راولپنڈی، اٹک میں انٹرنیٹ بند ہوگا؟ شزہ فاطمہ نے بتا دیا

جمعہ 25 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیرِ مملکت برائے آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ راولپنڈی اور اٹک میں انٹرنیٹ سروس بند کرنے کی درخواست تاحال پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کو موصول نہیں ہوئی اور اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ سروس کی بندش کا طریقہ کار یہ ہے کہ صوبائی حکومت کی درخواست وفاقی وزارتِ داخلہ کو موصول ہوتی ہے، جس کے بعد وزارتِ داخلہ کی ہدایت پر پی ٹی اے کارروائی کرتا ہے۔

شزہ فاطمہ کے مطابق انہوں نے پی ٹی اے سے صورتحال چیک کی ہے، تاہم ابھی تک وزارتِ داخلہ کی جانب سے ایسی کوئی درخواست یا ہدایت نہیں پہنچی۔

وزیرِ مملکت نے کہا کہ گزشتہ ڈیڑھ سے 2 سال کے دوران حکومت نے ملک گیر انٹرنیٹ بندش کے بجائے صورتحال کے مطابق انتہائی محدود اور مخصوص علاقوں تک اقدامات کی پالیسی اپنائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر کسی علاقے میں امن و امان کی صورتحال کے باعث انٹرنیٹ یا موبائل سروس محدود کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس کا جائزہ لیا جائے گا، تاہم ملک بھر میں انٹرنیٹ بند کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

شزہ فاطمہ نے کہا کہ وفاقی وزارتِ داخلہ جہاں ضرورت ہو گی، صورتحال کا جائزہ لے کر پی ٹی اے کو ہدایات دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ پالیسی کے تحت اگر کسی اقدام کی ضرورت پڑی تو اسے زیادہ سے زیادہ محدود علاقے تک رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان ڈیجیٹل تبدیلی کے سفر میں تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، شزا فاطمہ

واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے 27 ستمبر کو متوقع سیاسی سرگرمی کے پیش نظر راولپنڈی اور اٹک کے بعض علاقوں میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز ڈاؤن گریڈ یا محدود کرنے کے لیے وفاقی وزارتِ داخلہ سے درخواست کی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp