تاریخ میں پہلی بار کسی دوسرے سیارے سے ریڈیو سگنل موصول، مقناطیسی میدان کا راز کھل گیا

بدھ 23 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

فلکیات کی دنیا میں ایک بڑی پیشرفت کے دوران سائنسدانوں نے پہلی بار نظام شمسی سے باہر موجود ایک سیارے سے پراسرار ریڈیو سگنل کیپچر کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو دوبارہ سیارہ قرار دیا جانا چاہیے؟ ماہرین فلکیات میں بحث پھر چھڑ گئی

ہارورڈ اسمتھسونین سینٹر فار ایسٹرو فزکس کے محققین کے مطابق یہ سگنل زمین سے تقریباً 64 نوری سال دور واقع ایک ایکسوپلینٹ بیٹا پکٹورس بی سے آیا ہے اور یہ اس کے ارورا سے پیدا ہوا تھا۔

اس سگنل کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس سیارے کا مقناطیسی میدان زمین کے مقابلے میں ایک ہزار گنا زیادہ طاقتور ہے۔

ارورا کے بارے میں بات کریں تو یہ زمین پر ایک عام مظہر ہے جو شمالی اور جنوبی روشنیوں کا سبب بنتا ہے۔ کسی دوسرے سیارے پر یہ اس وقت ہوتا ہے جب برقی چارج والے مالیکیول اس کے طاقتور مقناطیسی میدان سے ٹکرا کر تصادم کرتے ہیں۔ رابطے میں آتے ہی پرجوش مالیکیول روشنی خارج کرتے ہیں اور اپنی معمول کی حالت میں واپس آتے ہوئے چمکتے ہیں۔

مزید پڑھیے: پلوٹو سے آگے پراسرار دنیا، سورج سے 6 ارب کلومیٹر دور یہ برفانی بستی کیسی ہوگی؟

ابھی تک پیئر ریویو نہ ہونے والی اس تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگرچہ ارورا سے پیدا ہونے والے ریڈیو برسٹ نظام شمسی کے سیاروں اور کچھ الٹرا کول بونوں میں دیکھے گئے ہیں لیکن اس سے قبل کسی بھی ریڈیو سگنل کو واضح طور پر اس کے میزبان ستارے کے بجائے کسی دوسرے سیارے سے منسوب نہیں کیا گیا تھا۔

سائنسدانوں نے یہ تاریخی دریافت جنوبی افریقہ کی میرکیٹ اری کے ذریعے خلا کا جائزہ لیتے ہوئے کی۔ پوزیشنل ٹریکنگ نے تصدیق کی کہ سگنل اسی سیارے سے آ رہے تھے اور ان کا سرکلر پیٹرن ارورا سے پیدا ہونے والی ریڈیو لہروں سے مطابقت رکھتا تھا۔

سگنل کی طاقت سے پتہ چلتا ہے کہ اس سیارے کا مقناطیسی میدان ایک ہزار 250 گاؤس (ایک اعشاریہ 25 کے جی) سے زیادہ ہے جو زمین کے تقریباً صفر اعشاریہ 5 گاؤس کے مقناطیسی میدان کے مقابلے میں بے پناہ طاقت ہے۔ یہ پہلا موقع ہے جب سائنسدانوں نے کامیابی کے ساتھ کسی ایکسوپلینٹ سے ریڈیو سگنلز کو الگ کر کے اس کے مقناطیسی میدان کی طاقت کو براہ راست ناپا ہے۔

مزید پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟

اس تحقیق میں شامل نہ ہونے والے یونیورسٹی آف ایمسٹرڈیم کے ماہر فلکیات جو کیلنگھم نے کہا کہ اگر یہ نتیجہ پیئر ریویو میں ثابت ہو جاتا ہے تو یہ ایک ناقابل یقین حد تک دلچسپ پیشرفت ہے جو یہ ایک شاندار نتیجہ ہو گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp