نیپال میں حالیہ تباہ کن سیلاب سے چند ماہ قبل ہی 2 سائنسی رپورٹس میں ہمالیائی خطے میں گلیشیئرز کے تیزی سے پگھلنے اور مستقبل میں سنگین سیلابی خطرات سے خبردار کیا گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق مارچ 2026 میں ہندوکش ہمالیہ خطے پر کام کرنے والے بین الحکومتی ادارے انٹرنیشنل سینٹر فار انٹیگریٹڈ ماؤنٹین ڈویلپمنٹ (آئی سی آئی ایم او ڈی) نے بتایا تھا کہ 1975 کے بعد خطے کے گلیشیئرز کی برف کی موٹائی 27 میٹر تک کم ہو چکی ہے۔
مزید پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کا نیپالی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ، سیلاب متاثرین کے لیے امداد کی پیشکش
آئی سی آئی ایم او ڈی کے مطابق 1990 سے 2020 کے دوران ہندوکش ہمالیہ کے گلیشیئرز اپنے رقبے کا قریباً 12 فیصد اور برف کے ذخیرے کا 9 فیصد کھو چکے ہیں، جبکہ 2000 کے بعد برف پگھلنے کی رفتار قریباً دوگنا ہوگئی ہے۔
🇳🇵 Disaster in Nepal..⚠️🚨
New Released video, captured more than 50 km downstream from the site of the glacier collapse, shows the rapid arrival of the flood wave, obliterating everything in its wake.#Nepal #NepalFlooding #Floods #Rasuwa #flasfloods #NepalFloods… pic.twitter.com/3Ofw8n7OBA
— sustainme.in® (@sustainme_in) August 27, 2026
ماہرین کے مطابق نیپال میں حالیہ سیلاب کی حتمی وجوہات کی تحقیقات جاری ہیں، تاہم ایک تشویشناک عنصر یہ سامنے آیا ہے کہ 4 ہزار میٹر یا اس سے زیادہ بلندی پر برفباری کے بجائے بارش ہو رہی ہے۔ بڑھتے درجہ حرارت کے باعث جن علاقوں میں پہلے برفباری ہوتی تھی وہاں بارش ہونے سے گلیشیئرز تیزی سے سکڑ رہے ہیں۔
رپورٹس میں خبردار کیا گیا تھا کہ ہندوکش ہمالیہ کے گلیشیئرز سے پگھلنے والے پانی پر خطے کے قریباً 2 ارب افراد انحصار کرتے ہیں۔ گلیشیئرز کے پگھلاؤ میں تیزی اور برفانی خطے میں تبدیلی مستقبل میں پانی، زراعت اور سیلاب کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
مزید پڑھیں:ائیجیریا میں بڑے پیمانے پر سیلاب کا الرٹ، 33 ریاستیں خطرے کی زد میں
ماہرین کا کہنا ہے کہ گلیشیئرز کے پیچھے ہٹنے سے بڑے پیمانے پر چٹانیں، مٹی، ریت اور دیگر ملبہ جمع ہوتا ہے۔ مسلسل بارش سے ان ملبے کے ذخائر میں پانی جمع ہونے اور کسی لینڈ سلائیڈ یا دیگر محرک کے نتیجے میں اچانک تباہ کن سیلاب آنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔














