ایک نئی تحقیق کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی اصل عمر سے زیادہ بوڑھا محسوس کرتا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ معیاری نیند کی کمی ہو سکتی ہے۔
سلیپ (Sleep) نامی طبی جریدے میں شائع ہونے والی اور نیشنل سلیپ فاؤنڈیشن کی قیادت میں ہونے والی تحقیق میں 3 ہزار 100 سے زائد بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا۔ شرکا سے پوچھا گیا کہ وہ خود کو کتنی عمر کا محسوس کرتے ہیں، جس کے بعد ان کی نیند کے معیار، نیند کے معمول اور دن کے وقت کی تھکن کا موازنہ کیا گیا۔
مزید پڑھیں:نیند کی کمی موٹاپے کا خطرہ بڑھا سکتی ہے
تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو افراد اپنی حقیقی عمر سے زیادہ بوڑھا محسوس کرتے تھے، ان میں بے خوابی، بے ترتیب نیند، دن بھر تھکن اور جسمانی صحت کے مسائل زیادہ دیکھے گئے۔
A molecule your brain already produces holds the key to other dimensions.
One scientist proved it in 1995.
The pattern he found was so disturbing, the research was stopped.
Rick Strassman went into that study expecting to prove the entities were hallucinations.
He walked out… pic.twitter.com/bv7NUbgTVC
— Darshak Rana ⚡️ (@thedarshakrana) July 30, 2026
ماہرِ نفسیات جوناتھن ایلپرٹ کے مطابق ناکافی نیند انسان کو ذہنی طور پر دھندلا، کم توانائی والا، چڑچڑا اور کم توجہ کا حامل بنا دیتی ہے، جس سے وقت سے پہلے بڑھاپے کا احساس پیدا ہو سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص مسلسل تھکاوٹ یا کمزوری محسوس کر رہا ہو تو اسے صرف عمر کا اثر سمجھنے کے بجائے اپنی نیند کے معیار پر بھی توجہ دینی چاہیے۔
مزید پڑھیں:ہفتہ وار نیند پوری کرنے کی کوشش کیوں بن جاتی ہے پیر کی تھکن کی وجہ؟
البتہ محققین نے واضح کیا کہ یہ تحقیق مشاہداتی نوعیت کی ہے، اس لیے اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ناقص نیند ہی بڑھاپے کے احساس کی براہِ راست وجہ ہے، بلکہ دونوں کے درمیان تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔














