امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ (یو ایس ایڈ) بند کیے جانے کے ایک سال بعد کیے گئے ایک نئے سروے میں انکشاف ہوا ہے کہ امریکیوں کی اکثریت اب بھی بیرونی ترقیاتی امداد کی حمایت کرتی ہے۔
راک فیلر فاؤنڈیشن کی جانب سے کرائے گئے اور منگل کو جاری ہونے والے سروے میں 2 ہزار 22 ووٹرز کی رائے لی گئی، نتائج کے مطابق قدرتی آفات سے نمٹنے، وباؤں کی روک تھام اور عالمی سلامتی کے لیے بیرونی امداد کی حمایت کرنے والوں کی تعداد نمایاں رہی۔
یہ بھی پڑھیں: یو ایس ایڈ کے غیر ملکی پراجیکٹس کیوں بند ہوئے اور ان کا پاکستان پر کیا اثر پڑے گا؟
سروے میں بتایا گیا کہ ابتدائی طور پر ریپبلکن ووٹرز اور ٹرمپ کے میک امریکہ گریٹ اگین (میگا) حامی بیرونی امداد کے بارے میں زیادہ شکوک رکھتے تھے، تاہم جب انہیں بتایا گیا کہ 2025 سے پہلے بیرونی امداد امریکی سالانہ بجٹ کا صرف ایک فیصد تھی اور اس کے فوائد سے آگاہ کیا گیا تو مجموعی حمایت 54 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد ہو گئی۔
اسی طرح ریپبلکن ووٹرز میں بیرونی امداد کی حمایت 58 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ میگا حامیوں میں بھی 50 فیصد نے امدادی پروگراموں کی حمایت کی۔
سروے کے مطابق بیشتر امریکی بیرونی امداد پر ہونے والے اخراجات کا اندازہ حقیقت سے کہیں زیادہ لگاتے ہیں۔ ایک تہائی سے زائد افراد کا خیال تھا کہ اس مقصد پر امریکی بجٹ کا 20 فیصد خرچ ہوتا ہے، حالانکہ حقیقی شرح صرف ایک فیصد تھی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یو ایس ایڈ کو کیوں بند کرنا چاہتے ہیں؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری 2025 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد امریکہ فرسٹ پالیسی کے تحت یو ایس ایڈ کو بند کرنے کا حکم دیا تھا، اس فیصلے کے نتیجے میں 10 ہزار سے زائد ملازمین اور کنٹریکٹرز کو فارغ کر دیا گیا جبکہ ہزاروں امدادی منصوبے بھی ختم کردیے گئے۔
امریکی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں امریکی بیرونی امداد 72 ارب ڈالر سے کم ہو کر 47 ارب ڈالر رہ گئی۔
طبی جریدے دی لینسیٹ میں گزشتہ سال شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق امداد میں ان کٹوتیوں کے باعث 2030 تک دنیا بھر میں ایک کروڑ 40 لاکھ سے زائد اضافی اموات ہوسکتی ہیں۔
12 سے 16 جون کے دوران کیے گئے سروے میں 78 فیصد شرکا نے بیرونی امداد کو برقرار رکھنے یا اس میں اضافے کی حمایت کی۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یو ایس ایڈ کو کیوں بند کرنا چاہتے ہیں؟
سروے کے مطابق جب ووٹرز سے مخصوص پروگراموں، جیسے بیماریوں کی روک تھام، امن قائم رکھنے اور انسانی امداد کے بارے میں سوال کیا گیا تو 80 فیصد نے ان پروگراموں کو ختم کرنے کے بجائے اصلاحات اور بہتر نگرانی کے ساتھ جاری رکھنے کی حمایت کی۔
جمہوریہ کانگو میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ سے نمٹنے کے لیے امریکی امداد بحال کرنے کے سوال پر بھی 62 فیصد ریپبلکن ووٹرز نے حمایت کی، جبکہ میگا حامیوں میں 52 فیصد اس کے حق میں تھے۔
سروے میں صرف 12 فیصد افراد نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اثرات سے قطع نظر تمام بیرونی امداد مکمل طور پر ختم کردی جانی چاہیے۔














