بنگلہ دیش کی مکہ جوائنٹ ڈیفنس معاہدے میں شمولیت پر غور کیا جائے گا

جمعرات 27 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ میں بنگلہ دیش کی شمولیت سے متعلق کہا گیا ہے کہ کسی بھی باضابطہ درخواست پر ریاض اور انقرہ کے ساتھ مشاورت سے غور کیا جائے گا، تاہم معاہدے پر عمل درآمد ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے۔

مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سہ فریقی اور خالصتاً دفاعی معاہدہ ہے، جس کا مقصد کسی ملک کے خلاف محاذ بنانا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے ’امن کی ڈھال‘ کے طور پر کام کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:مکہ دفاعی معاہدہ تاریخی دستاویز، سعودی ولی عہد پاکستان کے ساتھ آہنی دیوار کی طرح کھڑے ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

بیان کے مطابق مکہ معاہدہ خطے میں استحکام اور مسلم ممالک کے درمیان سیکیورٹی تعاون بڑھانے کے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ ان عناصر کے خلاف بھی اہم پیشرفت ہے جو خطے کے مسلم ممالک کے درمیان اختلافات، تقسیم اور بداعتمادی پیدا کرنے کی مسلسل کوشش کرتے رہے ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ ایک ابھرتے ہوئے علاقائی سیکیورٹی نظام کے طور پر اجتماعی سلامتی، علاقائی استحکام اور اتحاد پر مرکوز ہے۔ یہ ان ممالک کے لیے بھی کھلا ہے جو اجتماعی ذمہ داریوں اور مشترکہ سیکیورٹی مفادات کے عزم میں شریک ہوں۔

واضح کیا گیا کہ معاہدے میں کسی ملک کی شرکت کا مطلب کسی ریاست کے خلاف صف بندی نہیں ہوگا۔ اس فریم ورک کا مقصد رکن ممالک کی خودمختار خارجہ پالیسی کے انتخاب پر سمجھوتہ کیے بغیر اجتماعی دفاع کو مضبوط بنانا ہے۔

بیان کے مطابق مکہ جوائنٹ ڈیفنس ایگریمنٹ کے عملی نفاذ کا عمل ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے اور کسی بھی ملک کی باضابطہ شمولیت کی درخواست کا فیصلہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشاورت سے کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp