بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان کی جانب سے اپنے والد سے ملاقات کے لیے پاکستان آنے کے معاملے پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق دونوں بھائی پاکستانی شہری ہیں اور ان کے پاس نیشنل آئیڈینٹیٹی کارڈ فار اوورسیز پاکستانیز (نائیکوپ) موجود ہیں، جس کے باعث پاکستان آنے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں۔
رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر قاسم اور سلیمان خان کی بنیادی ترجیح اپنے والد عمران خان سے ملاقات ہے تو پاکستان آنے اور متعلقہ حکام سے ملاقات کی اجازت طلب کرنے کا راستہ ان کے لیے موجود ہے۔
تاہم اس کے بجائے دونوں بھائی میڈیا انٹرویوز اور بیرونِ ملک حکومتوں سے اپیلوں کے ذریعے عمران خان کی قید اور ان سے متعلق قانونی معاملات کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک خاندانی ملاقات کے معاملے کو بین الاقوامی سیاسی مہم کی شکل دینے سے ان دعوؤں پر بھی سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا عمران خان کے بیٹوں کی اولین ترجیح صرف اپنے والد سے ملاقات ہے یا کوئی اور ایجنڈا ہے۔
رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر مقصد والد سے ملاقات ہے تو پاکستان آکر قانونی طریقہ کار اختیار کرنا اس کا براہِ راست راستہ ہوسکتا ہے۔
قاسم اور سلیمان جب چاہیں پاکستان آسکتے ہیں، خواجہ آصف
وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی قاسم اور سلیمان خان کے پاکستان آنے کے معاملے پر واضح مؤقف اختیار کیا ہے۔
30 اگست کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ عمران خان کے بیٹے آخری مرتبہ 2022 میں اپنے نائیکوپ کارڈز پر پاکستان آئے تھے اور اب بھی اگر وہ چاہیں تو پاکستان آسکتے ہیں۔
خواجہ آصف کے مطابق دونوں کے نائیکوپ کارڈز اب بھی مؤثر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سلیمان خان کا نائیکوپ 6 جنوری 2030 تک جبکہ قاسم خان کا نائیکوپ 8 نومبر 2032 تک کارآمد ہے۔
وزیر دفاع نے کہاکہ نائیکوپ رکھنے والے پاکستانی شہریوں کو پاکستان آنے کے لیے ویزے کی ضرورت نہیں ہوتی، اس لیے یہ تاثر درست نہیں کہ حکومت عمران خان کے بیٹوں کو ویزے جاری نہیں کر رہی۔
خواجہ آصف کے بیان کے مطابق قاسم اور سلیمان خان کے لیے پاکستان آنے کا راستہ موجود ہے، جبکہ اپنے والد سے ملاقات کے لیے انہیں متعلقہ قانونی اور انتظامی طریقہ کار اختیار کرنا ہوگا۔
یوں اس معاملے میں بنیادی سوال ویزے کی عدم دستیابی کے بجائے یہ بن گیا ہے کہ اگر دونوں بھائیوں کے پاس مؤثر نائیکوپ موجود ہیں اور وہ اس بنیاد پر پاکستان آسکتے ہیں تو کیا وہ پاکستان آکر اپنے والد سے ملاقات کے لیے دستیاب قانونی راستہ اختیار کریں گے یا عمران خان کی قید اور قانونی معاملات کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کی مہم جاری رکھیں گے، جس کو ناقدین کی جانب سے مخصوص ایجنڈا قرار دیا جارہا ہے۔













