متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما اور رکن سندھ اسمبلی نجم مرزا کا کہنا ہے کہ اختیارات نچلی سطح پر منتقل ہونے کی صورت میں مایوسیاں ختم ہوں گی، ملک ترقی کرے گا اور جس کا حق ہے اسی کو ملے گا اور جہاں تک سندھ حکومت کی بات ہے تو اس نے 18 سالوں میں جتنا فنڈ لگنا چاہیے تھا وہ عوام پر یا صوبے پر خرچ نہیں کیا۔
یہ بھی پڑھیں: نئے صوبے نہیں، بااختیار انتظامی یونٹس اور بلدیاتی نظام کی جانب پیشرفت کا امکان ہے، تجزیہ کار
وی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے رکن سندھ اسمبلی نجم مرزا نے بتایا کہ پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی جو بات ہو رہی ہے وہ ٹاپ آف دی ٹاؤن بن چکی ہے۔ اس بحث کا آغاز آج سے 8 مہینے پہلے ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر مرکزی رہنما سید مصطفیٰ کمال صاحب نے کیا تھا اور آہستہ آہستہ یہ مطالبہ پورے پاکستان کی آواز بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک یہ یہ سوال ہے کہ یہ مطالبہ پورے پاکستان کی آواز کیوں بن چکا ہے تو وہ اس لیے کہ آج پاکستان کو جن مسائل کا سامنا ہے اور عوام کو جو گڈ گورننس ان کی دہلیز پر مہیا نہیں ہو رہی اس کی وجہ یہ نظام تباہ ہوچکا ہے۔
22 ہزار ارب روپے کہاں گئے؟
ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی 18 سال سے حکومت ہے اور بلا شرکت 18 سالوں میں 22 ہزار ارب روپے ہمیں وفاق سے ملے ہیں۔ 22 ہزار ارب روپے بہت بڑی رقم ہوتی ہے۔ یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ اگر آپ سندھ کو 4 دفعہ پورا بلڈوز کر دیں تو آپ اسے دوبارہ بنا سکتے ہیں۔
مزید پڑھیے: نئے صوبے بننے چاہئیں یا نہیں، اراکین پارلیمنٹ کیا کہتے ہیں؟
ان کا کہنا تھا کہ یہ 22 ہزار ارب روپے جو عوام کی فلاح و بہبود اور ترقی کے لیے ملے تھے، کراچی سے لے کر کشمور تک، وہ ان پر خرچ نہیں ہوئے۔ عوام کی جو بنیادی ضروریات ہیں، تعلیم، صحت، روزگار اور انفراسٹرکچر، وہ سندھ، کراچی سے لے کر کشمیر تک، تباہ حال ہیں۔
پیپلز پارٹی کی مخالفت کیوں؟
نجم مرزا کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی مخالفت کیوں ہے؟ پیپلز پارٹی کی مخالفت ان کی فطری ہے، بالکل۔ کیونکہ ظاہر بات ہے کہ یہ 25 ہزار ارب، 22 ہزار ارب روپے جو ہیں وہ انہیں آگے بھی مل رہے تھے۔ تو انتظامی یونٹس اور صوبے بننے سے یہ ان کا خاتمہ ہو جائے گا، اس لیے انہیں تکلیف ہو رہی ہے۔
ساڑھے 4 ہزار ارب تعلیم کا بجٹ کہاں گیا؟
نجم مرزا نے تعلیم کے حوالے سے بتایا کہ ابھی جو انتظامی یونٹس کے بل کے حوالے سے بات چیت ہوئی اس میں میں نے صوبے میں تعلیم کی بات کی، پیپلز پارٹی نے 18 سالوں میں ان 25 ہزار ارب میں سے ساڑھے 4 ہزار ارب روپے تعلیم پر خرچ کیے ہیں۔ آج تعلیم کا اگر لٹریسی ریٹ آپ سندھ کا دیکھیں تو وہ 57 فیصد ہے لیکن اگر آپ سندھ کے 6 ڈویژنز میں دیکھیں، کراچی کو آپ چھوڑ دیں تو وہ ایوریج بن رہا ہے 48 فیصد۔ کراچی چونکہ 75 فیصد ہے تو اس وجہ سے ایک جو پرسنٹیج بن رہی ہے، وہ 57 فیصد بن رہی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ 18 سال میں ساڑھے 4 ہزار ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود اگر آپ کا لٹریسی 57 فیصد ہے اور سب سے کم لٹریسی ریٹ ہے میرپور خاص ڈویژن کا ہے جس سے وزیر تعلیم سردار علی شاہ کا خود تعلق ہے۔ سردار شاہ صاحب اچھے آدمی ہیں، قابل ہیں لیکن یہ سسٹم کولیپس کر چکا ہے۔
اس وقت آؤٹ آف اسکول بچوں کی تعداد تقریباً 50 لاکھ ہے۔ سندھ میں 5 سے 16 سال کی عمر جو اسکول جانے کی ہوتی ہے تقریباً 50 لاکھ بچے سکول سے باہر ہیں، اور یہ حالت ہر ضلع و ڈویزن کی ہے، ساڑھے 4 ہزار ارب روپے بہت ہوتے ہیں۔ اس سے ہم بہت زیادہ آگے جا سکتے تھے۔
صحت کا بجٹ کہاں خرچ ہوا؟
نجم مرزا کہتے ہیں کہ سندھ حکومت نے تقریباً 3 ہزار ارب روپے صحت پر خرچ کیے ہیں۔ آج سندھ کے اسپتالوں میں کتے کے کاٹے یا کسی بھی جانور کے کاٹے کی ویکسین موجود نہیں ہے۔ 37 فیصد بچوں کو صرف ابتدائی ویکسین ملتی ہے۔ اس وقت اسٹنٹنگ گروتھ ریٹ تقریباً 40 فیصد ہے۔ بچے اسٹنٹنگ گروتھ کا شکار ہیں۔
سندھ حکومت کے پاس کوئی دلیل نہیں
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر آپ نے سندھ اسمبلی کا گزشتہ اجلاس دیکھا ہو جس میں تحریکِ التوا پیش کی گئی تھی، پیپلز پارٹی کے تمام ممبران نے بنا اعداد و شمار یا دلیل کے کوئی وجہ نہیں بتائی کہ صوبے کیوں نہیں بننے چاہییں۔ ہم تو کہتے ہیں کہ بننے چاہییں، وہ کہتے ہیں کہ نہیں بننے چاہییں۔ تو اس کی کوئی دلیل اور منطق بتانی چاہیے، وجہ دینی چاہیے۔
نجم مرزا کے مطابق سندھ حکومت کے ممبران نے فحش زبان استعمال کی، کہیں سے مونچھوں کو تاؤ دیا، آستینیں چڑھائیں۔ جذباتی نعروں کے علاوہ ان کے پاس کچھ نہیں ہے اور انہیں تکلیف ہو رہی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم صحیح جگہ پر ہیں اور ہم صحیح بات کر رہے ہیں۔
بدانتظامی عروج پر
نجم مرزا کا کہنا تھا کہ آپ نے میر رضا قتل کیس کی بات کی۔ تو دیکھیں، یہ ایک افسوسناک واقعہ ہے۔ کراچی کے واقعات ایسے بھرے پڑے ہیں۔ بچے جو کراچی اور صوبہ سندھ میں موت کی وجوہات کا شکار ہو رہے ہیں، وہ پورے پاکستان میں آپ کو کہیں نہیں ملیں گی۔ گٹر میں بچے گر کر کہیں نہیں مر رہے، ڈمپر کے نیچے آ کر نوجوان ہلاک کہیں نہیں ہو رہے، اور اسی طریقے سے بہت ساری چیزیں ہیں۔
مزید پڑھیں: ملکی مسائل کے حل کے لیے نئے صوبے بنانا ناگزیر ہے، چین میں موجود پاکستانیوں کی رائے
انہوں نے کہا کہ اب یہ میر رضا قتل کیس ہے، سادہ طور پر ایک قتل ہوا ہے، ان کی فیملی کے ساتھ ظلم ہوا ہے لیکن بدانتظامی کے حوالے سے آپ کے پاس قانون میں کسی کے پاس یہ اختیار ہی نہیں ہے کہ اگر بچہ گٹر میں گر کر مر رہا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے۔ آخر میں جب پریشر آتا ہے تو وزیرِ اعلیٰ سندھ ایس ایس پی کو معطل کر دیتے ہیں، ڈی سی کو معطل کر دیتے ہیں لیکن قانون میں ذمہ دار کون ہے، یہ ابھی تک واضح نہیں ہے۔
سندھ کو تعلیم کے بحران کا سامنا کیوں؟
ان کا کہنا تھا کہ سندھ میں سب ملا کر تقریباً 45 ہزار پرائمری اور سیکنڈری اسکول ہیں، ایک وزیرِ تعلیم اس کو دیکھ نہیں سکتا۔ ایم کیو ایم اختیارات کی منتقلی کی بات کرتی ہے۔ ایم کیو ایم کہتی ہے کہ اختیار آپ کی گلی محلے میں ہونا چاہیے۔ یعنی اگر آپ کراچی میں جس بھی محلے میں رہتے ہیں آپ کے سکول کا اختیار آپ کی گلی محلے کے کسی منتخب نمائندے کے پاس ہونا چاہیے۔
نجم مرزا نے کہا کہ ایسا نہیں کہ وہ میرپور خاص کے آدمی کے پاس ہو، دادو کے آدمی کے پاس ہو۔ جب ایک آدمی کے لیے 45 ہزار اسکولوں کو فیزیکلی اور نیچرلی مانیٹر کرنا ممکن نہیں ہے تو یہی وجوہات ہیں جن کی بنیاد پر ایم کیو ایم کہتی ہے کہ اختیارات مقامی سطح پر منتقل کریں۔
مئر کراچی کتنے طاقت ور؟
نجم مرزا کہتے ہیں کہ میئر کی طاقت اگر آپ کو پتا ہو کہ تو وہ وہ 2 کروڑ روپے کا کام کر سکتا ہے، اس سے اوپر کے لیے اس کو سی ایم ہاؤس کے چکر لگانا پڑتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نہ قومی حکومت سے ہو رہے ہیں، نہ صوبائی حکومت سے ہو رہے ہیں نہ وفاقی حکومت سے ہو رہے ہیں، آپ ریاست سے ناراض ہو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کی مثال بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں آپ نے دیکھی کہ وہاں کتنے خراب حالات ہیں ان لوگوں کو اختیارات نہیں ملے، کچھ ناسمجھ لوگوں نے ان میں سے ہتھیار اٹھا لیے اور ان ہتھیار اٹھانے والوں کو ہمارے دشمن ملک کی ایجنسیوں نے خرید لیا۔
یہ بھی پڑھیے: پیپلزپارٹی نے 18 سالوں میں سندھ تباہ کردیا، نئے صوبے ناگزیر ہوچکے ہیں، فوزیہ حمید
ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو یہ بات سمجھ میں آ گئی ہے کہ اس ملک میں سب سے بڑا مسئلہ، جو ہر مسئلے کی جڑ ہے، وہ بیڈ گورننس ہے اور بیڈ گورننس ملک میں مزید انتظامی یونٹس یا صوبے بننے سے ختم ہوگی۔













