نیپال میں چین کی سرحد کے قریب اچانک سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے واقعات کے بعد بدھ کے روز کم از کم 384 سیاحوں اور مسافروں سمیت فوجی اور پولیس اہلکاروں کے لاپتا ہونے کی اطلاعات ہیں، جبکہ حکام کے مطابق 22 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوگئی ہے۔
نیپال کے وزیر خارجہ نے پارلیمنٹ کو قدرتی آفت کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ اچانک آنے والے سیلاب میں بیرکیں بہہ جانے کے بعد سرکاری اہلکار، فوجی اور پولیس اہلکار بھی لاپتا افراد میں شامل ہیں۔
لاپتا ہونے والے افراد میں مختلف ممالک کے سیاح بھی شامل
نیپال ٹورازم بورڈ نے الگ سے بتایا کہ اس نے 384 لاپتا افراد کا ریکارڈ درج کیا ہے، جبکہ روزنامہ کھٹمنڈو پوسٹ کے مطابق 22 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوچکی ہے۔
ٹورازم بورڈ کے مطابق حکام متاثرہ علاقوں میں موجود یا وہاں سے گزرنے والے سیاحوں اور مسافروں کے بارے میں ان کے مقام اور محفوظ ہونے کی صورتحال کی تصدیق کے لیے کام کر رہے ہیں۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ ایک ضلع میں سیلاب کے باعث بیرکیں بہہ جانے کے بعد 29 پولیس اہلکار اور نیپالی فوج کے 44 اہلکار بھی لاپتا ہیں۔
حکومتی اندازوں کے مطابق سیلاب میں 19 پل بہہ گئے، 40 کلومیٹر سڑک کو نقصان پہنچا جبکہ 13 ہائیڈرو پاور منصوبے بھی متاثر ہوئے، جبکہ قریباً 200 ٹرک بھی سیلابی ریلے میں بہہ گئے۔
وزیر حکومت نے بتایا کہ بدھ کے روز سرحدی علاقے میں زلزلہ آیا جس کے نتیجے میں برفانی تودہ گرا اور بالآخر چین کے تبت کے علاقے میں برفانی جھیلیں پھٹنے کا سبب بنا۔
وزیر خارجہ نے کہاکہ سیلاب کے باعث بڑی تعداد میں ہائیڈرو پاور منصوبے، سرکاری دفاتر اور سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ تباہ ہوگیا۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 37 منٹ پر نیپال کے گاؤں کوڈاری میں 4.4 شدت کا زلزلہ آیا، جو چین کے تبت سے متصل علاقے میں واقع ہے۔
سرحد کے دونوں جانب بڑے پیمانے پر تلاش اور امدادی کارروائیاں شروع کردی گئی ہیں۔
لاپتا افراد میں نیپال، بھارت، برطانیہ، جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور نیدرلینڈز کے شہری بھی شامل ہیں، جبکہ متعدد دیگر افراد کی قومیت کی ابھی تصدیق نہیں ہوسکی۔
بڑے پیمانے پر تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری
وزیر خارجہ نے بتایا کہ ہیلی کاپٹرز، ڈرونز اور رافٹنگ بورڈز سے لیس نیپال پولیس، مسلح پولیس اور نیپالی فوج کے اہلکاروں کو سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تعینات کردیا گیا ہے۔
چین کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنوب مغربی چین کے شیزانگ خودمختار خطے میں دونوں ممالک کو ملانے والی ایک اہم زمینی گزرگاہ کے قریب مٹی کا تودہ گرا۔
رپورٹ کے مطابق قدرتی آفت کے باعث چینی جانب بندرگاہ تک جانے والی سڑکیں، مواصلاتی نظام اور بجلی کی فراہمی منقطع ہوگئی۔
چینی صدر شی جن پنگ نے لوگوں کی تلاش اور انہیں بچانے کے لیے تمام ممکنہ کوششیں کرنے کی ہدایت کی۔
شی جن پنگ نے خطرے سے دوچار آبادی کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور زخمیوں کو بروقت طبی امداد فراہم کرنے کی کوششیں تیز کرنے پر بھی زور دیا تاکہ جانی نقصان کو کم سے کم کیا جاسکے۔
خبر رساں ایجنسی کے مطابق حکام نے تلاش اور امدادی کارروائیوں کے لیے وسائل متحرک کردیے ہیں اور تمام متعلقہ کارروائیاں جاری ہیں۔













