بلوچستان کے نوجوانوں کے لیے خوشخبری، 55 طلبہ کو ’فلی فنڈڈ ‘ اسکالرشپس مل گئیں

جمعہ 25 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ریکو ڈک مائننگ کمپنی (آر ڈی ایم سی) کی جانب سے ضلع چاغی کے 55 ہونہار طلبہ کو آئی بی اے سکھر کے فاؤنڈیشن پروگرام کے لیے فلی فنڈڈ اسکالرشپس دے دی گئیں، جس کی پروقار تقریب ریکوڈک پراجیکٹ سائٹ پر منعقد ہوئی۔

اسکالرشپ ایوارڈ کی اس تقریب میں کامیاب طلبہ، ان کے والدین، کمیونٹی کے معززین اور آر ڈی ایم سی کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

  

فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری بیانیے کے مطابق یہ کامیاب طلبہ آر ڈی ایم سی اسکالرشپ پروگرام کے دوسرے بیچ کا حصہ ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:دہشتگردی کی کوئی توجیہ نہیں ہو سکتی، وزیراعلیٰ بلوچستان کا 4 ہزار طلبہ سے براہِ راست مکالمہ

اس 6 ماہ پر محیط پروگرام کا بنیادی مقصد ضلع چاغی کے انٹرمیڈیٹ کے طلبہ کی تعلیمی بنیادوں کو مضبوط کرنا اور انہیں پاکستان کی صفِ اوّل کی جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے تیار کرنا ہے۔

کمیونٹی کی ترقی اور طلبہ کی ذمہ داری

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ریکو ڈِک پروجیکٹ کے جنرل مینیجر ریان مچل نے کامیاب طلبہ کا خیرمقدم کیا اور انہیں اس شاندار کامیابی پر مبارکباد دی۔

انہوں نے طلبہ کو اس سنہری موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ ‘یہ صرف آپ کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ آپ کی کمیونٹیز اور خطے کی وسیع تر ترقی اور خوشحالی میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی۔

یہ موقع آپ کے لیے ایک اہم ذمہ داری بھی ہے کہ آپ محنت اور لگن سے اپنی تعلیم جاری رکھیں اور معاشرے میں مثبت تبدیلی لائیں۔’

اس موقع پر ریان مچل نے آئی بی اے سکھر کے وائس چانسلر ڈاکٹر آصف شیخ، ان کی اکیڈمک ٹیم اور آر ڈی ایم سی کی سسٹین ایبلٹی ٹیم کی کاؤشوں کو بھی سراہا جنہوں نے مسلسل دوسری مرتبہ اس پروگرام کا کامیاب انعقاد یقینی بنایا۔

پہلے بیچ کی شاندار کامیابی

آر ڈی ایم سی کے سسٹین ایبلٹی مینیجر اسٹیفن ہرب نے معاشرتی ترقی میں تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعلیم مستحکم اور مشکلات کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے والی کمیونٹیز کی بنیادی شرط ہے۔

انہوں نے کمیونٹی اور والدین کے کردار کی تعریف کی اور فاؤنڈیشن پروگرام کے پہلے بیچ کے شاندار نتائج کا پس منظر بیان کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ 2025 کے پہلے بیچ کے 42 طلبہ اس وقت پاکستان بھر کی مختلف معروف جامعات میں داخلہ حاصل کر چکے ہیں، جو اس پروگرام کی افادیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

نوجوانوں کے مستقبل میں سرمایہ کاری

تقریب میں آر ڈی ایم سی کے ہیڈ آف ہیومن ریسورسز ہانو اسٹیدن اور کمیونٹی انویسٹمنٹ ٹیم لیڈ عیسیٰ طاہر نے بھی شرکت کی۔ ہانو اسٹیدن نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ اپنی پوری توجہ تعلیم پر مرکوز رکھیں اور اس موقع کو اپنے تابناک مستقبل کی سیڑھی بنائیں۔

مزید پڑھیں:جامعہ بلوچستان کے طلبہ کی آرٹ ایگزیبیشن، رنگوں، مجسموں اور خیالات سے سماجی و ماحولیاتی زخم بے نقاب

عیسیٰ طاہر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریکو ڈِک اسکالرشپ پروگرام دراصل چاغی کے نوجوانوں کی صلاحیتوں اور مستقبل میں ایک بڑی سرمایہ کاری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ‘آج 55 اسکالرز کی کامیابی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ہم نوجوانوں کے لیے ایسے مواقع پیدا کر رہے ہیں جن سے وہ اپنے خوابوں کی تعبیر پا سکیں۔’

تقریب کے اختتام پر تمام 55 طلبہ کو اسکالرشپ کے سرٹیفکیٹس پیش کیے گئے۔ واضح رہے کہ آر ڈی ایم سی بلوچستان میں جامع اور پائیدار ترقی کے فروغ کے لیے پرعزم ہے اور مقامی نوجوانوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنا کمپنی کی طویل المدتی حکمتِ عملی کا ایک اہم ترین ستون ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سوشل میڈیا کریئیٹرز پر ٹیکس کا نیا طریقہ متعارف: یوٹیوب کے ایک ہزار ویوز پر 195 روپے آمدن شمار ہوگی

خیبرپختونخوا میں گورنر راج یا ایمرجنسی کی ضرورت پڑی تو ضرور لگے گی: فیصل کریم کنڈی

سعودی عرب میں پاک افواج دہائیوں سے متعدد شعبوں میں موجود ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر کا سی این این کو انٹرویو

پیٹرول مہنگا، ڈیزل سستا، 8 اکتوبر کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان

سرکاری اور پرائیویٹ حج اسکیم میں بکنگ جاری، 65 ہزار سے زیادہ عازمین نے واجبات جمع کرا دیے

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان ایک پیج پر؟ حکومت کی مذاکرات کی آفر ایک ٹریپ

’پانی اور واش روم کی سہولت نہیں، مٹی پر سوتے ہیں‘، لانگ مارچ میں شامل پی ٹی آئی کارکنان رات کیسے گزارتے ہیں؟

متنی کے عوام پانی، صحت اور تعلیم کو ترس گئے، مگر خیبرپختونخوا حکومت کی ترجیحات جلسے، جلوس اور لانگ مارچ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف! رک جاؤ

سات سالہ حبیبہ کے اسکول سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر

37 گیندیں، جب آفریدی افسانہ بنا