بٹ کوائن 3 ماہ کی بلند ترین سطح پر، قیمت 81 ہزار ڈالر کے قریب پہنچ گئی

منگل 25 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بٹ کوائن کی قیمت منگل کو 80 ہزار ڈالر کی سطح عبور کرتے ہوئے 3 ماہ سے زائد عرصے کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

امریکی ڈالر کی کمزوری اور امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کی جانب سے بانڈ مارکیٹ کو مستحکم کرنے کے اقدامات کے بعد کرپٹو کرنسی مارکیٹ میں ایک بار پھر تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی کرپٹو کرنسی بٹ کوائن ایشیائی کاروباری اوقات میں 80 ہزار 323 ڈالر 24 سینٹس پر ٹریڈ کر رہا تھا، جبکہ اس سے قبل یہ 81 ہزار 237 ڈالر 94 سینٹس تک پہنچ گیا، جو مئی کے وسط کے بعد بٹ کوائن کی بلند ترین قیمت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ایران امریکا مذاکرات کا دوسرا دور، بٹ کوائن کی قیمت پر کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟

بٹ کوائن کی قیمت میں اگست کے دوران اب تک 28 فیصد اضافہ ہو چکا ہے اور یہ نومبر 2024 کے بعد کسی ایک ماہ میں سب سے بڑے اضافے کی جانب بڑھ رہا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ہفتے کانگریس پر زور دیا گیا تھا کہ وہ ایک ایسے قانون کی منظوری دے جس کے ذریعے تیزی سے پھیلتے ہوئے کرپٹو کرنسی شعبے کے لیے واضح قانونی تعریفیں متعین کی جا سکیں۔

اس اعلان کے بعد سے بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً 16 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

کرپٹو کرنسی مارکیٹ کو گزشتہ ہفتے امریکی محکمہ خزانہ کے اس اعلان سے بھی تقویت ملی کہ طویل مدتی امریکی بانڈز کی مزید خریداری کی جائے گی تاکہ بانڈز کی طویل مدتی شرح منافع میں اضافے کو محدود کیا جا سکے۔ اس اقدام کے باعث سرمایہ کاروں کی تشویش کا بڑا اثر امریکی ڈالر پر پڑا ہے۔

ہیش کی گروپ کے سینیئر محقق ٹم سن کے مطابق اسکاٹ بیسنٹ کے بیانات سے مارکیٹ میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ کم از کم وسط مدتی انتخابات تک امریکی پالیسی ساز طویل مدتی بانڈز کی شرح منافع میں مزید اضافے کو برداشت کرنے کے لیے کم آمادہ ہوں گے۔

مزید پڑھیں: امریکا ایران مذاکرات: بات چیت کا دوسرا دور بٹ کوائن کے لیے کتنا اہم ہوگا؟

ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال بٹ کوائن اور سونے جیسے اثاثوں کے لیے نسبتاً سازگار معاشی ماحول پیدا کر سکتی ہے۔ ڈالر کی کمزوری سے سونے کو بھی فائدہ پہنچا ہے اور اس کی قیمت 3 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

اسٹینڈرڈ چارٹرڈ کے عالمی سربراہ برائے ڈیجیٹل اثاثہ جات تحقیق جیف کینڈریک نے کہا کہ امریکی محکمہ خزانہ کا یہ اقدام بٹ کوائن کے لیے انتہائی سازگار نوعیت کا ہے۔

مزید پڑھیں: جنوبی کوریا کی کرپٹو ایکسچینج کی غلطی، 40 ارب ڈالر سے زائد مالیت کے بٹ کوائن صارفین کو منتقل

ان کے مطابق بٹ کوائن اس مقصد کے لیے وجود میں آیا تھا کہ سرمایہ کار ایسے مالیاتی اقدامات کے اثرات سے بچنے کے لیے ایک متبادل راستہ حاصل کر سکیں۔

ماہرین کے مطابق امریکی بانڈ مارکیٹ میں حکومتی مداخلت کے خدشات دوبارہ بڑھنے سے سرمایہ کاروں میں نام نہاد ’ڈی بیسمنٹ ٹریڈ‘ میں دلچسپی بڑھی ہے، جس میں کرنسی کی قدر میں کمی کے خدشات کے پیش نظر سرمایہ کار بانڈز کے بجائے سونے اور کرپٹو جیسے اثاثوں کا رخ کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: بٹ کوائن یا گولڈ: موجودہ وقت میں سرمایہ کاری کے لیے بہترین آپشن کیا ہے؟

آئی جی کے مارکیٹ تجزیہ کار ٹونی سائکامور کے مطابق امریکی محکمہ خزانہ کے اعلان کے بعد سرمایہ کاروں نے حقیقی اور ڈیجیٹل اثاثوں کی خریداری میں تیزی دکھائی کیونکہ کرنسی کی قدر میں کمی کے خدشات دوبارہ ابھر آئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر بٹ کوائن 80 ہزار ڈالر کی سطح سے مستقل طور پر اوپر رہنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس کے بعد 95 ہزار اور پھر ایک لاکھ ڈالر کی سطح کی جانب بڑھنے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp