کیا انسانی دماغ 2 الگ اعضا پر مشتمل ہے؟ نئی تحقیق کے نتائج سامنے آگئے

اتوار 20 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نئی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ انسانی دماغ ایک عضو کے بجائے 2 الگ اعصابی نظام پر مشتمل ہوسکتا ہے، جو جنینی مرحلے کے دوران مختلف خلیاتی گروہوں سے تشکیل پاتے ہیں۔

اسٹینفورڈ میڈیسن کی قیادت میں ہونے والی تحقیق کے مطابق ‘نیچر نیوروسائنس’ میں شائع ہونے والے مطالعے میں سائنسدانوں نے دریافت کیا کہ دماغ کے اگلے اور پچھلے حصے جنین کی نشوونما کے دوران الگ الگ ابتدائی خلیوں سے تشکیل پاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:اے آئی ماڈل میں انسانی دماغ سے مشابہ نظام کا انکشاف

تحقیق کے مطابق خلیوں کے ایک گروپ میں او ٹی ایکس 2 جین فعال تھا، جو دماغ کے اگلے اور درمیانی حصے کی تشکیل کرتا ہے، جبکہ دوسرے گروپ میں جی بی ایکس 2 جین پایا گیا، جو دماغ کے پچھلے حصے کی تشکیل کرتا ہے۔

دماغ کا پچھلا حصہ سانس لینے، دل کی دھڑکن، نیند اور بھوک سمیت جسم کے کئی اہم افعال کو کنٹرول کرنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ دونوں خلیاتی گروہوں نے نشوونما کے دوران الگ الگ راستے اختیار کیے اور ایک دوسرے سے نہیں ملے۔

سائنسدان کئی دہائیوں سے انسانی دماغ کے پچھلے حصے کے اعصابی خلیات لیبارٹری میں تیار کرنے کی کوشش کر رہے تھے، جس میں مشکلات کے باعث ریڑھ کی ہڈی کے عضلاتی کمزوری اور اے ایل ایس جیسی بیماریوں پر تحقیق محدود رہی۔

تحقیق کے دوران لیبارٹری میں تیار کیے گئے اعصابی خلیوں میں برقی سرگرمی دیکھی گئی اور ان میں دماغ کے پچھلے حصے کے خلیوں سے متعلق مخصوص پروٹین بھی پیدا ہوئے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ خلیے دماغی تنے سے متعلق بیماریوں کے مطالعے کے لیے ایک نیا ماڈل فراہم کرسکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پہلی بار انسانی دماغ کے خلیوں کا جامع نقشہ تیار، کونسی بیماریوں پر قابو پایا جاسکے گا؟

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ دماغ کے 2 مختلف خلیاتی ذرائع سے تشکیل پانے کا یہ انداز کروڑوں سال کے ارتقائی عمل میں بھی موجود رہا ہے۔ سائنسدانوں نے مرغیوں، زیبرا فش اور ایکورن ورمز سمیت مختلف جانداروں میں اس طرز کے شواہد دریافت کیے۔

محققین کے مطابق یہ نتائج ریڑھ کی ہڈی کے عضلاتی کمزوری، اے ایل ایس اور دیگر اعصابی بیماریوں کے علاج پر تحقیق میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ سائنسدانوں نے یہ بھی بتایا کہ دماغ کے پچھلے حصے میں بھوک کو کنٹرول کرنے والے اعصابی نظام موجود ہیں، جس سے موٹاپے کے علاج کے لیے بھی نئی تحقیق کی راہیں کھل سکتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp