بلوچستان کا کوئی بچہ اب ٹاٹ پر بیٹھ کر نہیں پڑھے گا، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی کے انقلابی اعلانات

منگل 9 جون 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے صوبے کے تعلیمی شعبے میں انقلابی اصلاحات کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اب بلوچستان کا کوئی بچہ ٹاٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل نہیں کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا دورہ سوئی، رنگ روڈ اور گیس منصوبوں کا افتتاح

ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کے تمام فعال سرکاری اسکولوں کو ڈیسک فراہم کیے جائیں گے، 900 اسکولوں میں ڈبل شفٹ تدریس کا آغاز ہوگا، پرائمری سطح پر یونیفارم کی شرط ختم کی جائے گی اور بچوں و بچیوں کے لیے مشترکہ بنیادی تعلیم کی راہ ہموار کی جائے گی۔

اجلاس میں تعلیم، صحت اور امن و امان کے شعبوں میں اصلاحاتی ایجنڈے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ شرح خواندگی میں اضافے اور اسکول سے باہر بچوں کو تعلیمی نظام میں واپس لانے کے لیے صوبے بھر کے 900 اسکولوں میں ڈبل شفٹ نظام نافذ کیا جائے گا جبکہ 3 ہزار سنگل روم اسکولوں میں اضافی کلاس رومز تعمیر کیے جائیں گے تاکہ تدریسی سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔

اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ دنیا بہت آگے بڑھ چکی ہے لیکن بلوچستان کے بعض علاقوں میں بچے آج بھی ٹاٹ پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔

انہوں نے ہدایت کی کہ تمام سرکاری اسکولوں کو فوری طور پر ڈیسک فراہم کیے جائیں اور مقررہ مدت کے بعد اگر کسی اسکول میں کوئی بچہ ٹاٹ پر بیٹھا نظر آیا تو متعلقہ حکام کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ خود ہیلی کاپٹر کے ذریعے دور دراز اور دشوار گزار علاقوں کے اسکولوں کا اچانک معائنہ کریں گے تاکہ حکومتی فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے اور زمینی حقائق کا براہِ راست جائزہ لیا جا سکے۔

مزید پڑھیے: گرین پاکستان انیشیٹو فیز2، بلوچستان کے کسانوں کو 3.2 ارب روپے کے قرضے دیے گئے، سرفراز بگٹی

اجلاس میں پرائمری اسکولوں کو ’جینڈر فری‘ قرار دینے کی تجویز بھی زیر غور آئی جس کے تحت بچے اور بچیاں ایک ہی اسکول میں ابتدائی تعلیم حاصل کر سکیں گے۔ اس سلسلے میں مجوزہ پالیسی آئندہ کابینہ اجلاس میں منظوری کے لیے پیش کی جائے گی۔

اجلاس میں این سی ایچ ڈی اساتذہ کی کئی برسوں سے منجمد تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافے، یکساں ریڈنگ اینڈ رائٹنگ میٹریل کے نفاذ، اور تعلیمی معیار بہتر بنانے کے دیگر اقدامات پر بھی اتفاق کیا گیا۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں پہلی بار حکومت نے صرف نئی عمارتوں کی تعمیر کے بجائے بچے، کلاس روم اور تعلیمی ماحول کو اصلاحات کا مرکز بنایا ہے۔ ’ٹاٹ کلچر‘ کا خاتمہ محض فرنیچر کی فراہمی کا منصوبہ نہیں بلکہ سرکاری اسکولوں میں بچوں کی عزتِ نفس، اعتماد اور بہتر تعلیمی ماحول کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: پنجاب حکومت کا بلوچستان کے طلبہ کے لیے 460 اسکالرشپس کا اعلان، اسکالر شپ کا طریقہ کار کیسے ہوگا؟

اگر حکومت اپنے اعلانات پر مؤثر اور مستقل عملدرآمد یقینی بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو یہ اقدامات بلوچستان کی کم شرح خواندگی، تعلیمی پسماندگی اور اسکول سے باہر بچوں کے مسئلے کے حل کی جانب ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز کے خلاف یورپ میں احتجاج، انسانی حقوق تنظیموں اور افغان شہریوں کی شدید مخالفت

پی ٹی آئی حکومت اختلافات کا شکار، کارکردگی صفر، پشاور کے شہریوں کی رائے

منی پور میں کشیدگی برقرار، سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں متعدد افراد زخمی

مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت کا کریک ڈاؤن، تقریباً 5 ہزار بنگلہ دیشی شہری بے دخل

بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی دھوم، نوجوانوں نے مودی کے ہندو مسلم بیانیے کو چیلنج کردیا

ویڈیو

پی ٹی آئی حکومت اختلافات کا شکار، کارکردگی صفر، پشاور کے شہریوں کی رائے

خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی حکومت کو مشکلات، کیا ناراض اراکین بجٹ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں؟

گلگت بلتستان کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب، مسلم لیگ ن کو شکست کی وجہ کیا بنی؟

کالم / تجزیہ

میں انس عبیداللہ عابد کے جنازے میں کیوں نہیں گیا؟

کشمیر ایکشن کمیٹی کیا چاہتی ہے؟

فیض اور ایلس کا کتابوں سے اٹوٹ رشتہ