ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ ریاستی سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس کے لیے افغان عبوری حکومت کو ٹھوس ثبوت فراہم کرنا ہوں گے کہ وہ دہشتگردی کے خلاف مؤثر کارروائیاں کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ بات چیت کا راستہ بند نہیں کرنا چاہتا، تاہم دہشت گردی کے مسئلے پر محض دعوے کافی نہیں، افغان حکام کو عملی اقدامات اور ان کے ٹھوس شواہد پیش کرنا ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:بدخشاں میں جھڑپوں سے افغانستان میں مزید اندرونی نقل مکانی کا خدشہ
بھارتی چیف آف ڈیفنس اسٹاف کی جانب سے کرانہ ہلز پر حملے سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے طاہر اندرابی نے کہا کہ پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثے مکمل طور پر محفوظ ہیں اور ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا۔
ترجمان دفتر خارجہ نے بھارتی حکام کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بالی ووڈ اسٹائل بیانات کی کوئی اہمیت نہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ 16 سے 18 ماہ بعد اس طرح کے بیانات دینے کی کیا وجہ ہے۔
طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ پاکستان اپنے اسٹریٹجک اثاثوں کے تحفظ اور سلامتی کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔














