دنیا بھر میں ہر سال ستمبر کے چوتھے اتوار کو دریاؤں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن کا مقصد دریاؤں کی ماحولیاتی، معاشی اور انسانی اہمیت اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے تحفظ کے لیے شعور پیدا کرنا ہے۔ دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں لاکھوں افراد اس دن کی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔ 2026 میں دریاؤں کا عالمی دن آج (27 ستمبر) منایا جا رہا ہے۔
دریاؤں کے تحفظ کی اس عالمی مہم کے دوران پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا معاملہ خاص اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان دریائے سندھ کے نظام کے پانی کی تقسیم کے لیے سندھ طاس معاہدہ 1960 میں طے پایا تھا۔ یہ معاہدہ بھارت، پاکستان اور عالمی بینک کے درمیان طویل مذاکرات کے بعد 19 ستمبر 1960 کو کراچی میں طے ہوا اور اسی سال میں گزشتہ یکم اپریل 1960 سے مؤثر تصور کیا گیا۔
اقوام متحدہ کے معاہداتی ریکارڈ میں بھی سندھ طاس معاہدے کو 1960 کے معاہدے کے طور پر درج کیا گیا ہے۔
معاہدے کے تحت دریائے سندھ، جہلم اور چناب سمیت 3 مغربی دریاؤں کے پانی پر پاکستان کا بنیادی حق تسلیم کیا گیا، جبکہ راوی، بیاس اور ستلج مشرقی دریاؤں کا پانی بھارت کے لیے مختص کیا گیا۔ تاہم مغربی دریاؤں پر بھی بھارت کو بعض مخصوص استعمال کی اجازت دی گئی، جن میں گھریلو استعمال، محدود زرعی استعمال اور مخصوص شرائط کے تحت پن بجلی پیدا کرنا شامل ہے۔

بھارت کی جانب سے مغربی دریاؤں پر بجلی کے منصوبے تعمیر کرنے کے لیے معاہدے میں ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق مخصوص پابندیاں بھی مقرر کی گئی ہیں۔
سندھ طاس معاہدے کی اہمیت اس لیے بھی غیر معمولی ہے کہ یہ پاکستان کے زرعی اور آبی نظام کی بنیاد سے جڑا ہوا ہے۔ عالمی بینک کے مطابق یہ معاہدہ 9 سال کے مذاکرات کے بعد طے پایا اور دونوں ملکوں کے درمیان کئی جنگوں اور شدید سیاسی کشیدگی کے باوجود کئی دہائیوں تک برقرار رہا۔
معاہدے کے تحت دونوں ملکوں کے درمیان پانی سے متعلق معاملات پر رابطے اور معلومات کے تبادلے کے لیے مستقل سندھ طاس کمیشن قائم کیا گیا۔
تاہم گزشتہ برسوں میں بھارت کے بعض آبی منصوبوں کے ڈیزائن اور پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پر پاکستان نے مسلسل اعتراضات اٹھائے۔ خاص طور پر دریائے جہلم کے معاون دریا کشن گنگا اور دریائے چناب پر ’رتلے‘ پن بجلی منصوبے کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان تنازع پیدا ہوا۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ ان منصوبوں کے بعض ڈیزائن اور آپریشنل طریقہ کار سندھ طاس معاہدے کی شرائط سے مطابقت نہیں رکھتے۔
یہ بھی پڑھیں:ورلڈ ریورز ڈے: دریائے سندھ کے تحفظ سے سندھ طاس معاہدے تک چند اہم سوالات
صورتحال نے اپریل 2025 میں ایک نیا رخ اختیار کیا جب بھارت نے پہلگام حملے کے بعد سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھنے کا اعلان کیا۔ بھارت نے حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، جبکہ پاکستان نے اس میں ملوث ہونے سے انکار کیا۔ بھارت کے اس اقدام کے بعد پانی کے معاہدے کا مستقبل ایک مرتبہ پھر دونوں ملکوں کے درمیان بڑے تنازع کا موضوع بن گیا۔
اس معاملے میں ایک اہم پیشرفت گزشتہ ماہ31 اگست 2026 کو سامنے آئی، جب ہیگ میں قائم مستقل ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کی حیثیت سے متعلق فیصلہ جاری کیا۔
عدالت نے قرار دیا کہ بھارت کی جانب سے معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کی کوشش معاہدے کی قانونی حیثیت ختم نہیں کرتی اور معاہدہ بدستور نافذ العمل ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا کہ بھارت کو مغربی دریاؤں پر اپنے پن بجلی منصوبوں کے ڈیزائن اور آپریشن سے متعلق معاہدے کی ذمہ داریوں کی پابندی کرنا ہوگی۔
عدالت نے ’رتلے‘ پن بجلی منصوبے کے حوالے سے پاکستان کی درخواست پر عبوری اقدامات بھی کیے۔ فیصلے کے مطابق منصوبے کی بعض تعمیراتی سرگرمیوں پر اس وقت تک پابندی رہے گی جب تک عالمی بینک کے مقرر کردہ غیر جانب دار ماہر کی جانب سے منصوبے کی معاہدے سے مطابقت کا جائزہ نہیں لیا جاتا۔ اس ماہر کی حتمی رائے جولائی 2027 تک متوقع ہے۔
تاہم بھارت نے اس فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ نے ثالثی عدالت کے دائرۂ اختیار کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ عدالت کے فیصلے کا بھارت کے خودمختار فیصلوں اور جاری منصوبوں پر کوئی اثر نہیں ہوگا۔ یوں ایک طرف عالمی ثالثی کا فیصلہ سندھ طاس معاہدے کے برقرار رہنے کی نشاندہی کرتا ہے تو دوسری طرف بھارت اس فیصلے کی قانونی حیثیت تسلیم نہیں کرتا۔

پاکستان کی جانب سے اس معاملے کو بین الاقوامی فورمز پر بھی اٹھایا گیا ہے۔ 2026 میں اقوام متحدہ کی اقتصادی و سماجی کونسل کے اجلاس کے دوران پاکستان نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو یک طرفہ طور پر معطل کرنے کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے میں یک طرفہ معطلی کی کوئی گنجائش نہیں۔ پاکستان نے مستقل ثالثی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے معاہدے کو قانونی طور پر مؤثر قرار دیا۔
دریاؤں کا عالمی دن اس تنازع کو صرف پاکستان اور بھارت کے درمیان سیاسی اختلاف کے طور پر دیکھنے کے بجائے پانی کے عالمی بحران کو وسیع تناظر میں سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق پانی بہت سے علاقوں میں تنازع کا سبب بن سکتا ہے، لیکن یہی پانی تعاون اور امن کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ پانی اور صفائی کے نظام میں سرمایہ کاری بڑھائیں اور محفوظ، پائیدار اور موسمیاتی تبدیلیوں کے مقابلے کے قابل آبی نظام تشکیل دیں۔
پاکستان کے لیے دریائے سندھ کا نظام محض ایک قدرتی وسیلہ نہیں بلکہ زراعت، خوراک، بجلی اور لاکھوں لوگوں کے روزگار سے وابستہ بنیادی نظام ہے۔ ایسے میں سندھ طاس معاہدے کا احترام اور دریاؤں کے پانی کے بارے میں شفاف معلومات کا تبادلہ دونوں ملکوں کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان محکمہ موسمیات کے حالیہ اعداد و شمار کے مطابق ستمبر 2026 کے دوران دریائے سندھ، کابل، جہلم، چناب، راوی اور ستلج کے مختلف مقامات پر دریائی بہاؤ کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے، جو ملک کے آبی نظام کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:جب آبی سلامتی اسٹریٹیجک سلامتی بن جائے: سندھ طاس معاہدہ اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کو درپیش چیلنج
دریاؤں کا عالمی دن اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دریا کسی ایک ملک کی سرحد تک محدود نہیں رہتے۔ ان کے پانی، ماحول اور بہاؤ سے کروڑوں انسانوں کی زندگی وابستہ ہوتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس معاہدہ بھی اسی حقیقت کو تسلیم کرتے ہوئے وجود میں آیا تھا۔ موجودہ تنازع میں عالمی اداروں اور قانونی فورمز کے کردار کے باوجود پائیدار حل اسی صورت ممکن ہے جب پانی کو سیاسی کشمکش کے بجائے مشترکہ انسانی اور ماحولیاتی ضرورت کے طور پر دیکھا جائے اور طے شدہ معاہدوں کی پاسداری کو ترجیح دی جائے۔














