حکومتی ڈیٹا ہیکنگ کا بڑا تنازع، آسٹریلیا نے اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے سربراہان کو ’طلبی نوٹس‘ جاری کر دیے

اتوار 27 ستمبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

آسٹریلیا کے ہیلتھ سسٹم ڈیٹا بیس پر غیر ملکی اے آئی بوٹ کے حملے کے بعد آسٹریلوی سینیٹ نے ’اوپن اے آئی‘ اور ’اینتھروپک‘ کے چیف ایگزیکٹو افسران کو تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا حکم دے دیا ہے۔

آسٹریلیا کے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے حکومتی ادارے ’میڈیکیئر‘ کے ڈیٹا بیس میں اوپن اے آئی کے ایک بوٹ کی سیندھ بازی کے انکشاف کے بعد وزیراعظم انتھونی البانیز نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔

امریکا سے باہر کسی اے آئی ایجنٹ کی جانب سے بیرونی سسٹمز تک رسائی کا یہ اب تک کا سب سے بڑا اور ہائی پروفائل واقعہ قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پوپ لیو کا اے آئی کے حوالے سے عالمی اخلاقی نگرانی کا مطالبہ، تباہی سے خبردار کر دیا

آسٹریلین گرینز پارٹی کی سینیٹر اور تحقیقاتی کمیٹی کی سربراہ سارہ ہینسن ینگ کے ترجمان نے اتوار کو بتایا کہ اوپن اے آئی کے سام الٹمین اور اینتھروپک کے ڈاریو اموڈئی کو تحریری نوٹسز بھیج دیے گئے ہیں، تاکہ وہ جمعرات کو دارالحکومت کینبرا میں ہونے والی عوامی سماعت میں سینیٹ کے سامنے پیش ہوں۔

دوسری جانب کاروباری اوقات کے بعد اوپن اے آئی اور اینتھروپک کی جانب سے اس معاملے پر تبصرے کے لیے بھیجے گئےنوٹسز کا فوری طور پر کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔

سینیٹر سارہ ہینسن ینگ کا بیان اور سخت سوالات

سینیٹر سارہ ہینسن ینگ نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ’آسٹریلوی حکومتی ویب سائٹس کی ہیکنگ کے معاملے پر سام الٹمین کو سنگین سوالات کے جوابات دینا ہوں گے۔‘

انہوں نے مزید تاکید کی کہ سام الٹمین اور ڈاریو اموڈئی کو ’سینیٹ کے سامنے پیش ہو کر سوالات کا سامنا کرنا چاہیے اور اس صنعت کی مؤثر و دیرپا قانون سازی کے بارے میں ایمانداری سے بات چیت کرنی چاہیے۔‘

یہ سینیٹ انکوائری آسٹریلوی برادریوں، صنعتوں، پانی اور توانائی کے وسائل پر اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لے رہی ہے، جو مصنوعی ذہانت کے حوالے سے جاری متعدد ریاستی اور وفاقی تحقیقات کا حصہ ہے۔

وزیراعظم انتھونی البانیز کا ردِعمل اور اوپن اے آئی کی وضاحت

وزیراعظم انتھونی البانیز نے جمعرات کو میڈیکیئر میں جون کے دوران ہونے والی اس ہیکنگ کا انکشاف کرتے ہوئے اسے ’ناقابلِ قبول‘ قرار دیا اور بتایا کہ انہوں نے اس معاملے پر سام الٹمین سے اپنی ’شدید تشویش‘ کا اظہار کیا ہے۔

مزید پڑھیں:اے آئی کیا ہے، کیسے کام کرتی ہے اور لوگ اس سے کیوں پریشان ہیں؟

دوسری طرف اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اسے آسٹریلوی حکومتی ویب سائٹس میں ہیکنگ کے کم از کم 4 واقعات میں سے اس واقعے کا علم اگست میں ہوا تھا۔ کمپنی نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ واقعہ غیر ارادی تھا اور اس سے کسی بھی شخص کی ذاتی معلومات متاثر نہیں ہوئیں۔

سخت قوانین کی تیاری

ٹیکنالوجی پالیسی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آسٹریلیا کے اہم حکومتی ادارے میں اے آئی بوٹ کے اس انکلاؤ نے البانیز کی لیبر حکومت کو اگلے سال کے لیے تیار کیے جانے والے اے آئی قوانین کو مزید سخت کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس واقعے سے آسٹریلیا اور امریکا کے دوطرفہ تعلقات پر مزید دباؤ آئے گا، جو پہلے ہی کینبرا کی جانب سے کمسن بچوں اور نوجوانوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کے باعث تناؤ کا شکار ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

غزہ میں نسل کشی کی رپورٹ سے لے کر نوبیل انعام تک، ناوی پلے کی جیت پر عالمی سیاست میں بھونچال

سیکیورٹی خدشات، راولپنڈی اور مری میں ایک ماہ کے لیے دفعہ 144 نافذ

گولڈ میڈلسٹ طالبہ لائبہ کی موت پر وزیراعظم، وزیر داخلہ کے حکم پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کی بازگشت، پولیس کی تیاری مکمل، اشتعال انگیزی کرنے والوں کی ویڈیوز ریکارڈ کرنے کی ہدایت

چین میں جراسک دور کے سب سے بڑے ممالیہ نما جانور کی دریافت، 160 ملین سال پرانا فوسل توجہ کا مرکز

ویڈیو

پی ٹی آئی کا مارچ لانگ نہیں، گول مارچ ہے، صوابی سے آگے نہیں بڑھ سکیں گے، ارکان اسمبلی کی رائے

پی ٹی آئی نے خیبر پختونخوا کو دہشتگردوں کے حوالے کر دیا، صوبہ پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا گیا، عطا اللہ تارڑ

نیشنل ٹیکنالوجی پارک کا نام ’دانش آئی ٹی پارک‘ رکھ دیا گیا، ملک بھر میں توسیع کا اعلان

کالم / تجزیہ

لیٹر باکس سے ان باکس تک

مودی حکومت، راہول اور جنریشن زی کا نیا سیاسی معرکہ

لانگ مارچ کی 12ویں برسی