امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کو ’آرٹیفیشل انٹیلیجنس‘ کہنے پر اعتراض کرتے ہوئے اسے ’سپر انٹیلیجنس‘ یعنی ایس آئی کا نام دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’مصنوعی ذہانت‘ کی اصطلاح اس ٹیکنالوجی کو غیر حقیقی احساس سے ہمکنار کراتی ہے، اس لیے اسے ’سپر انٹیلیجنس‘ کہا جانا چاہیے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اب سے امریکا کی تمام دستاویزات اور امید ہے کہ دنیا بھر میں بھی، مصنوعی کے بجائے زیادہ درست اصطلاح ’سپر‘ استعمال کی جائے گی، یعنی سپر انٹیلیجنس۔
یہ بھی پڑھیں: میٹا کی ’سپرانٹیلیجنس لیب‘ کو دھچکا، ایلون مسک نے 18 اے آئی انجینیئرز ہتھیا لیے
امریکی صدر نے گزشتہ ہفتے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اے آئی کے نئے نام کے لیے مختلف تجاویز پر رائے شماری بھی کرائی تھی، جن میں ’سپیریئر انٹیلیجنس‘، ’ایکسٹریم انٹیلیجنس‘ اور ’سپریم انٹیلیجنس‘‘ شامل تھیں، متعدد پولز کے بعد ’سپر انٹیلیجنس‘ کو سب سے زیادہ حمایت حاصل ہوئی۔
Many people think that the words “Artificial Intelligence” are inaccurate, and very ineloquent, relative to AI, or Artificial Intelligence. A far more elegant and accurate description of this new phenomena would be Superior Intelligence (SI) or, Extreme Intelligence (EI) or,… pic.twitter.com/8NZbKzxfL3
— Commentary Donald J. Trump Truth Social Posts On X (@TrumpTruthOnX) September 19, 2026
تاہم میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹیکنالوجی کے ماہرین نے اس نام کی مقبولیت کے امکانات پر شکوک کا اظہار کیا ہے، ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی کی دنیا میں ’سپر انٹیلیجنس‘ پہلے ہی ایک مخصوص تصور کے لیے استعمال ہوتی ہے، جس سے مراد ایسی ذہانت ہے جو انسانی صلاحیتوں سے ہر شعبے میں آگے ہو۔
یونیورسٹی آف میلبورن کے ڈیجیٹل ایتھکس کے لیکچرر سائمن کوگلن نے کہا کہ اے آئی کو ’سپر انٹیلیجنس‘ کہنا موجودہ ٹیکنالوجی کی صلاحیتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے مترادف اور گمراہ کن ہے۔
ان کے مطابق موجودہ اے آئی نظاموں کو سپر انٹیلیجنس قرار نہیں دیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: ایلون مسک نے اے آئی کو ’سپر سونک سونامی‘ قرار دے دیا، ان کی وارننگ کیا ہے؟
کمپیوٹر سائنس دان کوکل جیدکا نے بھی کہا کہ نئی اصطلاح ایسے لفظ کی شہرت اور وقار سے فائدہ اٹھاتی ہے جسے محققین اس سے کہیں بڑی تکنیکی پیش رفت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
نیشنل یونیورسٹی آف سنگاپور کے کمپیوٹر سائنس کے لیکچرر بین لیونگ نے بھی کہا کہ ماہرین ممکنہ طور پر ’ایس آئی‘ کی اصطلاح کو اے آئی کی مستقبل میں زیادہ ترقی یافتہ سطح کے لیے محفوظ رکھنا چاہیں گے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت کے ایجنٹس نے اپنے لیے فیسبک کی طرز کا ‘مولٹ بُک’ بنا ڈالا، مذہب بھی تشکیل دیدیا
دوسری جانب ٹرمپ کے قریبی حلقوں میں نئی اصطلاح کا استعمال شروع ہو گیا ہے، امریکی چیف ٹیکنالوجی آفیسر ایتھن کلائن نے سوشل میڈیا پر کہا کہ صدر نے ’سپر انٹیلیجنس‘ کا تصور پیش کر دیا ہے اور امریکا اس شعبے میں عالمی قیادت برقرار رکھے گا۔
اقوام متحدہ میں امریکی سفیر مائیکل والٹز نے بھی ٹرمپ کے خطاب کے بعد کہا کہ اب اسے ’سپر انٹیلیجنس‘ کہا جائے گا اور انہوں نے صدر کے مؤقف کی حمایت کی۔
تاہم کینیڈا کے وزیر برائے مصنوعی ذہانت ایون سولومن نے نئی اصطلاح کے حوالے سے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈین کسی چیز کے نام تبدیل کرنے کے حوالے سے زیادہ پرجوش نہیں ہیں۔
مزید پڑھیں: اے آئی کا نیا کمال، میڈیکل طلبہ کی تربیت کے لیے فرضی مریضوں کا استعمال
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اعلیٰ عہدیدار اور محققین اے آئی کے ممکنہ خطرات کے پیش نظر امریکی حکومت سے شعبے کو منظم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ ماضی میں اے آئی پر سخت ضابطوں کی مخالفت کرتے رہے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ امریکا کو چین پر تکنیکی برتری برقرار رکھنے کے لیے اے آئی کی ترقی میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔
مزید پڑھیں: مصنوعی ذہانت سے ریسرچرز کی جاب کو سب سے زیادہ خطرہ، حیران کن دعویٰ
ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اس وقت چین سے اے آئی کے شعبے میں بہت آگے ہے اور یہ برتری برقرار رکھی جائے گی۔
ان کے مطابق امریکا ایسی ٹیکنالوجی کی ترقی کو نہیں روکے گا جو صنعتی انقلاب سے بھی بڑی ثابت ہو سکتی ہے، تاہم ضرورت پڑنے پر حکومت اس شعبے کو منظم کرے گی۔
امریکی صدر رواں ہفتے چینی صدر شی جن پنگ سے بھی ملاقات کرنے والے ہیں، جس میں دنیا کی 2 بڑی معیشتوں کے درمیان اے آئی کا معاملہ بھی زیر بحث آنے کی توقع ہے۔













