امریکی ایوانِ نمائندگان نے اسرائیل کے لیے فوجی امداد بند کرنے کی ایک اہم ترمیم کو بھاری اکثریت سے مسترد کر دیا ہے۔ تاہم، اس ترمیم پر ہونے والی ووٹنگ نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل نواز اور ترقی پسند دھڑوں کے مابین گہری خلیج اور غزہ جنگ پر بڑھتے ہوئے اختلافات کو واضح طور پر نمایاں کر دیا ہے۔
تحریک کے حق اور مخالفت میں ووٹنگ کے اعداد و شمار
امریکی ایوانِ نمائندگان میں وزارتِ خارجہ کے بجٹ بل میں ترمیم پیش کی گئی، جس پر بدھ کے روز ووٹنگ ہوئی۔
ایوان نے اس ترمیم کو 104 کے مقابلے میں 314 ووٹوں سے مسترد کر دیا۔
یہ ترمیم ریاست کینٹکی سے تعلق رکھنے والے ریپبلکن رکنِ کانگریس تھامس میسی کی جانب سے پیش کی گئی تھی۔
اگرچہ یہ ترمیم ناکام ہو گئی، لیکن حیران کن طور پر 103 ڈیموکریٹس اور ایک ریپبلکن رکن نے اس کی حمایت میں ووٹ دیا، جو کہ ماضی کی نسبت ایک بہت بڑی تبدیلی ہے جہاں اسرائیل کی حمایت میں بلز تقریباً اتفاقِ رائے سے منظور ہوا کرتے تھے۔
ڈیموکریٹک قیادت کی اندرونی تقسیم
اس ووٹنگ نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان بھی واضح تقسیم کو بے نقاب کر دیا ہے:
نیویارک سے تعلق رکھنے والے ہاؤس ڈیموکریٹک لیڈر حکیم جیفریز نے اس ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے اسے “بہت مبہم اور وسیع” قرار دیا۔
اس کے برعکس، ایوانِ نمائندگان میں دوسرے نمبر کی سب سے بڑی ڈیموکریٹ رہنما، ریاست میساچوسٹس کی نمائندہ کیتھرین کلارک نے اس ترمیم کی حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا ’ہمیں کسی بھی ایسے ملک کو فوجی امداد کے لیے ‘بلینک چیک’ (بلا مشروط فنڈز) فراہم نہیں کرنا چاہیے جو امریکی قوانین، مفادات اور اقدار کی پاسداری نہ کرتا ہو۔‘
یہ اندرونی کھینچ تان ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں نیویارک کے ڈیموکریٹک پرائمری الیکشن میں ایک بااثر ڈیموکریٹک رہنما ایڈریاانو ایسپائلیٹ کو ‘ڈیموکریٹک سوشلسٹس آف امریکا’ کی رکن ڈاریالیزا اویلا شوالیئر کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا، جنہیں نیویارک کے میئر کے امیدوار ظہران ممدانی (جو خود ایک ڈیموکریٹک سوشلسٹ ہیں) کی حمایت حاصل تھی۔ اب 4 اگست کو مشی گن میں ہونے والے پرائمری انتخابات میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ڈیموکریٹس کے اس موقف کا ایک بار پھر بڑا امتحان ہوگا۔
ترمیم کا مقصد اور پیش کرنے والے کا موقف
تھامس میسی بنیادی طور پر بجٹ کے معاملات میں قدامت پسند سوچ رکھتے ہیں اور بیرونی ممالک کو دی جانے والی ہر قسم کی امداد کے سخت مخالف ہیں۔ تاہم، انہوں نے ایوان میں بحث کے دوران واضح کیا کہ وہ غزہ میں عام شہریوں پر ہونے والے مظالم کے ردعمل میں یہ ترمیم لائے ہیں۔
انہوں نے ایوانِ نمائندگان میں خطاب کرتے ہوئے کہا ’غزہ میں اب تک 70,000 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں، اور میں نہیں سمجھتا کہ ہمیں (امریکا کو) کسی بھی طرح اس کا حصہ بننا چاہیے۔‘
اگر یہ ترمیم منظور ہو جاتی تو یہ اسرائیل کو بھیجی جانے والی 3.3 ارب ڈالر کی سالانہ سیکیورٹی امداد کو روک دیتی، جو کہ 2016 کے ایک معاہدے کے تحت اسرائیل کو سال 2028 تک دی جانی ہے۔ (یاد رہے کہ ستمبر 2016 میں امریکی ایوان نے اس مفاہمت کی یادداشت کی حمایت میں 4 کے مقابلے میں 405 ووٹ دیے تھے)۔
غزہ کی ابتر صورتحال کا پس منظر
7 اکتوبر 2023 کو حماس کی قیادت میں ہونے والے حملے اور اسرائیلی فوج کی جانب سے ‘ہنی بال ڈائریکٹو’ کے تحت کی جانے والی جوابی کارروائیوں کے نتیجے میں اسرائیل میں 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جس کے بعد غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، اسرائیل کی مسلسل وحشیانہ عسکری کارروائیوں میں اب تک 73,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
غزہ کا زیادہ تر حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے اور وہاں کی 20 لاکھ کی آبادی (جو کئی بار نقل مکانی پر مجبور ہو چکی ہے) اب ساحلی پٹی کے ایک انتہائی چھوٹے حصے پر خیموں اور تباہ شدہ عمارتوں میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔
علامتی اہمیت اور صدر ٹرمپ کا موقف
سیاسی مبصرین کے مطابق، اگر بدھ کے روز ایوانِ نمائندگان اس ترمیم کو منظور بھی کر لیتا، تب بھی یہ اقدام محض علامتی ہی رہتا۔ اس بل کو قانون بننے کے لیے سینیٹ سے منظوری حاصل کرنا ہوتی اور اس کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یقینی ویٹو کا سامنا کرنا پڑتا، جنہوں نے اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کو اپنی خارجہ پالیسی کا بنیادی محور بنا رکھا ہے۔











