ترک صدر رجب طیب اردوان نے کشمیر کے مسئلے سمیت جنوبی ایشیا کے دیگر تنازعات کو اقوام متحدہ کے منشور اور متعلقہ عالمی قراردادوں کے مطابق صرف مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا ہے۔
اپنی تقریر میں رجب طیب اردوان نے کہا کہ کشمیر سمیت خطے کے تنازعات کا حل بات چیت اور سفارتی ذرائع سے تلاش کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے منشور اور متعلقہ قراردادوں کو اس عمل کی بنیاد قرار دیا۔
ترک صدر نے غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیلی کارروائیوں پر بھی تنقید کی اور انہیں ’نسل کش ذہنیت‘ اور ’ریاستی دہشتگردی‘ قرار دیا۔ انہوں نے فلسطین کو عالمی سطح پر ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے اور غزہ کی تعمیر نو کے لیے فوری عالمی اقدامات کا مطالبہ کیا۔
یہ بھی پڑھیں:ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ، مقبوضہ کشمیر اسمبلی میں پھر ہنگامہ
اردوان نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اپنی بنیادی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے نظام میں جامع اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مستقل ارکان کے ویٹو کے باعث عالمی تنازعات کے حل کا عمل متاثر نہیں ہونا چاہیے۔
ترک صدر نے یوکرین جنگ کے سفارتی حل، لبنان، سوڈان اور ایران میں سلامتی کی صورتحال سمیت دیگر عالمی مسائل پر بھی گفتگو کی۔
انہوں نے عالمی اقتصادی اور ٹیکنالوجی کے نظام میں بھی تبدیلی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسے شفاف، کھلے اور مساوی سفارتی اصولوں کی بنیاد پر استوار کیا جانا چاہیے۔













