چینی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ڈیپ سیک اور دیگر چینی اے آئی اداروں کو مصنوعی ذہانت سے لاحق خطرات اور عالمی سلامتی کے امور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بریفنگ دینے کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:مصنوعی ذہانت کی کمپنی ’اینتھروپک‘ کلاڈ اے آئی کے لیے اپنی چپ تیار کرے گی
دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق 15 رکنی سلامتی کونسل کا اجلاس نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران ہوگا، جس میں مصنوعی ذہانت اور بین الاقوامی سلامتی پر غور کیا جائے گا۔
ڈیپ سیک کے ساتھ علی بابا کی حمایت یافتہ چینی اے آئی کمپنی مون شاٹ کو بھی سلامتی کونسل میں بیان اور بریفنگ دینے کی دعوت دی گئی ہے۔ ڈیپ سیک کے بانی لیانگ وین فینگ کی ذاتی طور پر اجلاس میں شرکت کا فی الحال امکان نہیں، تاہم ان کا شیڈول تبدیل ہوسکتا ہے۔
Ahead of the UN High-Level Week starting this upcoming Tuesday, the UN chief has identified three “existential threats” requiring world leaders’ utmost attention: runaway artificial intelligence (AI), the climate crisis and deepening inequalities. #UNGAhttps://t.co/mm9JH7Uda9 pic.twitter.com/alQ4SvrmcE
— UN News (@UN_News_Centre) September 20, 2026
رپورٹ کے مطابق اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے معاملے پر امریکا اور چین کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ امریکی اور اقوام متحدہ کے حکام جدید اے آئی نظام کے لیے مربوط حفاظتی اقدامات پر زور دے رہے ہیں، جبکہ چینی سرکاری میڈیا نے اے آئی کی ترقی سست کرنے کی تجاویز کو امریکا کی جانب سے اپنی تکنیکی برتری برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں:مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال، اوریکل نے ایک سال میں 21 ہزار ملازمین فارغ کیے، کمپنی رپورٹ
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکی اور چینی حکام نے اے آئی سیفٹی پر مزید مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی عالمی رہنماؤں کو خبردار کیا ہے کہ تیزی سے ترقی کرتی مصنوعی ذہانت کے خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔













