پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) کے تحت زراعت اور لائیو اسٹاک کے شعبے میں ایک اہم اور غیر روایتی تجارتی پیشرفت سامنے آئی ہے۔ پاکستان نے باضابطہ طور پر چین کو گدھے کے گوشت کی برآمد شروع کر دی ہے جبکہ گوادر فری زون سے روانہ ہونے والی پہلی تجارتی کھیپ چین کی تیانجن بندرگاہ پر کسٹمز کلیئرنس کے بعد کامیابی سے پہنچ گئی ہے۔
5 کروڑ ڈالر کا جدید پلانٹ، ہر ماہ 50 کنٹینرز برآمد کرنے کا ہدف
چینی کمپنی ہان گینگ کے مطابق یہ برآمدی عمل گوادر فری زون میں قائم 5 کروڑ امریکی ڈالر مالیت کے جدید ترین گوشت پراسیسنگ پلانٹ کے ذریعے ممکن بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے کس صوبے میں کتنے گدھے ہیں؟ حیران کن تفصیلات سامنے آگئیں
کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ جدید فیسلٹی بین الاقوامی معیار اور حفظانِ صحت کے سخت ترین اصولوں کے مطابق گوشت کی پراسیسنگ، پیکیجنگ اور برآمد کو یقینی بناتی ہے۔
انتظامیہ کے مطابق منصوبے کا ہدف ہر ماہ اوسطاً 50 کنٹینرز گدھے کا گوشت چین برآمد کرنا ہے جس سے پاکستان اور چین کے درمیان زرعی اور لائیو اسٹاک تجارت کو نمایاں فروغ ملنے کی توقع ہے۔
چین میں بڑھتی طلب پاکستان کے لیے نیا معاشی موقع ہے، جنید خان
معاشی ماہر جنید خان کے مطابق چین میں گدھے کے گوشت اور اس کی کھال کی طلب مسلسل بڑھ رہی ہے۔ وہاں گدھے کی کھال کو روایتی دوا ای جیاؤ کی تیاری میں بنیادی خام مال کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جبکہ اس کا گوشت بھی مختلف روایتی پکوانوں میں استعمال ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لائیو اسٹاک شعبے کے لیے یہ منصوبہ انتہائی منافع بخش ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول 5 برس کی مسلسل محنت کے بعد اس منصوبے کے ثمرات سامنے آنا شروع ہوئے ہیں جس سے ملک کے لیے قیمتی زرِ مبادلہ حاصل کرنے کی نئی راہیں کھلیں گی۔
جنید خان نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ سی پیک کے دوسرے مرحلے کا حصہ ہے، جس میں زراعت، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، ویلیو ایڈیشن اور مقامی سطح پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
گوادر عالمی برآمدات کا نیا گیٹ وے بننے کی جانب گامزن، شہریار بٹ
معاشی ماہر شہریار بٹ کے مطابق گوادر پورٹ اور گوادر فری زون اس برآمدی سلسلے میں کلیدی لاجسٹک گیٹ وے کا کردار ادا کر رہے ہیں، جس سے مستقبل میں پاکستان کی دیگر زرعی، حلال اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی بھی مزید آسان ہو جائے گی۔
مزید پڑھیں: چین کے تعاون سے پاکستان میں سالانہ 80 ہزار گدھوں کی افزائش کا منصوبہ
انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ منصوبہ کافی پہلے شروع ہو جانا چاہیے تھا تاہم بعض انتظامی رکاوٹوں کے باعث اس میں تاخیر ہوئی۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب یہ تاثر پیدا ہونے لگا کہ شاید منصوبہ کامیاب نہیں ہو سکے گا لیکن موجودہ حکومت نے ترجیحی بنیادوں پر مسائل حل کیے جس کے بعد منصوبہ عملی شکل اختیار کرنے میں کامیاب رہا۔
چینی کمپنی کا اظہارِ اطمینان
چینی کمپنی ہان گینگ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر منصوبے کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’5 سال کی لگن، بے شمار چیلنجز اور پاکستانی زرعی مصنوعات کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کا خواب آج حقیقت بن گیا ہے‘۔
کمپنی کے مطابق حالیہ دورے کے دوران مہمانوں کو چین کے لیے پاکستان سے گدھے کے گوشت کی پہلی برآمد کے پورے عمل کا مشاہدہ کرایا گیا جس میں سخت معائنہ، جدید انتظامی نظام اور غذائی تحفظ کے عالمی معیار پر مکمل عمل درآمد شامل ہے۔
مزید پڑھیں: شنگھائی: اسحاق ڈار، وانگ یی ملاقات، سی پیک 2.0 اور اے آئی تعاون پر اتفاق
یہ صرف ایک کاروباری منصوبہ نہیں بلکہ پاکستان پر اعتماد، دونوں ممالک کے درمیان باہمی اعتماد اور مستقل مزاجی کی علامت ہے۔ گوادر اب محض ایک بندرگاہ نہیں رہا بلکہ نئی صنعتوں، روزگار کے مواقع اور بین الاقوامی تعاون کا اہم مرکز بنتا جا رہا ہے۔












