آزاد کشمیر میں سیاسی کشیدگی کے بعد معمولات زندگی بحال ہونے لگے ہیں، جبکہ شہریوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے نئی حکومت سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ الیکشن کے بعد سیاسی جمود ختم ہوچکا، اس لیے راولاکوٹ میں دھرنے پر موجود افراد بھی انتشار کے بجائے بات چیت کی طرف آئیں۔
ضلع باغ، آزاد کشمیر کے ایک شہری نے موجودہ صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بازار مکمل طور پر کھلے ہیں، اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں اور سرکاری دفاتر بھی معمول کے مطابق کام کررہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا جمہوریت پر حملہ، عوامی مینڈیٹ سے خوف کیوں؟
شہری کے مطابق عام لوگوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے بیانیے کو مکمل طور پر مسترد کردیا ہے اور لوگ اپنے روزمرہ کے معاملات میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بازاروں میں معمول کے مطابق خرید و فروخت جاری ہے اور عوام کی جانب سے ایکشن کمیٹی کے مؤقف کی کوئی خاص پذیرائی نظر نہیں آ رہی۔
شہریوں نے ایکشن کمیٹی کے ارکان سے مطالبہ کیا کہ وہ انتشار کی پالیسی ختم کریں اور نوجوانوں کو مزید گمراہ کرنے سے گریز کریں۔ ان کے مطابق نئی حکومت کے قیام کے بعد اب مسائل کے حل کے لیے مذاکرات ہی بہتر راستہ ہیں۔
مقامی شہریوں کا کہنا ہے کہ راولاکوٹ میں دھرنے پر موجود افراد کو بھی حالات کی موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت کے ساتھ مذاکرات کا آغاز کرنا چاہیے تاکہ علاقے میں امن، ترقی اور معمولات زندگی مزید مستحکم ہوسکیں۔
شہریوں نے زور دیا کہ اختلافات اور مطالبات کو سڑکوں پر طویل احتجاج کے بجائے مذاکرات کی میز پر حل کیا جائے تاکہ آزاد کشمیر میں سیاسی استحکام کے ساتھ عوامی مسائل کے حل پر بھی توجہ دی جاسکے۔













