طالبان حکومت نے افغان ٹائمز کے صحافیوں شہباز آخونزادہ اور مجتبیٰ نوری کو فضائی حملوں میں زخمی ہونے والے دہشتگردوں کا انٹرویو کرنے کے بعد گرفتار کر لیا ہے۔ دونوں صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: افغانستان: ہرات میں طالبان کی خواتین کے خلاف بہیمانہ کارروائی، متعدد زیر حراست
ان کی گرفتاری طالبان حکومت کی جانب سے افغان سرزمین سے کام کرنے والے دہشتگردوں پر رپورٹنگ کو دبانے کی کوشش کو بے نقاب کرتی ہے۔ صحافیوں کو دہشتگرد نیٹ ورکس کو دستاویزی شکل دینے کی اجازت دینے کے بجائے طالبان حکومت نے دھمکیوں، حراست اور تشدد کا سہارا لیا ہے۔
زخمی دہشتگردوں کا انٹرویو کرنے پر صحافیوں کی گرفتاری اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ طالبان حکومت کس قدر جارحانہ انداز میں دہشتگردانہ سرگرمیوں کو چھپانے اور اپنی نگرانی میں کام کرنے والے گروپوں کے بارے میں معلومات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔














