عراق کے دارالحکومت بغداد اور عمان کے دارالحکومت مسقط کے ہوائی اڈوں کی انتظامیہ نے ایرانی پروازوں کو قبول نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے ’تسنیم‘ کے مطابق بغداد اور مسقط کے ہوائی اڈے مقامی وقت کے مطابق اب ایران سے آنے والی پروازیں قبول نہیں کریں گے، جبکہ ایرانی حکام نے بغداد جانے والی پروازوں کو عراق کے شہر نجف منتقل کرنے کے لیے رابطے شروع کر دیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے 23 ستمبر سے دنیا بھر میں تمام ایرانی ایئرلائنز کی سرگرمیاں بند کردی جائیں گی، امریکی وزیر خزانہ
ایران کی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کے ترجمان کے مطابق بغداد کے لیے شیڈول پروازوں کو نجف ایئرپورٹ منتقل کرنے کے لیے عراقی حکام سے رابطہ کیا جا رہا ہے۔ تاہم استنبول سمیت ایران سے جانے والی دیگر بین الاقوامی پروازیں فی الحال معمول کے مطابق جاری رہیں گی اور ان میں کسی تعطل کی اطلاع نہیں ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکی پابندیوں کے باعث ایرانی فضائی کمپنیوں پر بیرونِ ملک دباؤ بڑھ رہا ہے۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے خبردار کیا ہے کہ ایرانی طیاروں کو ایندھن، لینڈنگ اور دیگر زمینی سہولیات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو امریکی مالیاتی نظام سے خارج کیا جا سکتا ہے۔
واشنگٹن کا الزام ہے کہ ایرانی کمرشل ایئرلائنز ہتھیاروں اور جنگجوؤں کی منتقلی میں معاونت کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے مجھے فیصلہ کرنا ہے ایران کو تباہ کروں یا دوبارہ پنپنے کا موقع دوں، ڈونلڈ ٹرمپ کا جنرل اسمبلی میں خطاب
دوسری جانب ایران کی قومی ایئرلائن ’ایران ایئر‘ نے کہا ہے کہ اسے ترکیہ، آذربائیجان یا عراق کی جانب سے استنبول، باکو اور نجف کے لیے پروازیں روکنے سے متعلق کوئی سرکاری اطلاع نہیں ملی۔
ایران ایئر کے مطابق اسے متعلقہ سول ایوی ایشن حکام کی جانب سے پروازیں معطل کرنے کی کوئی ہدایت موصول نہیں ہوئی۔ تاہم جارجیا پہلے ہی ایرانی فضائی کمپنیوں پر اپنی حدود میں پابندی عائد کر چکا ہے، جبکہ ایرانی ایئرلائن ’ماہان ایئر‘ نے بھی ترک حکومت کی درخواست پر ترکیہ کے لیے سروس معطل کرنے کی تصدیق کی ہے۔














