چین کے جنوبی علاقے گوانگشی ژوانگ خودمختار خطے میں تعمیر کی گئی اہم پنگ لو کینال نے تکمیل کے بعد منظوری کا مرحلہ بھی کامیابی سے عبور کرلیا، جس کے بعد اسے آئندہ ماہ ستمبر میں بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
چینی خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق پنگ لو کینال گروپ نے جمعہ کو بتایا کہ منصوبے کی تکمیل کا جائزہ لینے والی کمیٹی نے کینال کو مقررہ ڈیزائن اور تکنیکی معیار کے مطابق قرار دے دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:چین میں مشینوں کی حکمرانی؟ روبوٹکس انقلاب نے نئی بحث چھیڑ دی
کمیٹی میں علاقائی محکمہ ٹرانسپورٹ، میری ٹائم سیفٹی انتظامیہ اور پنگ لو کینال گروپ کے نمائندے شامل تھے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر تصدیق کی کہ کینال کا راستہ، بحری راستے کے لاکس، حفاظتی پشتے اور ماحولیاتی انتظامات منصوبے میں طے کیے گئے ڈیزائن اور تکنیکی تقاضوں کے مطابق مکمل کیے گئے ہیں۔
کمیٹی نے منصوبے سے متعلق تمام دستاویزات کو بھی مکمل اور مناسب انداز میں محفوظ قرار دیا۔
پنگ لو کینال کی مجموعی لمبائی 134.2 کلومیٹر ہے اور اسے چین کے ’نئے بین الاقوامی زمینی و بحری تجارتی راستے‘ کا ایک اہم منصوبہ قرار دیا جارہا ہے۔ یہ تجارتی راہداری چین کے اندرونی علاقوں کو جنوب مشرقی ایشیا کی تنظیم آسیان کے رکن ممالک اور دیگر عالمی منڈیوں سے جوڑتی ہے۔
China just started sailing 5,000-tonne ships through a canal that didn’t exist four years ago.
The 134.2 km Pinglu Canal is now in full vessel trials ahead of its planned September opening.
And the tests go far beyond simply proving a ship can fit.
Crews are testing:
* lock… pic.twitter.com/qFPp7JWoHs
— Capital Buildcon (@capbcon) August 28, 2026
اس کینال کے ذریعے چین کے اندرونی علاقوں سے سامان کو سمندری راستوں تک پہنچانے کا ایک نیا اور نسبتاً براہ راست ذریعہ دستیاب ہوگا، جس سے علاقائی تجارت اور نقل و حمل کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔
پنگ لو کینال کی تعمیر 28 اگست 2022 کو شروع ہوئی تھی اور تقریباً 4 سال بعد منصوبے نے تکمیل کا مرحلہ عبور کرلیا ہے۔
حکام کے مطابق کینال کو ستمبر 2026 میں باقاعدہ طور پر بحری آمدورفت کے لیے کھولنے کی توقع ہے۔ اس منصوبے کو چین کے علاقائی انفرااسٹرکچر اور عالمی تجارتی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی کوششوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔













