سابق بنگلہ دیشی کپتان شکیب الحسن کی رہائش گاہ پر پیٹرول بموں سے حملہ، سبب کیا بنا؟

جمعرات 6 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور سابق رکن پارلیمنٹ شکیب الحسن کے آبائی گھر پر بدھ کے روز مشتعل افراد نے حملہ کر دیا، جس کے دوران گھر کی کھڑکیوں کے شیشے توڑ دیے گئے اور پٹرول بم بھی پھینکے گئے۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ دارالحکومت ڈھاکا سے تقریباً 170 کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع ضلع مگورا میں پیش آیا، جہاں حملہ آوروں نے شکیب الحسن کی آبائی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا۔ حملے کے نتیجے میں مکان کی بالائی منزل پر آگ بھڑک اٹھی، تاہم اس وقت گھر میں کوئی موجود نہیں تھا، اس لیے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب چند گھنٹے قبل شکیب الحسن نے نئی دہلی میں فارن کورسپانڈنٹس کلب آف ساؤتھ ایشیا کے زیر اہتمام منعقدہ ایک ورچوئل تقریب میں شرکت کی، جس میں معزول سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد پہلی مرتبہ عوامی سطح پر میڈیا سے خطاب کیا۔

یہ بھی پڑھیے بھارت میں شیخ حسینہ کی میڈیا سے گفتگو پر بنگلہ دیش کا سخت احتجاج، دوطرفہ تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ

اپنے آڈیو خطاب میں شیخ حسینہ نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ وہ دسمبر میں بنگلہ دیش واپس آئیں گی، اگرچہ ان کے خلاف سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

انہوں نے کہا، ’میں اپنے عوام کے پاس ضرور واپس جاؤں گی۔ مجھے معلوم ہے کہ وہ مجھے جیل بھیج سکتے ہیں یا قتل بھی کر سکتے ہیں، لیکن اس کے باوجود مجھے واپس جانا ہے۔‘

78 سالہ شیخ حسینہ اگست 2024 میں اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد سے نئی دہلی میں مقیم ہیں۔ بنگلہ دیشی حکومت نے ان کی حوالگی کے لیے بھارت سے باضابطہ درخواست کر رکھی ہے، جبکہ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ معاملہ قانونی تقاضوں کے مطابق زیرِ غور ہے۔

یہ میڈیا گفتگو ان کی حکومت کے خاتمے کی دوسری برسی کے موقع پر ہوئی اور اقتدار سے بے دخل ہونے کے بعد میڈیا سے ان کی پہلی عوامی گفتگو تھی۔ اس دوران انہوں نے اپنی جماعت عوامی لیگ پر عائد سیاسی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔ عوامی لیگ پر حکومت سے بے دخلی کے بعد سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔

دوسری جانب بنگلہ دیش کی وزارت خارجہ نے شیخ حسینہ کی بھارت سے میڈیا سے گفتگو کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے بنگلہ دیش کی خودمختاری کے خلاف قرار دیا اور خبردار کیا کہ بھارت کی جانب سے اس طرح کی سرگرمیوں کی اجازت دونوں ممالک کے تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیے آل راؤنڈر شکیب الحسن قتل کے مقدمے میں بنگلا دیش طلب؟

واضح رہے کہ شکیب الحسن جنوری 2024 کے عام انتخابات میں عوامی لیگ کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے تھے۔ تاہم طلبہ کی قیادت میں ہونے والی تحریک کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے وہ بیرونِ ملک مقیم ہیں۔

شکیب الحسن کو اس وقت قتل، خردبرد، فراڈ اور منی لانڈرنگ سمیت متعدد مقدمات اور تحقیقات کا سامنا بھی ہے۔

ادھر بنگلہ دیش کے جنگی جرائم کے ٹریبونل نے نومبر 2025 میں 2024 کی طلبہ تحریک کے دوران ہونے والے خونریز کریک ڈاؤن کے مقدمے میں شیخ حسینہ کو عدم موجودگی میں سزائے موت سنائی تھی، تاہم انہوں نے ان الزامات کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp