ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بڑی خوشخبری، بینائی بچانے والا نیا انجیکشن تیار

ہفتہ 26 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی فارماسیوٹیکل کمپنی مرک کی جانب سے ذیابیطس کے باعث آنکھوں کی بینائی متاثر ہونے کی بیماری کے لیے تیار کردہ نئے تجرباتی انجیکشن ’ریمیگرومیگ‘ نے کلینیکل ٹرائلز میں شاندار نتائج دکھائے ہیں۔

اس اہم پیش رفت سے شوگر کے ان ہزاروں مریضوں کو بینائی کے تحفظ کی امید ملی ہے جن کی آنکھوں کے پردے کو ذیابیطس کے باعث شدید نقصان پہنچتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق کمپنی نے 984 مریضوں پر اس تجرباتی دوا کا 52 ہفتوں تک کلینیکل ٹرائل کیا۔ اس دوران انجیکشن نے بینائی کو بہتر بنانے کا مطلوبہ ہدف کامیابی سے حاصل کر لیا۔

یہ بھی پڑھیں:ذیابیطس اور وزن کم کرنے والی ادویات بینائی متاثر ہونے کے پیچیدہ مرض میں مبتلا کرتی ہیں؟

ماہرین نے اس نئے علاج کو روچے کمپنی کی جانب سے پہلے سے منظور شدہ اور مستند دوا رانیبیزوماب کے مقابلے میں یکساں مؤثر اور بہترین قرار دیا ہے۔

نیا انجیکشن کام کیسے کرتا ہے؟

’ریمیگرومیگ‘ نامی یہ تجرباتی انجیکشن خلیات کی نشوونما اور مرمت کے نظام کو متحرک کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد آنکھ کے پردے (ریٹینا) میں خون کی شریانوں کی حفاظتی تہہ کو بحال کرنا اور آنکھ کے اندر رطوبت کے رساؤ کو کم کرنا ہے۔

اگر یہ دوا حتمی طور پر منظور ہو جاتی ہے تو طبی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ آنکھوں کی شریانوں کی بیماریوں کے علاج میں ایک نئے اور جدید دور کا آغاز ثابت ہو سکتی ہے۔

موجودہ طریقہ علاج

’ڈائبیٹک میکولر ایڈیما‘ ذیابیطس کی ایک عام لیکن خطرناک پیچیدگی ہے جس میں شوگر کے باعث آنکھ کے پردے کی خون کی شریانیں تباہ ہو جاتی ہیں اور رطوبت میکولا میں جمع ہونے لگتی ہے۔

میکولا آنکھ کا وہ حساس حصہ ہے جو صاف اور واضح مرکزی بینائی کے لیے ذمہ دار ہوتا ہے۔ اس حصے میں سوجن بینائی کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔

مزید پڑھیں:مصنوعی مٹھاس اور فلیورڈ مشروبات ذیابیطس اور کینسر کا خطرہ بڑھاتے ہیں، قومی اسمبلی کمیٹی کو بریفنگ

اس وقت اس بیماری کے علاج کے لیے اینٹی وی ای جی ایف انجیکشنز، لیزر تھراپی اور سٹیرائڈز کے انجیکشن یا امپلانٹس استعمال کیے جاتے ہیں۔ رانیبیزوماب بھی ایک ایسی ہی دوا ہے جو خون کی شریانوں کی غیر معمولی نشوونما اور رساؤ کو کنٹرول کرتی ہے۔

ماہرین کے تحفظات اور حفاظتی اقدامات

اگرچہ نئی دوا کے نتائج شاندار ہیں، لیکن بی ایم او کیپٹل مارکیٹس کے تجزیہ کار ایون سیگرمین نے واضح کیا ہے کہ اسے تجارتی بنیادوں پر متعارف کروانے سے قبل اس کی حفاظت اور مزید تفصیلی ڈیٹا کا جائزہ لینا بے حد ضروری ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ مریضوں نے عام طور پر اس دوا کو برداشت کیا، لیکن بعض مریضوں میں آنکھ کے پردے کی پیچیدگیوں کی وجہ سے علاج بیچ میں چھوڑنے کی شرح موجودہ دوا رانیبیزوماب کے مقابلے میں کچھ زیادہ رہی۔ تاہم، کمپنی ان نتائج کا مزید باریک بینی سے تجزیہ کر رہی ہے۔

مستقبل کے اہداف اور مزید تحقیق

مرک کمپنی اس وقت ’ریمیگرومیگ‘ کو عمر کے ساتھ آنکھوں کے پردے میں ہونے والی خرابی جیسی دیگر بیماریوں کے لیے بھی آزما رہی ہے۔

کمپنی اگلے ماہ امریکن اکیڈمی آف آپتھلمولوجی کے سالانہ اجلاس میں اس دوا کی مزید تفصیلی اور تازہ ترین تحقیقاتی رپورٹس پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp