وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی پرتشدد گروہ کو اسلام آباد آنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے عطااللہ تارڑ نے کہاکہ امن و امان برقرار رکھنا اور احتجاج کے دوران کسی بھی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہونے دینا حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کے عزائم واضح ہونے لگے، جنید اکبر کی اسلام آباد کو سومناتھ بنانے کی دھمکی
ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی جانب سے سڑکیں بند کرنے اور عوام کی نقل و حرکت میں خلل ڈالنے کے حوالے سے واضح احکامات موجود ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ساری سڑکیں کھلی رہیں گی اور مظاہرین کو ایسے طریقے سے دارالحکومت پہنچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی جس سے عوام کی آمدورفت متاثر ہو۔
جماعت اسلامی کا اسلام آباد کی جانب مارچ شروع
عطااللہ تارڑ کا انتباہ اس وقت سامنے آیا جب جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی جانب ’سپر لانگ مارچ‘ کا آغاز کر دیا ہے۔
جماعت اسلامی کے کارکن ملک کے مختلف حصوں سے سڑکوں اور ریل کے ذریعے وفاقی دارالحکومت کی طرف روانہ ہو رہے ہیں۔
جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ پارٹی کی حکمت عملی کے مطابق لوگوں نے اسلام آباد کی جانب سفر شروع کردیا ہے، جبکہ پنجاب اور ملک کے دیگر علاقوں میں کارکنوں کو متحرک کرنے کا عمل جاری ہے۔
انہوں نے کہاکہ لوگ مختلف ذرائع سے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں، سڑکوں کے ذریعے قافلے روانہ ہو چکے ہیں، جبکہ ٹرین کے ذریعے سفر کا سلسلہ بھی شروع ہورہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان کے مطابق خیبر اور دیگر علاقوں سے بھی مارچ شروع ہوں گے، جبکہ پنجاب کے مختلف شہروں میں موجود کارکنوں کو بھی متحرک کیا جا رہا ہے۔
جماعت اسلامی کے امیر نے کہاکہ یہ مارچ جماعت یا اس کی قیادت کے لیے نہیں بلکہ غریب اور متوسط طبقے کو درپیش مشکلات اجاگر کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
ان کے بقول حکومتی پالیسیوں اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث عوام کے لیے بنیادی ضروریات پوری کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ سفید پوش طبقے کو قرضوں کے بوجھ تلے دھکیلا جارہا ہے اور لوگ گھریلو اخراجات پورے کرنے کے لیے ادھار لینے پر مجبور ہیں۔
انہوں نے الزام عائد کیاکہ موجودہ معاشی نظام سے طاقتور کاروباری مفادات فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ان مفادات کا تعلق بینکوں، آئل مارکیٹنگ کمپنیوں، ریفائنریوں، آٹے اور چینی کے کاروبار سے ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ مافیا ہے جو پاکستان بھر میں عوام کا استحصال کر رہا ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہاکہ اگر اس مہم کو صرف سوشل میڈیا تک محدود رکھا گیا تو صورتحال اسی طرح برقرار رہے گی۔
ان کے مطابق اس کا واحد راستہ میدان میں نکلنا ہے، اسی لیے جماعت اسلامی نے سڑکوں پر احتجاجی سرگرمیاں جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جماعت اسلامی ملک بھر میں 36 سے 37 روز سے دھرنے دے رہی ہے، جن میں کراچی میں گورنر ہاؤس کے باہر 35 روزہ دھرنا بھی شامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ دیگر مقامات پر بھی دھرنے جاری ہیں اور یہ تحریک سندھ بھر میں پھیل چکی ہے۔
پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کے خاتمے کا مطالبہ
جماعت اسلامی کے مارچ کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی واپس لینا ہے۔ جماعت کا مؤقف ہے کہ جب تک پٹرولیم لیوی ختم نہیں کی جاتی، اس کی احتجاجی مہم جاری رہے گی۔
حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان اس معاملے پر مذاکرات کے پانچ ادوار ہوئے، تاہم ہفتے کے روز ہونے والی بات چیت بھی کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئی۔
حکومتی وفد نے سیکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے جماعت اسلامی سے مارچ مؤخر کرنے کی درخواست کی تھی، لیکن جماعت نے لیوی واپس لیے جانے تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
اس کے بعد جماعت اسلامی نے اسلام آباد کی جانب مارچ کا منصوبہ برقرار رکھا۔
اتوار کو کراچی سے مارچ کا آغاز کردیا گیا ہے، جبکہ حافظ نعیم الرحمٰن نے ٹرین کے ذریعے روانہ ہونے والے قافلے کی قیادت کی۔
حافظ نعیم اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ جماعت اسلامی مارچ کے دوران سڑکیں بند نہیں کرے گی اور اسلام آباد جانے کا مقصد کسی سے تصادم نہیں بلکہ عوام کے لیے ریلیف حاصل کرنا ہے۔
وزیراعظم کی فیول ریلیف اسکیم
دوسری جانب حکومت نے عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متاثرہ افراد کو ٹارگٹڈ ریلیف فراہم کرنے کے لیے وزیراعظم فیول ریلیف اسکیم متعارف کرائی ہے۔
عطااللہ تارڑ نے کہاکہ علاقائی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے بروقت ہدایات جاری کیں۔
انہوں نے کہاکہ وزیراعظم نے خود اسکیم کی نگرانی کی، جبکہ وزارت اطلاعات و ٹیکنالوجی کے تعاون سے رجسٹریشن کا عمل مکمل کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایس ایم ایس کے ذریعے رجسٹریشن کی سہولت مفت کر دی گئی ہے، جبکہ ایک ٹوکن پر پانچ لیٹر پٹرول حاصل کرنے کی سابقہ شرط بھی ختم کر دی گئی ہے۔
عطااللہ تارڑ نے کہا کہ تمام صوبائی حکومتوں نے اسکیم کی حمایت کی ہے اور عملدرآمد کے سلسلے میں وفاقی حکومت کے ساتھ تعاون کر رہی ہیں۔
وزیر اطلاعات کے مطابق فیول ریلیف اسکیم کے لیے 22 لاکھ سے زائد افراد رجسٹریشن کرا چکے ہیں، جن میں 92 فیصد موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ استعمال کرنے والے افراد شامل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک ہی دن میں 5 لاکھ 57 ہزار سے زائد رجسٹریشنز ہوئیں، جبکہ تقریباً 19 لاکھ فیول ٹوکن جاری کیے جا چکے ہیں۔
ان کے مطابق ان میں سے تقریباً 18 لاکھ ٹوکن موٹر سائیکل، چنگ چی اور رکشہ استعمال کرنے والوں کو جاری کیے گئے، جبکہ 800 سی سی تک انجن رکھنے والی گاڑیوں کے مالکان کو ایک لاکھ 52 ہزار ٹوکن فراہم کیے گئے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ صرف گزشتہ روز 5 لاکھ 45 ہزار سے زائد ٹوکن جاری کیے گئے۔
حکومت نے موٹر سائیکلوں، چنگ چی رکشوں اور رکشوں کے لیے ملکیت کی شرط بھی ختم کر دی ہے، تاکہ ان گاڑیوں کو حقیقتاً استعمال کرنے والے افراد اسکیم سے فائدہ اٹھا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ رجسٹریشن کے لیے اسمارٹ فون ضروری نہیں، کیونکہ متعلقہ گاڑی اور شناختی تفصیلات کے ذریعے ایس ایم ایس پر یہ عمل مکمل کیا جا سکتا ہے۔
فیول اسکیم کی نگرانی کے لیے کنٹرول روم قائم
عطااللہ تارڑ نے بتایا کہ حکومت نے اسکیم کی حقیقی وقت میں نگرانی کے لیے الگ تکنیکی نظام قائم کیا ہے۔ پیٹرول پمپس اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو بھی اس نظام میں شامل کر لیا گیا ہے، جبکہ مستحق افراد کی رہنمائی کے لیے پیٹرول اسٹیشنز پر بینرز اور آگاہی مواد نصب کیا گیا ہے۔
وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی نے نگرانی کے لیے کنٹرول روم اور وار روم قائم کیے ہیں، جہاں رجسٹریشن اور ٹوکن کے استعمال سے متعلق اعداد و شمار مسلسل جمع کیے جا رہے ہیں۔
وزیر اطلاعات کے مطابق اس نظام کے ذریعے حکومت یہ معلوم کر سکتی ہے کہ ٹوکن کہاں استعمال ہو رہے ہیں، جبکہ اسکیم پر چوبیس گھنٹے نظر رکھی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسکیم سے متعلق شکایات موصول ہو رہی ہیں جن کا ازالہ کیا جا رہا ہے۔ عوام کو رجسٹریشن اور ٹوکن کے طریقہ کار سے آگاہ کرنے کے لیے آگاہی مہم اور تربیتی ویڈیوز بھی شروع کی گئی ہیں۔
عطااللہ تارڑ کے مطابق وزارت آئی ٹی، وزارت اطلاعات، وزارت پٹرولیم، اوگرا اور وزیراعظم آفس سمیت متعلقہ ادارے اسکیم پر عمل درآمد کے لیے باہمی رابطے میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عوامی ردعمل کی روشنی میں اسکیم میں تبدیلیاں کی گئی ہیں اور اس کا مقصد معاشرے کے ’سب سے زیادہ مستحق‘ طبقات کو ریلیف فراہم کرنا ہے۔
تاہم جماعت اسلامی کا مؤقف ہے کہ فیول ریلیف پیکیج اس کے بنیادی مطالبے، یعنی پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی کے خاتمے کو پورا نہیں کرتا، اسی لیے جماعت نے احتجاجی مہم اور اسلام آباد کی جانب مارچ جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔













