حنا دلپذیر ‘بلبلے’ میں صرف ایک قسط کے لیے آئی تھیں، عائشہ عمر

جمعرات 17 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستانی اداکارہ عائشہ عمر نے انکشاف کیا ہے کہ مقبول کامیڈی ڈراما ‘بلبلے’ میں حنا دلپذیر کا مشہور کردار مومو ابتدا میں مستقل کردار نہیں تھا بلکہ انہیں صرف ایک قسط کے لیے مہمان اداکار کے طور پر بلایا گیا تھا۔

عائشہ عمر نے بدھ کو ‘گڈ مارننگ پاکستان’ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘بلبلے’ جب 2009 میں نشر ہوا تو اس کی کہانی اور کردار آج کے شو سے بالکل مختلف تھے۔ ابتدائی طور پر کاسٹ میں نبیل ظفر، عائشہ عمر اور محمود اسلم شامل تھے اور پہلے 26 اقساط ہی بنانے کا منصوبہ تھا۔

یہ بھی پڑھیں: نبیل ظفر نے اداکاروں کے لیے رائلٹی نظام کا مطالبہ کردیا

ان کے مطابق حنا دلپذیر کو نبیل کی والدہ کا کردار ادا کرنے کے لیے ایک قسط میں بلایا گیا، تاہم مومو کا کردار ناظرین میں اتنا مقبول ہوا کہ اس قسط کو غیر معمولی پذیرائی اور ریٹنگز ملیں، جس کے بعد حنا دلپذیر کو مستقل کردار کے طور پر شامل کرلیا گیا۔

 

View this post on Instagram

 

A post shared by ARY Digital (@arydigital.tv)

عائشہ عمر نے بتایا کہ حنا دلپذیر کی شمولیت کے بعد کہانی میں بھی بڑی تبدیلی آئی۔ ابتدا میں تینوں مرکزی کردار ایک اپارٹمنٹ میں ایک ہی چھت تلے رہتے تھے اور شادی کا کوئی تصور نہیں تھا، لیکن مومو کی آمد کے بعد نبیل اور خوبصورت کی شادی ہوئی، پھر مومو کی محمود صاحب سے شادی ہوگئی اور یوں کہانی ایک خاندان کے گرد گھومنے لگی۔

یہ بھی پڑھیں: اکیلی ماں اور طلاق یافتہ زندگی، حنا دلپذیر نے مشکلات کا مقابلہ کیسے کیا؟

انہوں نے مزید بتایا کہ وہ خود بھی ‘بلبلے’ کو طویل عرصے تک جاری رکھنے کے ارادے سے شامل نہیں ہوئی تھیں کیونکہ ان کی والدہ کو ان کے کردار سے کچھ تحفظات تھے، تاہم حنا دلپذیر کی شمولیت کے بعد انہوں نے شو میں رہنے کا فیصلہ کیا۔

‘بلبلے’ اب اپنے 17ویں سال میں داخل ہوچکا ہے اور گزشتہ برس اس نے اپنی 16ویں سالگرہ منائی تھی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران جنگ کے معاشی جھٹکے، ترقی پذیر ممالک اخراجات کم کریں، آئی ایم ایف

کرکٹ ورلڈ کپ 2027 کے ٹکٹوں کی ریکارڈ طلب، ڈیڑھ کروڑ سے زائد درخواستیں موصول

روسی وزیر داخلہ کا اسلام آباد پولیس لائنز اور پاکستان مونومنٹ کا دورہ، پاکستانی پرچم کو بوسہ بھی دیا

بحیرۂ اسود میں تجارتی جہازوں پر حملے، بلغاریہ کا روسی سفیر کو طلب کرنے کا فیصلہ

صارفین کو 1.2 ارب روپے کا ریلیف، بینکنگ محتسب نے 29 ہزار سے زائد شکایات نمٹا دیں

ویڈیو

دہشتگردی کے خلاف ایک ملک میں 2 پالیسیاں نہیں چل سکتیں، اعظم نذیر تارڑ اور عطا اللہ تارڑ کی مشترکہ بریفنگ

3 مرتبہ حکومت کے باوجود پی ٹی آئی دیر، پشاور موٹروے بنانے میں ناکام، عوام کا احتجاج

میری بیٹی ڈاکٹر عبد القدیر خان جیسی سائنسدان بننا چاہتی تھی، کاش! میں نے ایجنٹ کی تصدیق کر لی ہوتی، لائبہ کے والد کی دردناک روداد

کالم / تجزیہ

پیپلز پارٹی کہاں کھڑی ہے؟

میری موت، میری مرضی

کیا پی ٹی آئی مولانا فضل الرحمان سے کچھ سیکھ پائے گی؟