پاکستانی اداکارہ عائشہ عمر نے انکشاف کیا ہے کہ مقبول کامیڈی ڈراما ‘بلبلے’ میں حنا دلپذیر کا مشہور کردار مومو ابتدا میں مستقل کردار نہیں تھا بلکہ انہیں صرف ایک قسط کے لیے مہمان اداکار کے طور پر بلایا گیا تھا۔
عائشہ عمر نے بدھ کو ‘گڈ مارننگ پاکستان’ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ‘بلبلے’ جب 2009 میں نشر ہوا تو اس کی کہانی اور کردار آج کے شو سے بالکل مختلف تھے۔ ابتدائی طور پر کاسٹ میں نبیل ظفر، عائشہ عمر اور محمود اسلم شامل تھے اور پہلے 26 اقساط ہی بنانے کا منصوبہ تھا۔
یہ بھی پڑھیں: نبیل ظفر نے اداکاروں کے لیے رائلٹی نظام کا مطالبہ کردیا
ان کے مطابق حنا دلپذیر کو نبیل کی والدہ کا کردار ادا کرنے کے لیے ایک قسط میں بلایا گیا، تاہم مومو کا کردار ناظرین میں اتنا مقبول ہوا کہ اس قسط کو غیر معمولی پذیرائی اور ریٹنگز ملیں، جس کے بعد حنا دلپذیر کو مستقل کردار کے طور پر شامل کرلیا گیا۔
View this post on Instagram
عائشہ عمر نے بتایا کہ حنا دلپذیر کی شمولیت کے بعد کہانی میں بھی بڑی تبدیلی آئی۔ ابتدا میں تینوں مرکزی کردار ایک اپارٹمنٹ میں ایک ہی چھت تلے رہتے تھے اور شادی کا کوئی تصور نہیں تھا، لیکن مومو کی آمد کے بعد نبیل اور خوبصورت کی شادی ہوئی، پھر مومو کی محمود صاحب سے شادی ہوگئی اور یوں کہانی ایک خاندان کے گرد گھومنے لگی۔
یہ بھی پڑھیں: اکیلی ماں اور طلاق یافتہ زندگی، حنا دلپذیر نے مشکلات کا مقابلہ کیسے کیا؟
انہوں نے مزید بتایا کہ وہ خود بھی ‘بلبلے’ کو طویل عرصے تک جاری رکھنے کے ارادے سے شامل نہیں ہوئی تھیں کیونکہ ان کی والدہ کو ان کے کردار سے کچھ تحفظات تھے، تاہم حنا دلپذیر کی شمولیت کے بعد انہوں نے شو میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
‘بلبلے’ اب اپنے 17ویں سال میں داخل ہوچکا ہے اور گزشتہ برس اس نے اپنی 16ویں سالگرہ منائی تھی۔













