بیرونِ ملک پاکستان مخالف مہم، ریاستی اداروں کے خلاف الزامات اور غیر ملکی روابط پر مبنی رپورٹ سامنے آ گئی

جمعرات 6 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

 

پاکستان مخالف سرگرمیوں، نسلی تقسیم کے بیانیے، مبینہ غیر ملکی فنڈنگ اور بعض قوم پرست گروہوں کے بیرونِ ملک کردار سے متعلق ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض عناصر پاکستان کے خلاف منظم پروپیگنڈا مہم چلا رہے ہیں۔ رپورٹ میں ان سرگرمیوں کو بیرونی سرپرستی اور پاکستان کے خلاف بیانیہ تشکیل دینے کی کوشش قرار دیا گیا ہے، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

بیرونِ ملک پاکستان مخالف سرگرمیوں کے حوالے سے جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض قوم پرست گروہ، خصوصاً پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم)، بیرونی ممالک میں ریاستی اداروں کے خلاف منظم مہم چلا رہے ہیں اور نسلی تقسیم کے بیانیے کو فروغ دے کر پاکستان کے اندر اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پشتون برادری سیاسی، عسکری اور انتظامی شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہے، اس لیے انہیں ریاستی جبر کا شکار قرار دینے کا بیانیہ زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بیرونِ ملک ہونے والی احتجاجی سرگرمیوں کے ذریعے مصنوعی نسلی تقسیم کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ بعض احتجاجی سرگرمیوں کے لیے بیرونِ ملک سے مالی معاونت فراہم کی گئی۔ اس ضمن میں برطانیہ میں موجود بعض منتظمین کو بھارت سے فنڈز منتقل ہونے، محسن داوڑ اور علی وزیر کی بعض غیر ملکی شخصیات سے ملاقاتوں، اور پی ٹی ایم سے وابستہ آینہ درخانی کی بھارتی اور اسرائیلی شخصیات سے مبینہ روابط کا حوالہ دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں طالبان کے ترجمان خالد زدران کی کتاب ’15 Minutes‘ کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جس کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا کہ اس میں منظور پشتین کو طالبان سے منسلک شخصیت قرار دیا گیا ہے۔ مزید کہا گیا ہے کہ 2025 میں جنیوا میں بھارتی مشن سے متعلق ایک مبینہ لیک شدہ مراسلے میں پی ٹی ایم، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) اور دیگر قوم پرست تنظیموں کے ساتھ خفیہ رابطوں کی سفارش کی گئی تھی۔ تاہم ان تمام دعوؤں کے حق میں کوئی آزادانہ یا بین الاقوامی سطح پر تصدیق شدہ شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ برطانیہ سمیت یورپ کے مختلف شہروں میں منعقد ہونے والی بعض تقریبات اور سیمینارز کو علمی یا انسانی حقوق کی سرگرمیوں کا رنگ دینے کی کوشش کی گئی، تاہم بعض اداروں نے سیکیورٹی خدشات کی بنیاد پر ایسے پروگرام منسوخ کیے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ آکسفورڈ یونیورسٹی نے بھی ماضی میں پی ٹی ایم سے متعلق بعض تقریبات منسوخ کی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں:جرمن نشریاتی ادارے کی پاکستان مخالف دستاویزی فلم پر خواجہ آصف سمیت اہم سیاسی و صحافتی شخصیات کی شدید تنقید

رپورٹ کے مطابق پی ٹی ایم اور اس سے وابستہ عناصر پاکستانی سیکیورٹی فورسز پر تنقید کرتے ہیں، مگر افغانستان میں موجود تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے مبینہ ٹھکانوں، سرحد پار دہشتگردی اور دہشتگرد حملوں میں جاں بحق ہونے والے ہزاروں پاکستانیوں کا ذکر نہیں کرتے، جسے رپورٹ نے یکطرفہ مؤقف قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ بیرونِ ملک مقیم بعض رہنما پاکستان کے اندر نوجوانوں کو احتجاج پر اکساتے ہیں، جبکہ خود ملک سے باہر رہتے ہیں اور جمہوری و آئینی عمل کے بجائے بیرونی حمایت پر انحصار کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ مذکورہ رپورٹ میں شامل الزامات اور دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ خبر میں جن افراد اور تنظیموں کا ذکر کیا گیا ہے، ان کا مؤقف رپورٹ کے ساتھ شامل نہیں تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

علمی سرقہ اسکینڈل میں’گرفتار‘ کیمبرج کے سابق پروفیسر کی پُراسرار موت

پاک سعودی فضائی رابطوں میں نیا اضافہ، ریاض ایئر کی پہلی پرواز کی اسلام آباد لینڈنگ، واٹر سیلوٹ پیش

پہلے ’پاکستان انفلوئنسر ایوارڈز‘: کامیاب امیدواروں کا انتخاب کیسے ہوگا؟

سیلینا گومز اور والدہ لاکھوں ڈالرز فراڈ کے مقدمہ میں پھنس گئیں

سابق فوجیوں کی فیلڈ مارشل کی جانب سے دیے گئے استقبالیہ میں بھرپور شرکت، پاک فوج کی قیادت پر اعتماد کا اظہار

ویڈیو

پاکستان کے آزادی کے دن کی تقریبات، سویٹ ہوم کے بچے فوجی یونیفارم میں بنے توجہ کا مرکز !

14 اگست، پاکستان کا آزادی کی جانب سفر، 79 سالہ قربانیوں اور ترقی کا سفر

آزادی محض سرزمین کے حصول کا نام نہیں بلکہ عوام کے حقوق کا وعدہ پورا  کرنا  بھی ہے، بلاول بھٹو کا پیغام

کالم / تجزیہ

مایوس ہونے سے پہلے یہ حساب کتاب بھی کر لیں

سن 47، 1200 پاکستانی اور ایک چابی

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی