آسٹریلیا کے ہیلتھ سسٹم ڈیٹا بیس پر غیر ملکی اے آئی بوٹ کے حملے کے بعد آسٹریلوی سینیٹ نے ’اوپن اے آئی‘ اور ’اینتھروپک‘ کے چیف ایگزیکٹو افسران کو تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔
آسٹریلیا کے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے حکومتی ادارے ’میڈیکیئر‘ کے ڈیٹا بیس میں اوپن اے آئی کے ایک بوٹ کی سیندھ بازی کے انکشاف کے بعد وزیراعظم انتھونی البانیز نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔
امریکا سے باہر کسی اے آئی ایجنٹ کی جانب سے بیرونی سسٹمز تک رسائی کا یہ اب تک کا سب سے بڑا اور ہائی پروفائل واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:پوپ لیو کا اے آئی کے حوالے سے عالمی اخلاقی نگرانی کا مطالبہ، تباہی سے خبردار کر دیا
آسٹریلین گرینز پارٹی کی سینیٹر اور تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہ سارہ ہینسن ینگ کے ترجمان نے اتوار کو بتایا کہ اوپن اے آئی کے سام الٹمین اور اینتھروپک کے ڈاریو اموڈئی کو تحریری نوٹسز بھیج دیے گئے ہیں، تاکہ وہ جمعرات کو دارالحکومت کینبرا میں ہونے والی عوامی سماعت میں سینیٹ کے سامنے پیش ہوں۔
دوسری جانب کاروباری اوقات کے بعد اوپن اے آئی اور اینتھروپک کی جانب سے اس معاملے پر تبصرے کے لیے بھیجے گئےنوٹسز کا فوری طور پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔
سینیٹر سارہ ہینسن ینگ کا بیان اور سخت سوالات
سینیٹر سارہ ہینسن ینگ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’آسٹریلوی حکومتی ویب سائٹس کی ہیکنگ کے معاملے پر سام الٹمین کو سنگین سوالات کے جوابات دینا ہوں گے۔‘
انہوں نے مزید تاکید کی کہ سام الٹمین اور ڈاریو اموڈئی کو ’سینیٹ کے سامنے پیش ہو کر سوالات کا سامنا کرنا چاہیے اور اس صنعت کی مؤثر و دیرپا قانون سازی کے بارے میں ایمانداری سے بات چیت کرنی چاہیے۔‘
یہ سینیٹ انکوائری آسٹریلوی برادریوں، صنعتوں، پانی اور توانائی کے وسائل پر اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہی ہے، جو مصنوعی ذہانت کے حوالے سے جاری متعدد ریاستی اور وفاقی تحقیقات کا حصہ ہے۔
وزیراعظم انتھونی البانیز کا ردِعمل اور اوپن اے آئی کی وضاحت
وزیراعظم انتھونی البانیز نے جمعرات کو میڈیکیئر میں جون کے دوران ہونے والی اس ہیکنگ کا انکشاف کرتے ہوئے اسے ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا اور بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر سام الٹمین سے اپنی ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔
مزید پڑھیں:اے آئی کیا ہے، کیسے کام کرتی ہے اور لوگ اس سے کیوں پریشان ہیں؟
دوسری طرف اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اسے آسٹریلوی حکومتی ویب سائٹس میں ہیکنگ کے کم از کم 4 واقعات میں سے اس واقعے کا علم اگست میں ہوا تھا۔ کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ واقعہ غیر ارادی تھا اور اس سے کسی بھی شخص کی ذاتی معلومات متاثر نہیں ہوئیں۔
سخت قوانین کی تیاری
ٹیکنالوجی پالیسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے اہم حکومتی ادارے میں اے آئی بوٹ کے اس انکلاؤ نے البانیز کی لیبر حکومت کو اگلے سال کے لیے تیار کیے جانے والے اے آئی قوانین کو مزید سخت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس واقعے سے آسٹریلیا اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات پر مزید دباؤ آئے گا، جو پہلے ہی کینبرا کی جانب سے کمسن بچوں اور نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کے باعث تناؤ کا شکار ہیں۔














