مکہ مکرمہ پر ڈرون حملہ پاکستان کے لیے ’سپر ریڈ لائن‘، صورتحال انتہائی خطرناک رخ اختیار کرسکتی ہے، جنرل (ر) زاہد محمود

جمعرات 17 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان کے سینیئر دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل (ریٹائرڈ) زاہد محمود نے کہا ہے کہ مقدس شہر مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون حملہ پاکستان کے لیے ’سپر ریڈ لائن‘ ہے، جسے چھونے کی کوشش خطے کو انتہائی خطرناک اور تباہ کن ماحول کی طرف لے جاسکتی ہے۔

وی نیوز کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے دوران مختلف گروہ اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کررہے ہیں، جبکہ موجودہ صورتحال جنگ کے پھیلاؤ اور مزید کشیدگی کے امکانات پیدا کررہی ہے۔ ان کے مطابق اس ماحول میں ایسے عناصر بھی واقعات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں جو اپنے توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: سعودیہ کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے، پاکستان کا حوثی حملوں پر سعودی عرب سے اظہار یکجہتی

پاکستان کے لیے غیر معمولی حساس معاملہ

جنرل زاہد محمود کا کہنا تھا کہ پاکستان کے لیے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ محض مقدس مقامات نہیں بلکہ قومی اور نظریاتی وابستگی کا مرکز ہیں۔ پاکستان کی نظریاتی وابستگی، ریاست کے مقصد اور اسلام کے قلعے کی حیثیت کو دیکھتے ہوئے ان مقامات پر حملہ ہر پاکستانی کو شدید متاثر کرتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ موجودہ ماحول میں پاکستان کے عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مختلف واقعات کہاں سے جنم لے رہے ہیں اور ان کے پیچھے کیا عوامل ہوسکتے ہیں، تاکہ پاکستان اس معاملے پر متحد مؤقف برقرار رکھ سکے۔

ان کے مطابق پاکستان اپنے دفاع اور مقدس مقامات کے تحفظ کے معاملے میں متحد مؤقف رکھتا ہے، مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون حملے کی کوشش انتہائی خطرناک پیشرفت ہے اور یہ صورتحال ایسے تباہ کن ماحول کا باعث بن سکتی ہے جس پر بعد میں قابو پانا مشکل ہوجائے۔

جنرل زاہد محمود نے کہاکہ سعودی عرب نے ایران اور امریکا کے درمیان تنازع کے دوران ماضی قریب میں تحمل کا مظاہرہ کیا، اور پاکستان کی فوجی قیادت سمیت پاکستان نے بھی اس تحمل کے لیے اہم کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق سعودی عرب تک یہ رویہ محدود نہیں رہا بلکہ قطر، کویت، عمان اور دیگر خلیجی ممالک نے بھی پاکستان کی درخواست اور وضاحت پر تحمل کا مظاہرہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اپنے دوست ممالک سے رابطے میں ہے۔ سعودی قیادت کی مصر سے بھی بات چیت جاری ہے جبکہ امریکا کے ساتھ بھی رابطہ موجود ہے۔ امریکا کی جانب سے بھی اس واقعے پر ردعمل کا امکان ہے، کیونکہ اس معاملے کا تعلق آبنائے ہرمز میں جاری صورتحال سے بھی جڑتا ہے۔

’کشیدگی سے کئی ممالک متاثر، جنگ پھیل سکتی ہے‘

جنرل زاہد محمود نے کہاکہ مصر بھی موجودہ صورتحال سے متاثر ہونے والا اہم ملک ہے۔ ان کے مطابق نہر سویز کی آمدن پہلے تقریباً 10 ارب ڈالر سالانہ کی سطح پر تھی جو کم ہوکر تقریباً 4 ارب ڈالر رہ گئی ہے، جبکہ مصر کو نہر سویز سے ماہانہ تقریباً 800 ملین ڈالر آمدن ہوتی ہے۔

انہوں نے کہاکہ باب المندب میں کشیدگی کے اثرات نہر سویز تک پہنچ سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں بحیرہ احمر، بحیرہ روم اور یورپ بھی متاثر ہوں گے۔ ان کے مطابق برطانیہ بھی اس صورتحال سے متاثر ہونے والا ملک ہے اور اگر کشیدگی برقرار رہی تو اس کے جنگ میں شامل ہونے کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

’پاکستان کی امن کوششیں ختم نہیں ہوئیں‘

جنرل زاہد محمود نے کہاکہ خطے میں امن کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی بڑی کوششیں موجودہ حملوں سے ختم نہیں ہوئیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی سفارت کاری محض رسمی یا نمائشی کوشش نہیں بلکہ ایک باقاعدہ عمل ہے جو اب بھی برقرار ہے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان نے امن کے عمل کو مخلصانہ طور پر آگے بڑھایا ہے اور اس عمل کے ساتھ پاکستان کی وفاداری بھی برقرار ہے۔ پاکستان اپنے تعلقات اور اثرورسوخ کو امن کے لیے استعمال کررہا ہے۔

’پاکستان چین، امریکا، سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور ایران سمیت مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات کو سفارتی کوششوں کے لیے استعمال کررہا ہے۔‘

’پاکستان کی ثالثی اور اور اثرورسوخ اہم ہے‘

جنرل زاہد محمود نے کہاکہ پاکستان کا سب سے بڑا اقدام، سب سے بڑا ہتھیار اور سب سے بڑا اثرورسوخ اس کا ثالثی کا کردار ہے۔ ان کے مطابق اگر پاکستان جیسا ملک بھی حکمت عملی کے اعتبار سے الجھن کا شکار ہوجائے، جذباتی ہوجائے، مایوس ہوجائے یا ضرورت سے زیادہ جوش میں آجائے تو اس سے سفارت کاری کو نقصان پہنچے گا۔

انہوں نے کہاکہ سفارتی نقصان کی تلافی بہت مشکل ہوتی ہے، اس لیے پاکستان کو اپنی سفارتی پوزیشن اور ثالثی کے کردار کو برقرار رکھنا ہوگا۔

ان کے مطابق اگر امریکا اور ایران سنجیدگی سے اس تنازع کو حل کرنا چاہیں گے تو بالآخر انہیں مذاکرات اور مفاہمت کی طرف آنا ہوگا۔

انہوں نے کہاکہ فوجی کارروائیاں، جنگ میں اضافہ اور ریاستی مفادات کا تحفظ بالآخر سفارت کاری اور سیاست کے ذریعے ہی آگے بڑھتا ہے۔

’مکہ معاہدے کا بنیادی ستون اجتماعی دفاع‘

جنرل زاہد محمود نے کہاکہ پاکستان اپنے معاہدے کی روح اور بنیادی مقصد کے مطابق سعودی عرب اور ترکیہ کے ساتھ کھڑا ہے اور اس معاملے میں وفاداری، اخلاص اور اصولی کردار کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

ان کے مطابق معاہدے کا بنیادی ستون اجتماعی دفاع ہے۔ اگر دفاعی نظام ناکام ہورہا ہو تو اجتماعی سلامتی کے تقاضے سامنے آتے ہیں، تاہم پاکستان اس صورتحال کو سفارت کاری اور ثالثی کے ذریعے روکنے کی کوشش کررہا ہے تاکہ خطہ اس تباہ کن راستے پر آگے نہ بڑھے۔

انہوں نے کہاکہ پاکستان اس وقت جنگ روکنے کے لیے سنجیدہ کوششیں کررہا ہے اور پاکستانی عسکری قیادت بھی تمام متعلقہ فریقوں سے رابطے میں ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کی قیادت خطے اور دنیا کے مختلف حصوں میں تمام متعلقہ فریقوں کے ساتھ سنجیدگی سے رابطے کررہی ہے۔

’موجودہ صورتحال انتہائی سنگین ہے، خصوصاً مکہ مکرمہ کی جانب ڈرون حملے کی کوشش ایک سنجیدہ خلاف ورزی ہے، تاہم پاکستان کی اولین کوشش یہی ہوگی کہ معاملے کو سفارتی طور پر حل کیا جائے۔‘

’جنگ کے معاشی اثرات صرف تیل تک محدود نہیں‘

علاقائی کشیدگی کے عالمی معیشت پر اثرات کے حوالے سے جنرل زاہد محمود نے کہاکہ صورتحال کے اثرات بہت بڑے پیمانے پر مرتب ہورہے ہیں۔ مسئلہ صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہا بلکہ خوراک اور زراعت بھی متاثر ہونا شروع ہوگئی ہے۔

انہوں نے کہاکہ امریکا جیسے ممالک بھی ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے شدید متاثر ہیں اور وہاں ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ان حالات میں عالمی معیشت کساد بازاری کی طرف جاسکتی ہے۔

جنرل زاہد محمود کے مطابق اگر یہی معاشی ماحول برقرار رہا تو پوری دنیا ایسے بحران میں داخل ہوسکتی ہے جس سے نکلنا آسان نہیں ہوگا۔

’پاکستان کی قیادت عوام کے جذبات کی ترجمانی کررہی ہے‘

مکہ مکرمہ کے واقعے کے بعد پاکستان میں پیدا ہونے والے غم و غصے کے حوالے سے جنرل زاہد محمود نے کہاکہ پاکستان کی سیاسی اور سفارتی قیادت کے بیانات عوام کے جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔

مزید پڑھیں: حوثیوں کا سعودی عرب پر حملہ پاکستان پر حملہ ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف

ان کے مطابق وزیراعظم پاکستان، نائب وزیراعظم اور وزارت خارجہ کی جانب سے سامنے آنے والے بیانات واضح طور پر پاکستانی عوام کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ مکہ مکرمہ پاکستان کے لیے ’سپر ریڈ لائن‘ ہے۔ جنرل زاہد محمود نے اس معاملے کو آگ سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ خطے میں سرگرم غیر ریاستی عناصر کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ کہیں وہ کسی بڑے تزویراتی منصوبے یا سازش کا حصہ تو نہیں بن رہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سوشل میڈیا کریئیٹرز پر ٹیکس کا نیا طریقہ متعارف: یوٹیوب کے ایک ہزار ویوز پر 195 روپے آمدن شمار ہوگی

خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی ضرورت پڑی تو ضرور لگے گی: فیصل کریم کنڈی

سعودی عرب میں پاک افواج دہائیوں سے متعدد شعبوں میں موجود ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کا سی این این کو انٹرویو

پیٹرول مہنگا، ڈیزل سستا، 8 اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان

سرکاری اور پرائیویٹ حج اسکیم میں بکنگ جاری، 65 ہزار سے زیادہ عازمین نے واجبات جمع کرا دیے

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان ایک پیج پر؟ حکومت کی مذاکرات کی آفر ایک ٹریپ

’پانی اور واش روم کی سہولت نہیں، مٹی پر سوتے ہیں‘، لانگ مارچ میں شامل پی ٹی آئی کارکنان رات کیسے گزارتے ہیں؟

متنی کے عوام پانی، صحت اور تعلیم کو ترس گئے، مگر خیبرپختونخوا حکومت کی ترجیحات جلسے، جلوس اور لانگ مارچ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف! رک جاؤ

سات سالہ حبیبہ کے اسکول سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر

37 گیندیں، جب آفریدی افسانہ بنا