شدید فضائی جھٹکوں سے مسافر کی ہلاکت، بیوہ کا سنگاپور ایئرلائنز کے خلاف عدالت سے رجوع

ہفتہ 29 اگست 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

شدید فضائی جھٹکوں کے باعث شوہر کی ہلاکت اور خود کمر کی ہڈی ٹوٹنے کے بعد 74 سالہ برطانوی خاتون نے سنگاپور ایئرلائنز کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق برسٹل کے قریب تھورن بری کی رہائشی لنڈا کچن اپنے 73 سالہ شوہر جیف کے ہمراہ مئی 2024 میں لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے سنگاپور جانے والی پرواز میں سوار تھیں۔ یہ جوڑا سنگاپور، انڈونیشیا اور آسٹریلیا کے 6 ہفتوں کے دورے پر روانہ ہوا تھا۔

مزید پڑھیں:دبئی کی غیر ملکی ایئرلائنز پر سخت پابندیاں، بھارتی کمپنیوں کو مالی نقصان کا خدشہ

پرواز کو میانمار کی فضائی حدود میں شدید فضائی جھٹکوں کا سامنا کرنا پڑا اور طیارہ اچانک قریباً 6 ہزار فٹ (1828 میٹر) نیچے آگیا۔ صورتحال کے باعث پرواز کا رخ تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک کی جانب موڑ کر ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی۔

لنڈا کچن کے مطابق شدید جھٹکوں کے دوران انہیں ایسا محسوس ہوا جیسے طیارہ نیچے گر رہا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کا شوہر ان پر آ گرا، جس سے وہ سیٹ کے بازو کے ساتھ دب گئیں اور ان کی کمر کی ہڈی ٹوٹ گئی۔

طیارے میں موجود ایک ڈاکٹر نے جیف کو فوری طبی امداد فراہم کرتے ہوئے سی پی آر شروع کی، تاہم انہیں بچایا نہ جاسکا۔ سمجھا جاتا ہے کہ طیارے کے اچانک نیچے آنے کے بعد جیف کو دل کا دورہ پڑا تھا۔

لنڈا کو اسپتال منتقل کردیا گیا، تاہم شوہر کی موت کی اطلاع انہیں 2 روز بعد دی گئی۔

لنڈا کا کہنا ہے کہ شوہر سے جدائی کے بعد انہیں اندازہ تھا کہ ان کی حالت خراب ہے، لیکن ان کی موت کی خبر سننا انتہائی صدمہ خیز تھا۔ انہوں نے اپنے شوہر کو اپنا ’ہم سفر‘ قرار دیا۔

حادثے کے بعد لنڈا 10 روز تک اسپتال میں زیر علاج رہیں اور پھر انہیں فضائی ایمبولینس کے ذریعے برسٹل منتقل کیا گیا۔ برطانیہ واپسی کے بعد بھی وہ قریباً ایک ہفتہ سپتال میں رہیں اور گھر آنے کے بعد طویل عرصے تک انہیں مدد کی ضرورت رہی۔

لنڈا نے اب ہائیکورٹ میں سنگاپور ایئرلائنز کے خلاف ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا ہے تاکہ اپنی کمر کی چوٹ کے لیے خصوصی طبی معاونت حاصل کرسکیں۔

مزید پڑھیں:ایئرلائن ریٹنگز 2026: محفوظ ترین فل سروس اور لو کاسٹ ایئرلائنز کی ٹاپ 25 فہرست جاری

ان کی وکیل اور ماہر ہوابازی قانون دان اینتھے کوریلیڈو نے کہا کہ جیف کا جان لیوا زخمی ہونا اور لنڈا کو شدید چوٹیں آنا اس واقعے کی سنگینی کو واضح کرتا ہے۔ ان کے مطابق دو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود لنڈا اور ان کے اہل خانہ کے ذہنوں میں یہ سوال موجود ہیں کہ واقعے کی اصل وجوہات کیا تھیں اور کیا ان چوٹوں اور ہلاکت کو روکا جاسکتا تھا۔

وکیل نے کہا کہ لنڈا چاہتی ہیں کہ واقعے کی انتہائی جامع تحقیقات کی جائیں تاکہ انہیں اور جیف کے اہلخانہ کو ان سوالات کے جواب مل سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp