دریا صرف پانی کی گزرگاہیں نہیں بلکہ تہذیبوں، معیشتوں، زراعت اور انسانی زندگی کی بنیاد ہیں۔ دنیا کے مختلف خطوں میں کروڑوں افراد اپنی خوراک، روزگار اور روزمرہ ضروریات کے لیے دریاؤں پر انحصار کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کوئی دریا ایک سے زیادہ ممالک سے ہو کر گزرتا ہے تو اس کا ذمہ دارانہ انتظام صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ علاقائی امن، غذائی تحفظ اور انسانی سلامتی سے بھی جڑ جاتا ہے۔
دریاؤں کے عالمی دن کے موقع پر دنیا کو یہ حقیقت یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ مشترکہ دریاؤں کا پانی کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں بلکہ ایسے قدرتی نظام کا حصہ ہے جس کے اثرات سرحدوں سے آگے تک جاتے ہیں۔ بالائی اور زیریں علاقوں میں واقع ممالک کے درمیان پانی کے بہاؤ، موسمی تبدیلیوں اور دریائی صورتحال سے متعلق معلومات کا بروقت تبادلہ اس پورے نظام کے محفوظ اور مؤثر انتظام کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
پاکستان اور بھارت کے درمیان سندھ طاس کا نظام اس حقیقت کی ایک اہم مثال ہے۔ اپریل 2025 میں بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کے اعلان اور اس کے بعد آبی تعاون اور دریاؤں سے متعلق معلومات کے تبادلے میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے مشترکہ آبی وسائل کے مستقبل پر اہم سوالات اٹھائے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے سندھ طاس معاہدہ: بھارت کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں؟
پاکستان جیسے زیریں ملک کے لیے دریاؤں کے بہاؤ سے متعلق معلومات محض اعداد و شمار نہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر فصلوں کی منصوبہ بندی، آبپاشی کے نظام الاوقات، آبی ذخائر کے انتظام، سیلاب کی پیش گوئی اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ اگر دریاؤں کے بہاؤ، پانی کے اخراج یا بالائی علاقوں میں پیدا ہونے والی غیر معمولی صورتحال سے متعلق معلومات بروقت دستیاب نہ ہوں تو زیریں علاقوں میں رہنے والی آبادی کے لیے غیر یقینی اور خطرات بڑھ سکتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی نے اس مسئلے کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ دنیا بھر میں دریائی نظام سیلاب، خشک سالی، پانی کی قلت اور موسموں میں غیر معمولی تبدیلیوں کے باعث دباؤ کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں سرحد پار دریاؤں کے بارے میں معلومات کا تبادلہ اور مشترکہ منصوبہ بندی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے ممالک کو باہمی تعاون بڑھانے کی ضرورت ہے، نہ کہ ایسے اقدامات کرنے کی جو پہلے سے موجود غیر یقینی کو مزید بڑھا دیں۔
پانی کا معاملہ براہ راست غذائی تحفظ سے بھی جڑا ہوا ہے۔ دریاؤں کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتحال کسانوں کی فصلوں کی منصوبہ بندی، آبپاشی اور پیداوار کو متاثر کر سکتی ہے۔ بالخصوص ان ممالک میں جہاں بڑی آبادی کا روزگار زراعت سے وابستہ ہو، پانی کی دستیابی میں معمولی تبدیلی بھی وسیع معاشی اور سماجی اثرات پیدا کر سکتی ہے۔
دنیا میں بڑی تعداد میں ایسے دریا اور آبی ذخائر موجود ہیں جو ایک سے زیادہ ممالک کے درمیان مشترک ہیں۔ اسی لیے سندھ طاس کا معاملہ صرف پاکستان اور بھارت کے باہمی تعلقات تک محدود نہیں۔ اس سے ایک بڑا عالمی سوال وابستہ ہے۔ اگر مشترکہ دریاؤں کے انتظام کے لیے طے شدہ معاہدے اور ادارہ جاتی طریقہ کار سیاسی تنازعات کے زیرِ اثر کمزور پڑ جائیں تو دنیا کے دوسرے سرحد پار آبی نظاموں کا مستقبل کیا ہوگا؟
یہ بھی پڑھیے بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا عالمی آبی نظم کے لیے خطرناک مثال
بین الاقوامی آبی نظم و نسق کی بنیاد اسی تصور پر قائم ہے کہ مشترکہ آبی وسائل کا استعمال تعاون، شفافیت، معلومات کے تبادلے اور طے شدہ قانونی اصولوں کے تحت ہونا چاہیے۔ اختلافات اپنی جگہ موجود رہ سکتے ہیں، لیکن پانی جیسے بنیادی قدرتی وسیلے کے بارے میں تعاون کے راستے کھلے رہنا ضروری ہیں۔
سندھ طاس معاہدہ بھی اسی سوچ کی ایک مثال رہا ہے۔ کئی دہائیوں تک سیاسی کشیدگی کے باوجود اس معاہدے کے تحت تکنیکی اور ادارہ جاتی سطح پر رابطے جاری رہے۔ اس تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ پانی کے معاملات کو سیاسی اختلافات سے الگ رکھنے کے لیے مضبوط قانونی اور ادارہ جاتی نظام کس قدر اہم ہوتے ہیں۔
دریاؤں کے عالمی دن کا اصل پیغام بھی یہی ہے کہ دریا تقسیم کی لکیر نہیں بلکہ مشترکہ ذمہ داری ہیں۔ پانی کو سیاسی دباؤ کا ذریعہ بنانے کے بجائے اسے تعاون، امن اور مشترکہ خوش حالی کا وسیلہ بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
پاکستان اور بھارت سمیت دنیا کے تمام ممالک کے لیے ضروری ہے کہ مشترکہ دریاؤں سے متعلق معلومات کے تبادلے، شفافیت اور باہمی تعاون کے راستے کھلے رکھیں اور تنازعات کو طے شدہ قانونی و ادارہ جاتی ذرائع سے حل کریں۔ کیونکہ دریا سرحدوں کو نہیں پہچانتے؛ ان کا پانی ایک خطے سے دوسرے خطے تک سفر کرتا ہے اور اس کے اثرات بھی اسی طرح سرحدوں سے آگے جاتے ہیں۔
دریاؤں کے عالمی دن پر دنیا کے لیے سب سے اہم سبق یہی ہے کہ پانی کو ہتھیار نہیں، زندگی کا ذریعہ سمجھا جائے۔ مشترکہ دریاؤں کا تحفظ صرف ماحول کے تحفظ کا معاملہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کی خوراک، معیشت، سلامتی اور امن کا سوال بھی ہے۔














