آزاد کشمیر میں حالات معمول پر، شہریوں کا ایکشن کمیٹی کو حکومت سے مذاکرات کا مشورہ

جمعہ 4 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آزاد کشمیر میں سیاسی کشیدگی کے بعد معمولات زندگی بحال ہونے لگے ہیں، جبکہ شہریوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے نئی حکومت سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ الیکشن کے بعد سیاسی جمود ختم ہوچکا، اس لیے راولاکوٹ میں دھرنے پر موجود افراد بھی انتشار کے بجائے بات چیت کی طرف آئیں۔

ضلع باغ، آزاد کشمیر کے ایک شہری نے موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بازار مکمل طور پر کھلے ہیں، اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں اور سرکاری دفاتر بھی معمول کے مطابق کام کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا جمہوریت پر حملہ، عوامی مینڈیٹ سے خوف کیوں؟

شہری کے مطابق عام لوگوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے اور لوگ اپنے روزمرہ کے معاملات میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بازاروں میں معمول کے مطابق خرید و فروخت جاری ہے اور عوام کی جانب سے ایکشن کمیٹی کے مؤقف کی کوئی خاص پذیرائی نظر نہیں آ رہی۔

شہریوں نے ایکشن کمیٹی کے ارکان سے مطالبہ کیا کہ وہ انتشار کی پالیسی ختم کریں اور نوجوانوں کو مزید گمراہ کرنے سے گریز کریں۔ ان کے مطابق نئی حکومت کے قیام کے بعد اب مسائل کے حل کے لیے مذاکرات ہی بہتر راستہ ہیں۔

مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ میں دھرنے پر موجود افراد کو بھی حالات کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ علاقے میں امن، ترقی اور معمولات زندگی مزید مستحکم ہوسکیں۔

شہریوں نے زور دیا کہ اختلافات اور مطالبات کو سڑکوں پر طویل احتجاج کے بجائے مذاکرات کی میز پر حل کیا جائے تاکہ آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام کے ساتھ عوامی مسائل کے حل پر بھی توجہ دی جاسکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

روسی وزیر داخلہ کا اسلام آباد پولیس لائنز اور پاکستان مونومنٹ کا دورہ، پاکستانی پرچم کو بوسہ بھی دیا

بحیرۂ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملے، بلغاریہ کا روسی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ

صارفین کو 1.2 ارب روپے کا ریلیف، بینکنگ محتسب نے 29 ہزار سے زائد شکایات نمٹا دیں

پاکستان سے یورپ کی جانب غیر قانونی نقل مکانی میں 64 فیصد کمی

’آج بھی خود کو بس کنڈکٹر سمجھتا ہوں‘، رجنی کانت نے بس کنڈکٹر کی ملازمت کو اداکاری سے بہتر کیوں قرار دیا؟

ویڈیو

دہشتگردی کے خلاف ایک ملک میں 2 پالیسیاں نہیں چل سکتیں، اعظم نذیر تارڑ اور عطا اللہ تارڑ کی مشترکہ بریفنگ

3 مرتبہ حکومت کے باوجود پی ٹی آئی دیر، پشاور موٹروے بنانے میں ناکام، عوام کا احتجاج

میری بیٹی ڈاکٹر عبد القدیر خان جیسی سائنسدان بننا چاہتی تھی، کاش! میں نے ایجنٹ کی تصدیق کر لی ہوتی، لائبہ کے والد کی دردناک روداد

کالم / تجزیہ

پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہے؟

میری موت، میری مرضی

کیا پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمان سے کچھ سیکھ پائے گی؟