بین الاقوامی میڈیا کے مطابق دیواروں پر عبرانی میں ’انتقام‘ کے نعرے درج، فلسطینی حکام نے حملوں کی مذمت کردی
مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاروں نے دو مساجد کو نذر آتش کر دیا، جبکہ حملہ آوروں نے مساجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں نسل پرستانہ اور ’انتقام‘ کے نعرے بھی تحریر کیے۔ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب علاقے میں فلسطینیوں اور اسرائیلی آبادکاروں کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔
رائٹرز کے مطابق نابلس کے جنوب میں واقع قصبہ قصرہ کے میئر عبدالعظیم وادی نے بتایا کہ آبادکاروں نے قصبے کے جنوبی حصے میں زیر تعمیر مسجد کو آگ لگا دی۔ ان کے بقول حملہ آوروں نے مسجد کی دیواروں پر عبرانی زبان میں اشتعال انگیز نعرے بھی درج کیے۔
VIDEO | Footage shows the aftermath of a Jewish settler attack in which a mosque was set on fire in the Palestinian village of Qusra, south of Nablus in the occupied West Bank. pic.twitter.com/pHQycGKK8l
— The Cradle (@TheCradleMedia) July 26, 2026
فلسطینی وزارتِ مذہبی امور نے کہا کہ طولکرم کے قریب واقع گاؤں کور میں بھی اسرائیلی آبادکاروں نے ایک مسجد کو نذر آتش کیا اور اس کی دیواروں پر نسل پرستانہ نعرے تحریر کیے۔
بین الاقوامی میڈیا کے مطابق یہ واقعہ جمعے کے روز گاؤں تل میں اسرائیلی آبادکاروں اور فلسطینیوں کے درمیان ہونے والی خونریز جھڑپوں کے بعد پیش آیا، جن میں چار فلسطینی اور دو اسرائیلی ہلاک ہوئے تھے۔
اسرائیلی آرمی ریڈیو کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے 6 ماہ کے دوران آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر حملوں میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 63 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال کے ابتدائی چھ ماہ میں ایسے 660 واقعات پیش آئے، جبکہ 2025 کے اسی عرصے میں یہ تعداد 405 تھی۔
یہ بھی پڑھیں:مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو انتباہ
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں کم از کم 1,185 فلسطینی جان سے جا چکے ہیں، جن میں 250 بچے شامل ہیں۔ صرف 2026 کے دوران اب تک کم از کم 87 فلسطینی ہلاک ہوئے، جن میں 21 افراد اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں مارے گئے۔













