ڈیپ سیک سمیت چینی اے آئی کمپنیوں کو اقوام متحدہ میں بریفنگ کی دعوت

بدھ 23 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

چینی مصنوعی ذہانت کی کمپنی ڈیپ سیک اور دیگر چینی اے آئی اداروں کو مصنوعی ذہانت سے لاحق خطرات اور عالمی سلامتی کے امور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو بریفنگ دینے کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔

مزید پڑھیں:مصنوعی ذہانت کی کمپنی ’اینتھروپک‘ کلاڈ اے آئی کے لیے اپنی چپ تیار کرے گی

دی نیوز کی رپورٹ کے مطابق 15 رکنی سلامتی کونسل کا اجلاس نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطح اجلاس کے دوران ہوگا، جس میں مصنوعی ذہانت اور بین الاقوامی سلامتی پر غور کیا جائے گا۔

ڈیپ سیک کے ساتھ علی بابا کی حمایت یافتہ چینی اے آئی کمپنی مون شاٹ کو بھی سلامتی کونسل میں بیان اور بریفنگ دینے کی دعوت دی گئی ہے۔ ڈیپ سیک کے بانی لیانگ وین فینگ کی ذاتی طور پر اجلاس میں شرکت کا فی الحال امکان نہیں، تاہم ان کا شیڈول تبدیل ہوسکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اجلاس ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب مصنوعی ذہانت کی عالمی حکمرانی کے معاملے پر امریکا اور چین کے درمیان اختلافات بڑھ رہے ہیں۔ امریکی اور اقوام متحدہ کے حکام جدید اے آئی نظام کے لیے مربوط حفاظتی اقدامات پر زور دے رہے ہیں، جبکہ چینی سرکاری میڈیا نے اے آئی کی ترقی سست کرنے کی تجاویز کو امریکا کی جانب سے اپنی تکنیکی برتری برقرار رکھنے کی کوشش قرار دیا ہے۔

مزید پڑھیں:مصنوعی ذہانت کا بڑھتا استعمال، اوریکل نے ایک سال میں 21 ہزار ملازمین فارغ کیے، کمپنی رپورٹ

دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے کہا ہے کہ امریکی اور چینی حکام نے اے آئی سیفٹی پر مزید مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی عالمی رہنماؤں کو خبردار کیا ہے کہ تیزی سے ترقی کرتی مصنوعی ذہانت کے خطرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp