وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے ہنگو شہر کے کیٹیگری ‘سی’ کے اسپتال کو کیٹیگری ‘ڈی’ میں اپ گریڈ کرنے کے حالیہ دعوے نے صوبائی انتظامیہ کے معیار اور حکومتی وژن پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ان دنوں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہے اور لوگوں کی تفریح طبع کا سبب بنا ہوا ہے۔ اس میں وزیراعلیٰ آفریدی ہنگو میں ایک اسپتال کی اپ گریڈیشن کا اعلان کرتے ہیں۔ یہ اسپتال کیٹیگری ’سی‘ میں شمار ہوتا تھا۔ وزیراعلیٰ نے اپنے اعلان میں اسپتال کو کیٹیگری ڈی بخشنے کا اعلان کیا۔ انہیں خبر ہی نہیں ہے کہ کسی ’سی‘ گیٹیگری اسپتال کو اپ گریڈ کیا جائے تو اسے گریڈ ’بی‘ دیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا یہ اعلان اسپتالوں کی بنیادی زمرہ بندی اور عوامی انتظام و انصرام سے متعلق وزیر اعلیٰ کی عدم معلومات کو ظاہر کرتا ہے۔ ان کے اس غیر منطقی دعوے نے نہ صرف صحت کے شعبے میں حکومتی حکمتِ عملی پر تشویش پیدا کی ہے بلکہ وزیر اعلیٰ کی طرزِ حکمرانی اور عوامی انتظامی امور پر ان کی گرفت اور صلاحیتوں پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔














