ڈرائیوروں اور مسافروں کو ایک دوسرے سے جوڑتا ہے تاکہ وہ ایک شہر سے دوسرے شہر کے سفر میں اخراجات مشترکہ طور پر برداشت کر سکیں۔ کمپنی 21 ممالک میں کام کر رہی ہے اور بیشتر ممالک میں ہر سفر پر تقریباً 20 فیصد کمیشن وصول کرتی ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی رواں ماہ ملک کے 1.4 ارب شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ ایندھن کی بچت کے لیے کار پولنگ اور عوامی ٹرانسپورٹ کا زیادہ استعمال کریں۔

بھارت اپنی خام تیل کی ضروریات کا تقریباً نصف حصہ آبنائے ہرمز کے ذریعے درآمد کرتا ہے۔ ایران نے فروری میں امریکا اور اسرائیل کی کارروائیوں کے ردعمل میں اس اہم بحری راستے کو مؤثر طور پر بند کر دیا تھا، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ گیا۔

بینجمن ریتورن نے بتایا کہ جب بلیبلاکار نے ایک دہائی قبل بھارت میں اپنی خدمات شروع کیں تو ابتدائی چند برسوں میں خاطر خواہ پذیرائی نہیں ملی۔ اسی وجہ سے کمپنی نے بھارت میں مزید سرمایہ کاری روک دی تھی، اگرچہ پیرس سے اپنے پلیٹ فارم کی سرگرمیاں جاری رکھی تھیں۔

ان کے مطابق کووڈ-19 وبا کے بعد بھارت میں معاشی سرگرمیوں، ڈیجیٹل ترقی اور شہری آبادی میں تیز اضافے نے اس شعبے کی نمو میں اہم کردار ادا کیا۔ گزشتہ دس برسوں کے دوران تقریباً 20 کروڑ افراد دیہی علاقوں سے شہروں کا رخ کر چکے ہیں، جبکہ نجی گاڑیوں کی ملکیت میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

ریتورن کا کہنا ہے کہ بھارت میں تیز رفتار انٹرنیٹ اور 5G نیٹ ورک کی دستیابی نے بھی کار پولنگ کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے بقول یہی وہ عوامل تھے جنہوں نے اس ماڈل کو کامیاب بنایا۔

یہ بھی پڑھیے پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل

دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنی کے مطابق کار پولنگ اختیار کرنے کی سب سے بڑی وجہ کم قیمت نہیں بلکہ آرام دہ سفر ہے۔ بہت سے مسافر ہجوم سے بھرے بسوں اور ٹرینوں کے مقابلے میں کار پولنگ کو زیادہ سہولت بخش سمجھتے ہیں۔

ممبئی سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ اسسٹنٹ بینک منیجر پرتیوش انوراج ہر ہفتے تقریباً 150 کلومیٹر دور پونے میں واقع اپنے گھر جانے کے لیے کار پولنگ کا استعمال کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹرین، بس اور نجی ٹیکسی کے مقابلے میں زیادہ سستا اور وقت کی بچت کا ذریعہ ہے کیونکہ سفر کے دوران غیرضروری اسٹاپ کم ہوتے ہیں اور گاڑی مقررہ وقت سے زیادہ انتظار نہیں کرتی۔

تاہم انہوں نے بعض مسائل کی بھی نشاندہی کی، جن میں آخری وقت میں سفر کی منسوخی یا ڈرائیوروں کا رابطہ نہ کرنا شامل ہے۔

فی الحال بلیبلاکار بھارت میں کار پولنگ سے براہِ راست آمدنی حاصل نہیں کرتا۔ یہاں مسافر اور ڈرائیور ایک دوسرے کو براہِ راست ادائیگی کرتے ہیں، جس کے لیے زیادہ تر مقبول ڈیجیٹل ادائیگی نظام یو پی آئی (UPI) استعمال کیا جاتا ہے۔

کمپنی اب اپنے کاروباری ماڈل کو مزید وسعت دینے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ اس کا اگلا ہدف ایک ایسا جامع سفری پلیٹ فارم بنانا ہے جو کاروں، بسوں اور ٹرینوں سمیت مختلف ذرائع آمد و رفت کو ایک ہی نظام کے تحت جوڑ سکے، تاکہ مسافروں کو زیادہ مربوط اور آسان سفری سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلاول بھٹو کا آزاد کشمیر کی صورتحال پر اظہار تشویش، معاملے کے پرامن حل کے لیے شہباز شریف سے ملاقات کا فیصلہ

امریکی جاسوسی قانون میں توسیع کی ڈیڈ لائن قریب، انٹیلیجنس ڈیٹا جمع کرنے میں بڑے تعطل کا انتباہ جاری

آزاد کشمیر، کالعدم ایکشن کمیٹی کے گرد گھیرا تنگ، مرکزی دفتر سیل کردیا گیا

کالعدم ایکشن کمیٹی کی حقیقت کھلنے لگی، بھارت کے ساتھ تعلق ثابت، عام آدمی کو استعمال کیا جانے لگا

یوکرین کا چرنوبل کے قریب جوہری ایندھن کے اسٹوریج پر روسی ڈرون حملے کا دعویٰ

ویڈیو

گلگت بلتستان الیکشن: شہری دشوار گزار راستوں کے باوجود ووٹ کاسٹ کرنے نکل پڑے

لائیوگلگت بلتستان کے عام انتخابات میں پولنگ کا عمل مکمل، ووٹوں کی گنتی جاری

پھلوں کے بادشاہ کی آمد، خوشبو سے بازار مہک اٹھے

کالم / تجزیہ

فیض اور ایلس کا کتابوں سے اٹوٹ رشتہ

ریاست کے ساتھ کھڑے ہونا جرم نہیں

ٹرمپ نیتن یاہو تلخی اور مشرق وسطیٰ کا بدلتا نقشہ