ہالی ووڈ کے معروف اداکار ٹام کروز نے اپنی نئی فلم ’ڈِگر‘ میں ادا کیے گئے کردار کو انتہائی غیر معمولی اور اپنے سابقہ تمام کرداروں سے مختلف قرار دیا ہے۔
لندن میں فلم کے عالمی پریمیئر کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے ٹام کروز نے کہا کہ ’ڈِگر‘ کا کردار ایسا ہے جو وہ باتیں کہتا ہے جو بعض لوگ سوچتے ہیں، جبکہ کچھ لوگ ایسی باتوں کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔
یہ بھی پڑھیں: 64 سال کی عمر میں بھی ٹام کروز اتنے فِٹ کیسے ہیں؟ اداکار نے اپنی فٹنس کا راز بتا دیا
ان کے بقول انہوں نے اس سے قبل نہ ایسا کردار پڑھا اور نہ ہی ایسی فلم دیکھی۔
فلم کے عالمی پریمیئر کی تقریب شاہی رنگ میں منعقد ہوئی جس میں برطانوی شہزادہ ولیم اور شہزادی کیٹ بھی شریک ہوئیں۔
آسکر ایوارڈ یافتہ ہدایت کار الیخاندرو گونزالیز اینیاریتو کی اس فلم کی تیاری میں تقریباً ایک دہائی کا عرصہ صرف ہوا۔
Tom Cruise presents #DiggerMovie at the world premiere in London: “I’ve never seen anything like it” pic.twitter.com/5x3PfRPue7
— Deadline (@DEADLINE) September 22, 2026
’ڈِگر‘ کے حوالے سے شائقین میں اس وقت سے خاصا تجسس پایا جاتا ہے جب فلم کے ٹریلر میں ٹام کروز کو ایک عجیب و غریب تیل کے ارب پتی ڈِگر راک ویل کے روپ میں دکھایا گیا۔
اداکار نے کردار کے لیے سفید مائل بالوں، چہرے کے مصنوعی اعضا اور خصوصی لباس کے ذریعے اپنی ظاہری شکل بالکل تبدیل کی ہے۔
تاہم ٹام کروز کے مطابق اس کردار کے لیے ظاہری حلیے میں تبدیلی سب سے مشکل مرحلہ نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: مشن حلوہ ریکننگ: ٹام کروز سخت گرمی کے باوجود ملتان میں کیا کر رہے ہیں؟
انہوں نے بتایا کہ فلم میں تقریباً 10 منٹ پر مشتمل ایک مکالمہ ایک ہی ٹیک میں ریکارڈ کیا گیا، جو ان کے لیے زیادہ چیلنجنگ تھا۔
فلم ’این اٹومی آف اے فال‘ کی اداکارہ سینڈرا ہولر نے ٹام کروز کی اداکاری کو قابلِ ذکر قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اداکار نے 46 برس کے دوران اداکاری میں جو کچھ سیکھا، وہ سب اس کردار میں سمٹ آیا ہے۔
فلم کی کہانی کے مطابق ڈِگر راک ویل کی ایک غلطی سے ماحولیاتی تباہی جنم لیتی ہے، جو دنیا کو ایٹمی جنگ کے دہانے تک پہنچا دیتی ہے۔
Tom Cruise presents #DiggerMovie at the world premiere in London: “I’ve never seen anything like it” pic.twitter.com/5x3PfRPue7
— Deadline (@DEADLINE) September 22, 2026
اس کے بعد وہ کرۂ ارض کو بچانے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم فلم سازوں نے کہانی کی دیگر تفصیلات کو انتہائی خفیہ رکھا ہے، جس کے باعث فلم کے پلاٹ سے متعلق مختلف قیاس آرائیاں بھی سامنے آتی رہی ہیں۔
ان میں یہ افواہ بھی شامل ہے کہ فلم ایک میوزیکل ہوسکتی ہے، تاہم ٹام کروز اس تاثر کو مسترد کرچکے ہیں۔
سینڈرا ہولر نے کہا کہ اگر ناظرین فلم کے بارے میں پہلے سے کچھ جانے بغیر اسے دیکھیں تو تجربہ زیادہ بہتر ہوگا، ان کے مطابق کہانی کو خفیہ رکھنے کا مقصد محض تجسس پیدا کرنا نہیں تھا۔
مزید پڑھیں: ٹام کروز کی بیٹی نے اپنی شناخت بدل لی، اب کس نام سے جانی جائیں گی؟
ٹام کروز نے فلم کی کہانی کو طاقت، لالچ، ذمہ داری اور غیر ذمہ داری جیسے موضوعات کی کھوج قرار دیا، جبکہ آسٹریلوی اداکارہ سوفی وائلڈ کے مطابق فلم میں فن کو جذباتی اظہار اور تخلیقی تطہیر کے ایک ذریعے کے طور پر بھی پیش کیا گیا ہے۔
ہدایت کار اینیاریتو، جن کی مشہور فلموں میں ’برڈ مین‘ اور ’دی ریویننٹ‘ شامل ہیں، نے ’ڈِگر‘ کی تیاری کے عمل کو مصوری سے تشبیہ دی۔
ان کے مطابق فلم کا ہر فریم انتہائی احتیاط سے تیار کیا گیا تاکہ ناظرین کو فلم کی دنیا میں مکمل طور پر ڈبویا جاسکے۔

اداکار ایما ڈی آرسی نے بھی فلم کی تیاری میں باریک بینی کو نمایاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ اینیاریتو کے ساتھ کام کرنا ایسے تھا جیسے کسی ایسے آرکسٹرا کا حصہ بننا جسے ایک ماہر موصل چلا رہا ہو۔
ان کے مطابق فلم ایک کامیڈی ہے اور اس میں ردھم اور موسیقیت کو خاص اہمیت حاصل ہے۔
مزید پڑھیں: ملالہ یوسف زئی کی ٹام کروز سے ملاقات
’کال می بائی یور نیم‘ کے اداکار مائیکل اسٹولبارگ نے بتایا کہ فلم کی شوٹنگ کے دوران مناظر مسلسل تبدیل ہوتے رہے، نئے مکالمے، متبادل انداز اور غیر متوقع اضافے سامنے آتے رہے۔
انہوں نے مزاحیہ انداز میں کہا کہ اتنا غیر معمولی مواد فلمایا گیا ہے کہ انہیں امید ہے کہ کسی دن اس اضافی فوٹیج پر مشتمل ڈی وی ڈی بھی جاری کی جائے گی۔
’ڈِگر‘ کی عالمی سنیما ریلیز 30 ستمبر سے شروع ہوگی، جبکہ امریکا اور برطانیہ کے سینما گھروں میں فلم 2 اکتوبر کو نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔













