یورپ میں جون کے دوران پڑنے والی غیرمعمولی گرمی کی لہر کے نتیجے میں کم از کم 12 ہزار سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ حتمی اعداد و شمار سامنے آنے پر یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ یورپی ممالک میں درجہ حرارت کے کئی دہائیوں پرانے ریکارڈ بھی ٹوٹ گئے، جس نے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے تجزیے کے مطابق یورپ کے مختلف ممالک سے موصول ہونے والے ابتدائی سرکاری اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ جون کے مہینے میں شدید گرمی کے باعث ہزاروں افراد جان کی بازی ہار گئے۔ چونکہ بعض ممالک کے مکمل اعداد و شمار ابھی جاری نہیں ہوئے، اس لیے ہلاکتوں کی مجموعی تعداد میں مزید اضافے کا امکان ہے۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی، سوئٹزرلینڈ، نیدرلینڈز، لیگزمبرگ، اسپین اور دیگر یورپی ممالک میں جون کے دوران درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کئی علاقوں میں گرمی کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے یورپ میں شدید گرمی کی نئی لہر کا خدشہ، ڈبلیو ایچ او نے خبردار کردیا
اے ایف پی کے مطابق 22 سے 28 جون کے درمیان فرانس، جرمنی، لیگزمبرگ، سوئٹزرلینڈ اور نیدرلینڈز میں اموات کی شرح غیرمعمولی طور پر بڑھی، جبکہ اسی عرصے کے دوران یورپ بھر میں شدید گرمی سے 10 ہزار سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔
دوسری جانب برطانیہ کے محکمہ موسمیات (Met Office) کے ابتدائی تخمینے کے مطابق صرف انگلینڈ اور ویلز میں 18 سے 28 جون کے دوران شدید گرمی کے باعث تقریباً 2 ہزار 200 اضافی اموات ہوئیں۔
یورو مومو کی رپورٹ
یورپ میں اموات کی نگرانی کرنے والے ادارے یورو مومو (EuroMOMO) کے مطابق جون کے آخری ہفتے میں 14 ہزار 260 سے زائد اضافی اموات ریکارڈ کی گئیں۔ یہ اعداد و شمار یورپ کے 24 ممالک کے سرکاری ڈیٹا پر مبنی ہیں، جن کی مجموعی آبادی تقریباً 40 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ تاہم اس ڈیٹا میں مشرقی یورپ کے متعدد ممالک شامل نہیں، اس لیے حقیقی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق گزشتہ 7 برسوں میں گرمیوں کے دوران صرف جولائی 2022 کا ایک ہفتہ ایسا تھا جب اس سے زیادہ اضافی اموات ریکارڈ کی گئی تھیں، تاہم اس وقت یورپ میں کووڈ-19 کی وبا بھی پھیلی ہوئی تھی۔
اسپین میں 600 سے زائد اموات
اسپین کی وزارت صحت کے مطابق 22 سے 28 جون کے دوران شدید گرمی کے باعث 610 افراد جان کی بازی ہار گئے، جن میں تقریباً دو تہائی افراد کی عمر 85 برس یا اس سے زیادہ تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ گرمی کی شدت کا سب سے زیادہ اثر بزرگ افراد پر پڑا۔
جرمنی میں بھی اموات میں نمایاں اضافہ
جرمنی کے وفاقی ادارہ شماریات کے مطابق شدید گرمی کے دوران اموات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ابتدائی اعداد و شمار کے مطابق اموات کی تعداد گزشتہ برسوں کے اسی عرصے کے مقابلے میں ہزاروں زیادہ رہی، تاہم حکام نے کہا ہے کہ مکمل تجزیے کے بعد مزید درست اعداد و شمار جاری کیے جائیں گے۔
ڈبلیو ایچ او کی وارننگ
عالمی ادارۂ صحت (WHO) یورپ کے ریجنل ڈائریکٹر ڈاکٹر ہانس ہنری پی کلوج نے خبردار کیا ہے کہ شدید گرمی کا یہ سلسلہ محض ایک وقتی واقعہ نہیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث بار بار رونما ہونے والا بحران بنتا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے یورپ میں موسمیاتی بحران شدت اختیار کر گیا، اسپین میں جنگلاتی آگ سے درجن بھر افراد ہلاک
انہوں نے کہا ’شدید گرمی سے ہونے والی زیادہ تر اموات قابلِ روک تھام ہیں۔ اس کے لیے مؤثر حکمت عملی، حفاظتی رہنما اصول اور ضروری وسائل پہلے ہی موجود ہیں، اب فیصلہ حکومتوں نے کرنا ہے کہ وہ ان پر کس حد تک عمل درآمد کرتی ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ گرمی کی حالیہ لہر نے واضح کر دیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات انسانی جانوں کے لیے کس قدر خطرناک ثابت ہو رہے ہیں، لہٰذا حکومتوں کو ہنگامی نوعیت کے حفاظتی اقدامات فوری طور پر نافذ کرنے چاہییں۔
ماہرین کی احتیاطی رائے
یورو مومو کے کوآرڈینیٹر اور ڈنمارک کے اسٹیٹنز سیرم انسٹیٹیوٹ کے ماہر وبائی امراض لاسے ویٹرگارڈ نے کہا کہ موجودہ شواہد کے مطابق اضافی اموات کی بنیادی وجہ شدید گرمی ہی معلوم ہوتی ہے، تاہم حتمی نتائج اخذ کرنے سے قبل مکمل اعداد و شمار کا انتظار ضروری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ یورو مومو کے اعداد و شمار کو مکمل اور زیادہ قابلِ اعتماد شکل اختیار کرنے میں عموماً 4 ہفتے لگتے ہیں، اس لیے آئندہ ہفتوں میں اموات کی تعداد میں مزید اضافہ سامنے آ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپ میں حالیہ گرمی کی لہر ایک بار پھر اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اب مستقبل کا نہیں بلکہ موجودہ دور کا ایک سنگین انسانی اور صحتِ عامہ کا بحران بن چکی ہے۔














