امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات میں عوامی مطالبات پر مطلوبہ ریلیف نہ ملا تو جماعت اسلامی اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ دوبارہ شروع کردے گی، لانگ مارچ ختم نہیں کیا گیا بلکہ چند روز کے لیے مؤخر کیا گیا ہے۔
لاہور کے وحدت روڈ پر جماعت اسلامی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت اپنے ہتھکنڈوں سے باز آجائے، جماعت اسلامی عوام کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھے گی۔ ان کے مطابق حکومت نے جلسے کے راستے بند کرنے اور انتظامات میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی، تاہم کارکنوں نے تمام رکاوٹوں کے باوجود جلسہ منعقد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: لانگ مارچ ختم نہیں کیا بلکہ صرف روکا گیا ہے، حافظ نعیم الرحمان
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ وزیراعظم کی درخواست پر اسلام آباد کی جانب مارچ کو وقتی طور پر روکا گیا ہے، تاہم وزیراعظم وطن واپس آکر ملاقات میں اگر پیٹرولیم لیوی کے خاتمے سمیت عوامی مطالبات پر واضح ریلیف نہ دے سکے تو مارچ دوبارہ شروع کردیا جائے گا۔ جماعت اسلامی کا بنیادی مطالبہ پیٹرولیم لیوی کا خاتمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے پیٹرولیم لیوی کے خلاف ملک گیر احتجاجی مہم جاری رکھی، 510 مقامات پر احتجاج کیا اور 42 شہروں میں ایک ماہ سے زائد عرصے تک دھرنے دیے۔ ان کا کہنا تھا کہ لیوی کے خاتمے کے مطالبے کے حق میں دستخطی مہم بھی جاری ہے اور 2 کروڑ دستخط حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ملک کی بڑی سیاسی جماعتیں عوامی مسائل پر آواز نہیں اٹھاتیں، کیونکہ ان جماعتوں میں مختلف مافیاز کا اثرورسوخ ہے۔ ان کے مطابق پٹرول، چینی، لینڈ اور آئی پی پیز سمیت مختلف شعبوں میں مافیاز عوام پر مسلط ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ جماعت اسلامی نے آئی پی پیز کے خلاف بھی تحریک چلائی اور عوامی مسائل کے حل کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اپنے اخراجات اور شاہ خرچیاں کم کرکے عوام کو ریلیف دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اب پاکستان میں جو سیاست کرے گا اسے عوام کی خدمت کی سیاست کرنا ہوگی، جو عوام کے ساتھ کھڑا نہیں ہوگا وہ باقی نہیں رہے گا۔
یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف کا حافظ نعیم الرحمان سے رابطہ، لانگ مارچ مؤخر کرنے کی درخواست
حافظ نعیم الرحمان نے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ جماعتیں پرانی ہوچکی ہیں اور فارم 47 کے سہارے کھڑی ہیں، جلد عوام کے آگے بہہ جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے ابھی اپنے پورے ایجنڈے کے نکات بھی سامنے نہیں رکھے اور فی الحال پیٹرولیم لیوی کے خاتمے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے لیے نکلتی ہے تو حکومت کے ساتھ اپوزیشن جماعتیں بھی اس کے خلاف بات کرتی ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں سے سوال ہے کہ جب عوام پر ٹیکس اور لیوی عائد کی جاتی ہے تو وہ کہاں ہوتی ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے آئی پی پیز سے متعلق کہا کہ مختلف حکومتوں کے ادوار میں یہ معاہدے کیے گئے اور بعض آئی پی پیز بجلی پیدا نہ کرنے کے باوجود ادائیگیاں وصول کرتی ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام پر بوجھ کم کیا جائے۔
انہوں نے وزرا سے کہا کہ جماعت اسلامی کے مارچ کو روکنے کے معاملے پر نمبر بنانے کی ضرورت نہیں، حکومت پیٹرولیم لیوی ختم کرے اور چاہے اس کا کریڈٹ خود لے لے۔
حافظ نعیم الرحمان نے پنجاب حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پنجاب میں تعلیم، صحت اور زراعت کے شعبوں میں مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے متعلق مختلف الزامات بھی عائد کیے اور ان سے سرکاری جہاز کے استعمال پر وضاحت طلب کی۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرول پر لیوی عوام سے بھتہ ٹیکس ہے، حکومت اپنی عیاشیاں ختم کرے، حافظ نعیم الرحمان
جماعت اسلامی کے مطابق پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاجی کیمپ اور دھرنے جاری رہیں گے، جبکہ مطالبات پر حکومت کی جانب سے مطلوبہ پیش رفت نہ ہونے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب مارچ دوبارہ شروع کیا جاسکتا ہے۔














