خوف سے عمل تک : سیلاب کے بعد سیماب کی موسمیاتی جدوجہد

منگل 29 ستمبر 2026
author image

وقار احمد (سوات)

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سیلاب کا پانی تو اتر گیا، لیکن اس کی تصاویر سیماب قاضی کے ذہن میں رہ گئیں۔ اسے یاد ہے کہ پانی کس طرح آبادیوں میں داخل ہوا، خاندان بنیادی ضروریات کے حصول کیلئے کس طرح مشکلات کا شکار ہوئے اور روزمرہ زندگی اچانک کس طرح درہم برہم ہوگئی۔ سیماب کے لئے یہ تباہی ایک ایسا سوال چھوڑ گئی جو ہنگامی صورتحال ختم ہونے کے بعد بھی اس کے ذہن میں رہا، اگلی آفت آنے سے پہلے ہم اپنی کمیونیٹیز کے لئے کیا کرسکتے ہیں ؟

سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے تعلق رکھنے والی سیماب نے سیلاب کے دوران دضاکارانہ طور پر کام کیا۔ اس نے متاثرہ خاندانوں تک خوراک، پینے کا پانی، کپڑے، جوٹے گھریلوں سامان، بنیادی طبی امداد پہنچانے میں مدد کی۔ لیکن اس تجربے نے اسے یہ بھی دکھایا کہ آفات سب لوگوں کو ایک ہی طرح متاثر نہیں کرتیں۔

خواتین اور لڑکیوں کے لئے ہنگامی حالات میں مشکلات کی ایک الگ دنیا جنم لیتی ہے، صاف پانی اور صفائی ستھرائی تک رسائی، صحت کی سہولیات، رازداری، محفوظ نقل وحرکت اور دیگر بنیادی ضروریات کا بحران۔ جب ایک پوری کموینٹی بقاء کی جدوجہد میں مصروف ہو تو خواتین اور لڑکیوں کی مخصوص ضروریات اکثر شور میں دب جاتی ہیں۔

سیلاب اترنے کے بعد سیماب کے ذہن میں ایک سوال رہ گیا : اگلی آفت آنے سے پہلے ہم کیا کرسکتے ہیں ؟ یہی سوال رفتہ رفتہ اس کے لیے راستہ بن گیا۔ سوات سے تعلق رکھنے والی یہ نوجوان خاتون اب صرف سیلاب کی متاثرہ یا امدادی سرگرمیوں میں شریک رضاکار نہیں، وہ درخت لگاتی ہیں ، دریائے سوات کے کنارے کچرا اٹھاتی ہے، لوگوں میں ماحولیاتی شعور اجاگر کرتی ہے اور خواتین و مردوں کو مقامی سطح پر ماحولیاتی سرگرمیوں میں شریک کرنے کی کوشش کرتی ہے۔

سیماب کے لئے یہ سب محض سرگرمیاں نہیں، بلکہ اس خوف کا جواب ہیں جو اس نے سیلاب کے دنوں میں اپنے اندر محسوس کیا تھا۔ وہ کہتی ہے  “سیلاب اور اپنی انکھوں سے موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو دیکھ کر مجھے خوف محسوس ہوتا ہے، اس لئے میں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا چاہتی ہوں۔ ہمارا ماحول الودہ ہوچکا ہے اور آبادی بھی روز بڑھ جاتی ہے، جبکہ دریائے سوات بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ ایک وقت تھا جب لوگ اس کا پانی پیتے تھے، لیکن آج دریائے سوات کا پانی بھی صاف نہیں رہا”۔

سیماب کی کہانی ایک ایسے سفر کی کہانی ہے جس میں خوف خاموشی نہیں بنا بلکہ عمل کی وجہ بن گیا۔

امداد سے اگے، خطرات کو کم کرنے کی طرف

سیماب کی ماحولیاتی سرگرمیوں کی ابتداء کسی بڑے منصوبے سے نہیں ہوئی، اس کا آغاز سیلاب کے دنوں سے ہوا جب وہ متاثرہ خاندانوں کے درمیان موجود تھی۔ اس نے بنیادی ضروریات کی فراہمی میں مدد کی اور خاص طور پر خواتین اور بچوں کی مشکلات کو قریب سے دیکھا۔ اس دوران اسے احساس ہوا کہ کسی آفت کے بعد امداد پہنچانا ضروری ہے، لیکن صرف امداد سے ان خطرات کا خاتمہ نہیں ہوتا جو لوگوں کو بار بار آفات کے سامنے لے آتے ہیں۔

سیماب کہتی ہے “اگر قدرتی نالے اور آبی گزرگاہیں بند رہیں، دریا الودہ ہوتے جائیں، غیر محفوظ تعمیرات بڑھتی رہیں اور ماحول مسلسل دباو کا شکار رہے تو امدادی سرگرمیاں ختم ہونے کے بعد بھی خطرہ باقی رہتا ہے”۔

یہ احساس سیماب کو آفت کے بعد ردعمل سے آفت سے پہلے خطرات کو کم کرنے کی طرف کے گیا۔ اس نے شجرکاری میں حصہ لینا شروع کیا، دریائے سوات کے کناروں پر صفائی مہمات میں شریک ہوئی۔ لوگوں کو آگہی دی اور خاص طور پر خواتین اور نوجوانوں کو یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ ماحول کا تحفظ صرف کسی ادارے یا حکومت کی ذمہ داری نہیں۔ کمیونٹی خود بھی اپنی حفاظت کا حصہ بن سکتی ہے۔

سوات ، خوبصورتی کے درمیان بڑھتے ہوئے موسمیاتی اور ماحولیاتی خطرات

سوات کی پہچان اس کے پہاڑ، دریا، جنگلات اور سرسبز وادیاں ہیں، مگر اسی خوبصورتی کے درمیان ماحولیاتی اور موسمیاتی دباو بھی بڑھ رہا ہے۔ دریائے سوات وادی کی زراعت، سیاحت، ماہی گیری اور مقامی روزگار کے لئے زندگی کی ایک اہم لکیر ہے، لیکن گزشتہ برسوں میں شدید بارشوں اور سیلابوں نے اس وادی کی کئی حصوں کو بار بار متاثر کیا ہے۔ 2010، 2022 اور 2025 کے تباہ کن سیلاب اور کلاوڈبرسٹ نے گھروں، سڑکوں، پلوں، زرعی زمینوں اور سیاحتی انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایا۔

پہاڑی جغرافیہ کے باعث شدید بارشوں کے دوران سوات کی کئی آبادیاں اچانک آنے والے سیلابی ریلوں کے خطرے سے دوچار ہو جاتی ہیں۔ بدلتے ہوئے موسمی رجحانات، دریاوں اور ندی نالوں کے قریب تعمیرات اور ماحولیاتی دباو اس خطرے کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔

مینگورہ میں تیزی سے پھیلتی شہری آبادی، ناکافی نکاسی آب اور قدرتی آبی گزرگاہوں پر تجاوزات نے شہری سیلاب کے مسائل کو بھی بڑھایا ہے۔

واٹر اینڈ سینیٹیشن سروسز کمپنی سوات کے مطابق بڑے شہری سیلاب سے متاثرہ رقبہ 2022 میں 140 ایکڑ سے بڑھ 2025 میں 261 ایکڑ ہوگیا۔ نکاسی آب کے مسائل چھوٹے پیمانے پر سیلابی صورتحال پیدا ہوتی رہتی ہے۔

سیماب کے مطابق یہ صرف اعداد وشمار نہیں، یہ اس وادی کی بدلتی ہوئی تصویر ہے جس میں وہ رہتی ہے۔

ایک درخت سے شروع ہونے والی تبدیلی

سیماب کا کام بظاہر چھوٹا دکھائی دیتا ہے ایک درخت لگانا، دریا کے کنارے سے پلاسٹک کا ایک ٹکڑا اٹھانا، لوگوں سے ماحول کے بارے میں بات کرنا اگہی دینا، لیکن اس کے نزدیک یہی چھوٹے قدم مسائل کے مقابلے میں کمیونٹی کی پہلی صف بن سکتے ہیں۔

سیماب سوات کے دیگر علاقوں میں شجرکاری کی سرگرمیوں کو حصہ لیتی ہے، دریائے سوات کے کناروں پر صفائی مہمات میں شریک ہو کر پلاسٹک اور دیگر کچرا جمع کرتی ہے اس کا ماننا ہے کہ ماحول کو محفوظ رکھنے کے لئے صرف سرکاری اداروں کا انتظار نہیں کیا جاسکتا۔

جو لوگ کسی جگہ رہتے ہیں اس جگہ کی حفاظت میں ان کا پانا کردار ہونا چاہئے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خواتین کی شرکت پر خاص زور دیتی ہے۔ اس کے نزدیک خواتین کو صرف بحران سے متاثر ہونے والی آبادی کے طور پر دیکھنا کافی نہیں۔ وہ بحران کا جواب دینے والی قوت بھی بن سکتی ہیں۔

گھر، پانی، صفائی، صحت اور بچوں کی ضروریات سے متعلق ان کا کام کمیونٹی کی تیاری اور لچک پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ سیماب ایک وقت میں آفت کے اثرات کا سامنا کرنے والوں کے ساتھ کھڑی تھی آج وہ ان خطرات کو کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے جو اگلی آفت سے پہلے موجود ہیں۔

خوف جو خاموشی نہیں بنا

سیما ب کے لیے ماحول کا تحفظ کسی بڑے دعوے کا نام نہیں، بلکہ اس خوف کا عملی جواب ہے جو اس نے سیلاب کے دنوں میں محسوس کیا۔

“سیلاب اور اپنی آنکھوں سے موسمیاتی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کو دیکھ کر مجھے خوف محسوس ہوتا ہے”، وہ کہتی ہے۔ “اسی لیے میں لوگوں میں آگاہی پیدا کرنا چاہتی ہوں۔ ہمارا ماحول آلودہ ہوگیا ہے اور دریائے سوات بھی پہلے جیسا نہیں رہا۔ ایک وقت تھا جب لوگ اس کا پانی پیتے تھے، لیکن آج دریا کا پانی صاف نہیں رہا۔”

اسی احساس نے اسے شجرکاری، دریائی صفائی اور ماحولیاتی آگاہی کی سرگرمیوں سے جوڑ دیا۔

“ہم نے پودے اگائے۔ اس سے ہمارے مستقبل کے اچھے اثرات ہوں گے۔ ہم نے لوگوں کو آگاہی سیشن بھی دیے، لوگ بھی خوش اور مطمئن ہوگئے۔ سیما ب جانتی ہے کہ ایک فرد سوات کے تمام ماحولیاتی مسائل حل نہیں کرسکتا، لیکن اس کا ماننا ہے کہ کمیونٹی کی سطح پر اٹھایا گیا ہر قدم اہم ہے۔ اس کا سفر سیلاب کے بعد امداد سے شروع ہوا تھا؛ آج وہ اپنی کمیونٹی کو اگلے خطرے کے لیے زیادہ باشعور اور تیار بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پانی اتر گیا، مگر سیما ب نے اپنے خوف کو خاموشی نہیں بننے دیا۔”

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp